استشراق کی روایت:تاریخی پس منظر اور ارتقاء
مغرب میں استشراق (Orientalism )یعنی عالم مشرق پر نقد و نظر کی روایت صدیوں قدیم ہے ۔ اس کی اساس محمدؐ رسول اللہ کے گویا معاصر ساتویں؍آٹھویں صدی کے عیسائی عالم دین یو حنا د مشقی(John of Damascus )کے ان مراسلوں پر ہے جو اس نے یوروپ کے ارباب کلیساکو روانہ کئے(۱)۔ ہر چند کہ یوحنا اموی دربار سے بھی وابستہ تھے اور مسلمانوں بشمول صحابہ کرام ؓسے ان کا براہ راست ربط ضبط تھا ،اپنے مراسلات کے ذریعے انھوں نے اہل مغرب کے دل و دماغ پر اسلام؍ قرآن مجید؍ سیرت طیبہ سے متعلق یہ نقوش مرتسم کئے:اسلام عیسائیت کی مضحکہ خیز نقل ہے ، قرآن مجید با ئبل کا ناقص چربہ اور سرقہ ہے ، محمدؐرسول اللہ ایک طالع آزما شخص تھے جنھوں نے عربوں میں اپنے تشخص کا شعور بیدار کیا، ان کو قتل اور غارت گری کے ذریعے ارد گرد کے علاقوں کو تا راج کرنے، مال اور دولت لوٹنے ، ان علاقوں پر اپنا قبضہ جمانے اور ان کے باشندوں کو بزور شمشیر اسلام قبول کرنے کے لئے سرگرم کیا اور اس طرح وہ سیاسی قیادت پر قابض ہو گئے (۲)۔ ۶۳۷ء میں عیسائیوں کے مقدس ترین مقام بیت المقدس ،یروشلم پر مسلمانوں کی فتح کے بعداہل مغرب کا اسلام کے خلاف بغض و عناد صلیبی جنگوں (۱۰۹۵ءتا۱۲۹۱ء) کی شکل میں عملی طور پرظاہر ہوا۔اسلام اور اس کے تمام متعلقات کے خلاف انتہائی تنفر،تمسخر اور تکذیب کے آئینہ دار بالخصوص یہ ہیں: مغربی عوامی گیتوں (Chanson de Geste )، رزمیہ نظموں اور ڈراموں ، اطالوی شاعر دانتے( Dante)کی رزمیہ نظم(۱۳۲۱ء)The Divine Comedy،پیٹر دی وینیریبل(Peter the Venerable)(م:۱۱۵۶ء) کے اسلام سے متعلق مجموعۂ تصانیفCorpus Toletanum،عیسائی عالم الہیاتThomas Aquinas ٹامس ایکوانس(م:۱۲۷۴ء)کی کلامی اور فلسفیانہ تحریروں،عیسائی پروٹسنٹ فرقے کے بانی مارٹن لوتھر(Martin Luther ۱۴۸۳ء-۱۵۴۶ء)کی ہفوات،الحاد پرست فلسفی اور ڈرامہ نگار ولٹیئر(Voltaire ۱۶۹۴ء -۱۷۷۸ء)کے قابل نفریں ڈرامے Mahomet)۱۷۳۶ء)،یہودی عالم دین ابراہام گائیگرAbraham Geiger (۱۸۱۰ء-۱۸۷۴ء)کی رجحان ساز تصنیف Mohammed aus dem Judenthume Aufgenommen (محمد نے یہودیت سے کیا کیا مستعار لیا؟) اور اسی کا پرتو کلیساسے وابستہ صاحب قلم رچرڈ بیل(۱۸۷۶ء-۱۹۵۲ء)Richard Bellکی کتابThe Origin of Islam in its Christian Environment(عیسائی روایات کا پروردہ مذہب اسلام)(۱۹۲۵ء)،جر من محقق تھیوڈرنولد یکی۱۸۳۶ء-۱۹۳۰ء(Theodore Noldeke)کی جمع اور تدوین قرآن مجیدپراعتراضات سےپُر Geschichte des Qurans ) ۱۹۵۹ء)،برطانوی ماہر لسانیات آرتھر جیفرے۱۸۵۹ء-۱۸۹۲ءArthur Jeffrey))کی تحقیق انیقThe Foreign Vocabulary of the Quran(قرآن کا ذخیرۂ الفاظ غیر زبانوں پر مشتمل ہے۔۱۹۳۸ء)،۱۵۴۳ء سے اب تک لاطینی ،اطالوی، المانوی ،فرانسیسی، انگریزی،ولندیزی،روسی اور دیگر مغربی زبانوں میں تراجم قرآن مجید وغیرہ۔
قرآن مجید پر شائع مستشرقین کی صدہا تصانیف میں تواتر کے ساتھ ان اتہامات کا بظاہر علمی تحقیق کے نام پر اعادہ کیا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ:
٭قرآن مجید یہو دیت ، عیسائیت اور دیگر مذہبی روایات سے ماخوذ ہے۔
٭قرآن مجیدکا تصور آخرت زرتشتی عقیدے کا عکاس ہے۔
٭قرآن مجید محمد ؐرسول اللہ کی تصنیف ہے اور وحی الٰہی کی کوئی اصل نہیں ہے۔
٭مصحف قرآن مجید کی تاریخ جمع اور تدوین مشکوک اور غیر معتبر ہے۔متن قرآنی محفوظ نہیں ہے ۔ اس میں ترمیم ،حذف اور اضافے کثرت سے دور عثمان ؓ تک ہوتے رہے۔ مصحف کے متعدد اختلافی نسخے تھے اور متن کے بارے میں صحابہ کرام میں شدید اختلافات تھے۔ اصل متن کا معتد بہ حصہ تلف ہو چکا ہے اور غیر قرآنی الحاقی مواد شامل ہو چکا ہے۔
٭قرآن مجید کی ترتیب بے معنی اور غیر منطقی ہے ۔ اسے نزولی ؍تاریخی اعتبار سے از سر نو مرتب کرنا چاہیے ۔
٭قرآن مجید کا متن ناسخ اور منسوخ آیات کے پیش نظر غیر مصدقہ اور نا قابل اعتبار ہے ۔ اصل متن تک کسی کی رسائی نہیں ہے۔
٭متن قرآن مجید میں جا بجا صرفی اور نحوی اسقام ہیں۔
٭غیر مسلم مخبرین اور کا ہنوں نے جو بھی روایات رسول کو سنائیں، وہی متن قرآنی کی اساس ہیں ۔
٭ قرآن مجید میں معرب الفاظ کثرت سے ہیں، بالخصوص سریانی ،حبشی اور عبرانی زبانوں کے ۔
٭قرآن مجید میں مذکور حروف مقطعات چیستاں ہیں جن کے معنی آج تک طے نہیں ہو پائے ہیں۔
٭قرآن مجید جاہلی شاعری سے مستعار ہے۔
٭قرآنی عقائد اور تعلیمات ظالمانہ اور جابرانہ ہیں اور فرد کی آزادی پر قدغن عائد کرتی ہیں ۔
٭متعدد قرآنی الفاظ کی قراء ت میں اختلافات ہیں جس سے معنی اور مفہوم متاثر ہوتے ہیں۔
٭ قرآن مجید کے متن میں معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس)کی شمولیت ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ بعض صحابہ کرام کو اس باب میں شرح صدر نہیں تھا۔
یہ امر باعث مسرت ہے کہ ہر دور کے مسلم فضلاء نے ان بے بنیاد الزامات کا علمی تعاقب کیا ہے ۔ اکیسویں صدی کے اوائل میں محمد مصطفی الاعظمی (۲۰۰۳ء)اور موہر علی (۲۰۰۴ء) نے اپنی وقیع انگریزی تصانیف کے ذریعے اس فتنے کا استیصال کیا ہے(۳)۔
قرآن مجید کے بارے میں ترمیم پسند اور استشراق نو کاحالیہ مکتبۂ فکر۱۹۸۰ء (Neo- Revisionist/Orientalist)سے مطالعۂ قرآن مجید کے باب میں ایک نیا اور زیادہ شرانگیز مکتب فکر مقبول ہوا ہے ، جس کا موقف کسی عجوبے سے کم نہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ مطالعۂ قرآنیات پر کئی عشروں سے اسی مکتب فکر کا غلبہ ہے اور اس کے علمبردار مغربی جامعات کے شعبہ ہائے اسلامیات اور قرآنیات کے سربراہ ہیں ، ان کی فتنہ پرور تصانیف نصاب میں داخل ہیں اور ان ہی کے مفروضات پر درجنوں تحقیقی مقالے منصہ شہود پر آچکے ہیں ۔ اس مکتب فکر کے مزعومات ایک نئی طلسم ہوش ربا کے ابواب ہیں اور اس مصرعے کے مصداق:
ناطقہ سر بگر یباں ہے اسے کیا کہئے !
اس مکتب فکر کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ کوئی مسلم ماخذ قابل اعتماد نہیں لہذا تفسیر، حدیث ،آثار اور روایات کا سارا سرمایہ در کنار کرتے ہوئے اس دور کے غیر مسلم ماخذ، روایات، ثقافت، آثاریات، علم کتبہ شناسی ، خطاطی، علم مسکوکات وغیرہ پر انحصار کرتے ہوئے جو خاکہ سامنے آئے صرف اسے ہی اسلام تسلیم کیا جائے۔اس مکتب فکر کے سرخیل لندن یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامیات کے استاد جان و انسبرا ۱۹۲۸ء-۲۰۰۲ء(John Wansborough)ہوئے ہیں ان کی تصانیف؍فکر کے پس پشت ان کایہ عقیدہ ہے کہ مسلم مآخذمبالغہ آمیز ہیں ،وہ تاریخ نہیں بلکہ مذہبی جوش کے مظاہر ہیں جو قابل اعتناء نہیں ہیں ۔ وانسبرا کے فکری ما خذ یہ مستشرقین ہیں: اگناز گولڈ ز یہر ۱۸۵۰ء-۱۹۲۱ء(Ignaz Goldziner ) اور جوزف شاخت ۱۹۰۲ء-۱۹۶۹ء(Joseph Schacht )،جن کے مطابق کل سرمایۂ حدیث جعلی اور صدیوں بعد وضع کیا ہوا ہے۔ اسی مفروضے سے متاثر وانسبرا اور ان کے سعید شاگرداینڈریو رپن ۱۹۵۰ء-۲۰۱۶ء(Andrew Rippin ) اور دیگر مستشرقین نے اسلام اور اس کی کل تاریخ کو منہدم کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا :
٭قرآن مجید کا جغرافیائی اور ثقافتی محل وقوع حجاز نہیں بلکہ عراق اور شام کی تاریخ اور تمدن ہے۔
٭قرآن مجید کے اجزاء صرف زبانی روایت پر مشتمل تھے، ان کو آٹھویں صدی کے آخر میں مرتب کیا گیا ،گو یا وفات نبوی کے ڈیڑھ سو سال بعد۔
٭ ان زبانی روایات کے صرف ایک قلیل حصے کو قرآن مجید سے موسوم کیا گیا، بقیہ احادیث کے طور پر معروف ہیں ۔
٭ نویں صدی یعنی وفات نبوی کے دو سو ستر (۲۷۰)سال بعد جب عربی ز بان کے اصول صرف و نحو وجودمیں آئے مصحف قرآن مجید اور تفاسیر منظر عام پر آئے ۔ اس سے قبل ان کا وجود نہیں تھا ۔
٭قرآن مجید یہودیوں سے مخاصمت اور ان پر اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے تحریر کیا گیا ۔ اس کا بیشتر حصہ یہودیوں کے خلاف سب وشتم پر مبنی ہے۔
٭اسلام کا تصور جہاں، اس کے عقائد، احکام اور تعلیمات بعد کی صدیوں میں متشکل ہوئے البتہ ان کو محمدؐ رسول اللہ سے منسوب کر دیا گیا تاکہ ان کو تقدس حاصل ہو اور ان پر عمل درآمدکی تلقین کی جا سکے۔
٭ پہلی صدی ہجری ؍ساتویں صدی عیسوی کا کوئی مسلم ماخذ موجود نہیں ہے ،آج جو موجود ہیں وہ صدیوں بعد وضع کئے گئے۔
دور حاضر کے ترمیم پسند ؍مستشرقین نو کی محیر العقول آراء کا ذیل میں خلاصہ پیش ہے ۔ حیرت اور عبرت کا مقام ہے کہ ان کو مغرب میں درجہ استناد حاصل ہے اور یہ اب استشراق کی روایت کے مسلمات میں داخل ہیں۔
(۱) ڈنمارک نژاد فاضلہ پیٹریشیا کرون(Patricia Crone ) ۱۹۴۵ء-۲۰۱۵ء کی تحقیق The Making of the Islamic World (۱۹۷۷ء) کا لب لباب یہ ہے کہ قرآن مجید ساتویں صدی عیسوی؍ وفات نبوی کے بہت بعد وجود میں آیا ، مکہ کوئی مقدس مقام کبھی نہیں رہا، شمال مغرب عرب میں البتہ بعض مقدس مقامات تھے ۔بعد کی صدیوں میں جنگوں میں فتح سے جب مسلمانوں کو سیاسی اقتدار نصیب ہوا، انھوں نے اپنے طور پر اسلام کے خدو خال طے کیے،ہجرت مدینہ محض ایک افسانہ ہے۔اسلام کی مبینہ ابتدائی صدیوں میں مسلم لفظ تک مستعمل نہ تھا ۔
(۲) برطانوی مستشرق مائیکل کُک (Michel Cook) ۱۹۴۰کی اہم تصنیف ہے: Studies in the Origin of Early Islamic Culture and Tradition (۲۰۰۴)اور سیرۃ طیبہ پر ان کی تصنیف(۱۹۹۶ء)۔ ان کے مطابق مسلمانوں نے قرآن مجید کو مقدس یا شاہکار فرض کر لیا ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے ۔ اس میں غیر عرب لوازمے کی بہتات ہے اور اس پر یہودی اور عیسائی مذہبی روایات کے گہرے نقوش ثبت ہیں ۔
(۳)جرمن نژاد کرسٹوف لگزنبرگ (Christoph Luxenberg)کے قلمی نام سے معروف اس مصنف کی کتاب )The Syro-Aramaic Reading of the Koran (۲۰۰۷ءمیں یہ شوشہ چھوڑا گیا ہے کہ قرآن مجید درحقیقت سریانی اور آرامائی زبان میں تحریر ساتویں صدی کے ایک عیسائی صحیفے کا چربہ ہے جب کہ قرآن مجید کی خود اپنی کوئی اصلیت نہیں ہے ۔ ساتویں صدی عیسوی میں عربی زبان کا وجود ہی نہیں تھا صرف سریانی زبان پورے عرب میں رائج تھی ۔
(۴)یہودی؍اسرائیلی ماہر آثاریات یہودا نیوو(Yehuda Nevo) ۱۹۳۲ءنے آثاریات کے حوالے سے یہ صریحا باطل دعوی کیا ہے کہ نویں صدی عیسوی سے قبل اسلام ؍قرآن مجید اور مسلمانوں سے متعلق کوئی آثار یاتی ثبوت(کتبے، سکے ، عمارات وغیرہ)نہیں ملتے لہذا پہلی اور دوسری صدی ہجری بمطابق ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں اسلام ؍قرآن مجید؍سیرۃ طیبہ؍مدینہ؍صحابہ کرام ؍مسجد نبوی جیسے تمام اسلامی مظاہر ناپید تھے۔ اس نام نہاد فاضل نے اس بدیہی آثار یاتی شہادت کو نظر انداز کر دیا ہے کہ قبۃ الصخرہ ،یروشلم پر اموی دور (۷۱ھ؍ ۶۹۱ء ) کا کتبہ، مسجد نبوی پر اموی خلیفہ الولید کا کتبہ اور اسی دور میں مدینہ میں کاتبین قرآن مجید کے مکانات ؍آثاریاتی شواہد آج تک محفوظ ہیں ۔
اس مکتب فکر سے وابستہ مستشرقین کے مزعومات یہ ہیں جن پر حیرت اور عبرت دونوں ہوتی ہے،حیرت جہالت کی انتہا پر اور عبرت حق کی ایسی دیدہ اور دانستہ دشمنی پر۔ اس مکتب فکر کے باطل نظریات یہ ہیں:
تاریخ کی رو سے قرآن مجید اور ذخیرہ حدیث کا وجود ثابت نہیں ۔ اسلام کی ابتداء مکہ میں نہیں بلکہ شام اور روم کی سرحدوں پر کسی نامعلوم مقام پر ہوئی ۔ محمدؐ رسول اللہ،صحابہ کرام، مدینہ کی اسلامی ریاست ،یہ سب محض افسانے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔ یعنی وفات نبوی کے ایک سو بیس (۱۲۰)سال بعد اسلام کا ظہور ہوا ۔ اردن میں واقع شہر البتراء Petra اسلام کا مولد ہے ۔ عباسی دور حکومت (۷۵۰ء-۱۲۹۸ء) میںاسلامی سرمایۂ علم تصنیف اور مدون ہوا ۔ اس سے قبل کسی ماخذ کا سراغ نہیں ملتا ۔ شریعت تمام تر اقوال نبیؐ پر مبنی ہے، اس میں قرآن مجید کا کوئی دخل نہیں ہے۔ شریعت کے تمام قوانین اس دور میں خطۂ عرب میں رائج رسوم اور رواج کے عکاس ہیں، ان میں کوئی ندرت نہیں ہے، خطۂ عرب میں زرتشتی اور یہودی مذہبی عقائد کا غلبہ تھا، ان ہی کا اظہار قرآن مجید میں ملتا ہے۔ قرآن مجید کے متن میں حذف و اضافے اور ترامیم وفات نبوی کے بعد تک جاری رہیں ۔ احادیث وفات نبوی کے ڈیڑھ دو سو سال بعد ضبط تحریر میں آئیں لہذا یہ مطلق نا قابل اعتبار ہیں ۔ وضع حدیث کا آٹھویں اور نویں صدی عیسوی میں دور دورہ تھا ۔ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں اسلامی طرز حیات اور عجمی اور باز نطینی ثقافت میں کوئی فرق نہ تھا ۔ اسلامی تشخص کا تصور صدیوں بعد پیدا ہوا۔
ساتویں صدی عیسوی میں اسلام، قرآن مجید ،رسول اللہ ، مکہ ،مدینہ، اسلامی ریاست ، غزوات، احادیث، سیرۃ طیبہ، صحابہ کرام،شریعت غرضیکہ کسی اسلامی مظہر یا ادارے کا کوئی وجود نہیں تھا ۔یہ تخیلات آٹھویں اور نویں صدی عیسوی میں اختراع کئے گئے اور ساتویں صدی عیسوی کے اسلام کی فرضی تاریخ وضع کی گئی۔
ترمیم پسند اور استشراق نوکے مذکورہ بالا مفروضات ناقابل یقین حد تک مضحکہ خیز اور شر انگیز ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اسلام سے متعلق یہی بظاہر علمی روایت مغرب کے ذہن پر مستولی ہے ۔ اس کے علمی تعاقب کی اشد ضرورت ہے۔
کارپس قرانکیم (سرمایہ قرآنیات):مستشرقین کا تازہ ترین علمی منصوبہ
۲۰۰۷ء سے اکیڈمی برائے سائنسی اور بشریاتی علوم ،برلن،جرمنی میں نہایت وسیع پیمانے پر قرآنیات سے متعلق دور حاضرکے مستشرقین کاعلمی منصوبہ جاری ہے اور اس کی تحقیقات انٹر نیٹ پر دستیاب ہیں(۴)۔ان مغربی فضلاء کے عزائم بڑے بلند و بانگ ہیں۔ان کے پیش نظر سرمایۂ قرآنیات کو محفوظ کرنا اور اس پر محاکمہ کرنا ہے ۔ اس منصوبہ کے دائرۂ کار میں قرآن مجید کے اولین مخطوطات اور نزول قرآن مجید کے دور اور اس سے قبل کے تمام متعلقہ لوازمے بالخصوص یہودی ، عیسائی زرتشتی اور بحر روم کے پورے علاقے کی مذہبی، اسطوری ، ثقافتی اور معاشرتی روایات کا تجزیہ بھی اس زاویہ سے ہے کہ ان سے اسلام ؍قرآن مجید کسی حد تک متاثر ہے ۔ مصحف کے اولین نسخوں کو جمع کرنے کے علاوہ ان پر اعراب لگانا اور ان نسخوں کی Carbon Dating (سائنسی طریقۂ کار سے کسی شے کا زمانہ متعین کرنے کا عمل) اس منصوبے کا حصہ ہیں(۵) ۔ قرآن مجید کا تحقیقی اور تنقیدی ایڈیشن اور اس پر مبسوط تفسیر بھی ایک اہم مقصد ہے ۔ اب تک ہزا رہا قدیم دستاویزات کو مدون کیا گیا ہے ۔ اس منصوبے کے سربراہ مائیکل مارکس کا یہ قول معنی خیز ہے اور مسلم محققین کی توجہ کا طالب:’’قرآن از خود وجود میں نہیں آیا۔ساتویں صدی عیسوی میں حجاز عظیم بازنطینی اور ایرانی سلطنتوں کے اثرات، عیسائی ادریت اور عرفانیت ،قدیم عربی شاعری پر مستو لی عینیت پرستی اور یہودی اور عیسائی عقائد اور روایات کی آماجگاہ تھا ۔ ان اثرات اور محاکات کے حوالے ہی سے قرآن کی تفہیم ممکن ہے ۔ قرآن کے پہلو بہ پہلواس دور کے متعدد غیر قرآنی متون بھی ملتے ہیں۔ البتہ قرآن محض نقالی یا سرقہ نہیں ہے ‘‘۔ یہ منصوبہ در حقیقت اوائل بیسویں صدی کے جرمن استشراقی روایت کا تسلسل ہے اور اس کا منہج بنیادی طور پر متنی تنقید ہے ۔ اس منصوبے کے پس پشت یہ چار نظریہ ساز مستشرقین ہیں: (۱)ابراہام گائیگر(۱۸۱۰ء -۱۸۷۴ء)۔ یہ یہودی عالم دین تھے ۔ جیسا کہ اس سے قبل مذکور ہوا،ان کی تصنیف کا عنوان ہے: ’’محمد نے یہودیت سے کیاکیا مستعار لیا‘‘ ۔ (۲)رچرڈ بیل(Richard Bell) ۱۸۷۶ء-۱۹۵۲ءاور متعدد دیگر مستشرقین جن کا اصرار ہے کہ قرآن عیسائیت کی ایک ناکام نقل کے سواکچھ نہیں۔(۳)تیسرے نظریہ ساز مستشرق تھیوڈر نولڈیکی(Theodore Noldeke) ۱۸۳۶ء-۱۹۳۰ءہیں جن کی تحقیق کی زد میں قرآن مجید کی تاریخ جمع اور تدوین ہے۔ ان کے مطابق متن قرآن مجید ہر طرح کی اغلاط سے پُر ہے۔(۴) اس منصوبے کے فضلاء برطانوی مستشرق آرتھر جیفرے( (Arthur Jeffrey ۱۸۹۲ ء- ۱۹۵۹ءکے خوشہ چیں ہیں، ان کی دانست میں قرآن مجید کا ذخیرہ الفاظ دیگر زبانوں سے مستعار ہے۔
ان بنیاد گزار محققین کے قرآن مجید مخالف نظریات کی اساس پر یہ علمی منصوبہ ان مراحل کو طے کر رہا ہے:
(i)قرآنی مخطوطات کا بالاستیعاب تنقیدی مطالعہ
(ii)قرآن مجید کے اولین نسخوں میں اختلافات کی نشاندہی
(iii)نزول قرآن مجید سے ماقبل اور اس دور کے متون سے قرآن مجید کا موازنہ تاکہ ان کے اثرات کو قرآنی متن پر ثابت کیا جائے۔
(iv)متن قرآن مجید پرمستشرقا نہ ذہن کی غمازمبسوط تفسیر۔
زیر نظر مقالے میں صرف ایک قرآنی سورہ الاسراء پر تفسیر کا تجزیہ پیش ہے(۶)۔ اس سے قارئین کو اس علمی منصوبے سے وابستہ مستشرقین کے تعصبات ،مزعومات اور ذہنی تحفظات کا علم ہوگا ۔ ہر چند کہ اس منصوبے کی روح رواں فری یونیورسٹی ،برلن ،جرمنی میں عربی مطالعات کی خاتون پروفیسر انجیلکانیوورتھ Angelika Neuwirthہیں،سورہ الاسراء پر تفسیر میں ان کے شریک کا رڈرک ہارٹ وگ ہیں جو اسی اکیڈمی سے وابستہ ہیں انھوں نے اسلام کے علاوہ یہودیت کا مطالعہ یروشلم میں کیا ہے،ان کا قیام عالم اسلام میں بھی رہا ہے۔ان کا شعبۂ اختصاص مطالعۂ یہودیت اور قرآن مجید ہے۔جس کا نمایاں اثرزیر مطالعہ تفسیری حواشی میں عیاں ہے۔ ان تفسیری حواشی میں ان مستشرقین نے جو گل کھلائے ہیں، ان پر نقد و نظر ذیل میں پیش ہے کہ کس کس پہلو سے قرآن مجید کا استخفاف کیا گیا ہے۔
(۱) سورہ الاسراء آیت-۱:سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَیٰ بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی(پاک ہے وہ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا ) کے بارے میں ان فضلاء کا قول فیصل ہے کہ اس آیت میں بائبل کی کتاب حزقی ایل کی بازگشت ہے(۷) ۔ بائبل کی متعلقہ عبارت یہ ہے :
تیسویں برس کے چوتھے مہینے کی پانچویں تاریخ کو یوں ہوا کہ جب میں نہر کبار کے کنارے پر اسیروں کے درمیان تھا تو آسمان کھل گیا اور میں نے خدا کی رویتیں دیکھیں… اور میں نے نظر کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ شمال سے آندھی اٹھی اور ایک بڑی گھٹا اور لپٹتی ہوئی آگ اور اس کے گرد روشنی چمکتی تھی اور اس کے بیچ میں سے یعنی اس آگ میں صیقل کئے ہوئے پتیل کی سی صورت جلوہ گر ہوئی …اس کی کمر سے لے کر نیچے تک میں نے شعلہ کی سی تجلی دیکھی اور اس کے چاروں طرف جگمگاہٹ تھی …یہ خداوند کے جلال کا اظہار تھا اور اس نے مجھ سے کہا اے آدم زاد اپنے پاؤں پر کھڑا ہو تا کہ میں تجھ سے باتیں کروں جب اس نے مجھ سے یوں کہا تو روح مجھ میں داخل ہوئی اورپاؤں پر مجھے کھڑا کیا ۔ تب میں نے اس کی سنی جو مجھ سے باتیں کرتا تھا۔(حزقی ایل۱:۱-۵ اور ۲۷ اور۲:۱-۲،ص ص۷۷۸، ۷۷۹ ) (۸)
قرآن مجید اور بائبل کے اقتباسات میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ قرآن مجید میں نہ ذکر دیدار الٰہی ہے،نہ خدا سے ہم کلامی کا اور نہ تجسیم خداوندی کا ۔ قرآن مجید میں محض ایک واقعہ بیان کیا گیا اور نسبت تمام تر رب العالمین اور اس کے ایک بندے کے مابین ہے ۔ بائبل کی طول طویل عبارت حزقی ایل نبی کی رویت الٰہی اور خدا سے ہم کلامی اور خدا کی شبیہ گری کے بارے میں ہے ۔ بائبل کے مطابق چھٹی صدی عیسوی قبل مسیح کے اس نبی کو ’’خدا کے رتھ‘‘ کو برائے العین دیکھنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی تھی جسے
چار محیر العقول جاندار اٹھائے ہوئے تھے، ان میں سے ہر جاندار کے چار چار چہرے تھے:ایک انسان کا ،دوسرا شیر ببر کا ،تیسرا سانڈ اور چو تھا عقاب کا ۔ ان کے پر بھی تھے اور صورت آگ کے سلگتے ہوئے کوئلوں اور مشعلوں کی مانند تھی ۔ ان چاروں کے حلقوں کے گردا گرد آنکھیں ہی آنکھیں تھیں۔ ان کے پیروں کی آوازگو یا بڑے سیلاب کی آوازیعنی قادر مطلق کی آواز۔(حزقی ایل۱:۴-۲۷، ص ص ۷۷۸-۷۷۹)
بائبل اور قرآن مجید کے اقتباسات کے اس موازنے کی روشنی میں ان مستشرقین کا قرآن مجید پر حرف گیری ان کی کو رچشمی کی دلیل ہے ۔
(۲) آیت:۱ میں لفظ ’’اسریٰ‘‘(رات میں لے جانا)آیا ہے ۔ سورہ طہ۲۰:۷۷، الشعراء۲۶ :۵۲ اور الدخان ۴۴: ۲۳ میں بھی یہی لفظ استعمال ہوا اور ان تینوں مقامات میں موسیٰ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رات ہی میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں تاکہ فرعون کے جبر اور استبداد سے نجات پائیں۔ کھلا ہوا اشارہ خروج بنی اسرائیل سے متعلق ہے۔ محض اس لفظی یکسانیت (یعنی لفظ ’’اسری‘‘ کے کے استعمال) کی بنیاد پر مستشرقین نے یہ افسانہ تراشا ہے کہ سورہ الاسراء میں رات کے سفر؍معراج کا واقعہ موسی ؑسے متعلق ہے ،اس مفروضے سے وہ ایسے مغلوب ہیں کہ وہ ’’ اسری‘‘سے عین متصل متعلقہ متعین مقامات مسجد الحرام اور مسجد الاقصی کو قطعا فراموش کر دیتے ہیں ۔ مسجد الحرام سے موسی کو کوئی نسبت نہ تھی، اس کو بھی مطلق نظر انداز کر دیتے ہیں (۹)۔ ترمیم پسند مکتبۂ فکر کے بنیاد گزار مستشرق جان وا نسبرا ( John Wansbrough) ۱۹۲۸ء-۲۰۰۲ءنے قارئین کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے معراج کے واقعہ کو موسیؑ سے منسوب کیا ہے(۱۰)۔ اسی کا تتبع اس تفسیر میں بھی ہے۔ ان کے مطابق اس سورہ کاصحیح عنوان ’’خروج ‘‘ہے کہ یہ اسی واقعے سے متعلق ہے۔ان کی دانست میںالمسجد الحرام کا تعلق مکہ ؍کعبہ سے اس لئے مشکوک ہے کہ قرآن مجید میں کعبہ کے لئے معروف لفظ’’ البیت‘‘ہے چونکہ وہ استعمال نہیں ہوا ہے لہذا کعبہ مراد نہیں ہے ۔ ان کے مطابق المسجد الحرام مترادف ہے’’ خداوند کے مسکن‘‘ (بیت المقدس)کا جس کا ذکر بائبل کی کتاب حزقی ایل(۳:۱۳) میں ہے جبکہ’’ مسجد الاقصیٰ ‘‘ایک نا معلوم دور دراز مقام کا نام ہے ۔ اس غیر منطقی طرز استدلال اور صریح حقائق سے چشم پوشی پر صرف حیرت اور تاسف کا اظہار کیا جا سکتا ہے کہ کتمان حق میں عقل پر کیسے پردے پڑ جاتے ہیں ۔
(۳) آیت: ا کا ایک جزو ہے:الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ. (مسجد اقصیٰ جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے)۔ ان فضلاء کے مطابق یروشلم کے بابرکت ہونے کا تصور یہودی روایت سے مستعار ہے (۱۱)۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ نے تخلیق کے عمل کی ابتداء یروشلم شہر کی تعمیر سے کی اور بتدریج اس ہی کی برکات سے دیگر مقامات یا یہ دنیا وجود میں آئی ۔ یہودی تفسیر بائبل موسوم بہ مدراش(Midrash Tanchuma)کی متعلقہ عبارت یہ ہے :
’’میں (خدا)نے باغ بنائے اور ان میں طرح طرح کے ثمر آور درخت لگائے ۔ جس طرح انسانی جسم کے عین وسط میں ناف ہوتی ہے، ارض اسرائیل دنیا کی ناف ہے ۔ یہ دنیا کے عین وسط میں واقع ہے اور ارض اسرائیل کے قلب میں یروشلم واقع ہے اور اس کے وسط میں مقدس ہیکل اور اس کے صدر میں وہ خیمہ جس میں عہد نامہ عتیق ایک صندوق میں محفوظ ہے‘‘۔(۱۲)
یروشلم کے اس تقدس سے محمد رسول اللہ کا کوئی ناطہ رشتہ نہیں تھالہذا اس قرآنی عبارت سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ’’اسری‘‘کا واقعہ موسیٰ سے متعلق ہے نہ کہ رسول عرب سے۔
اس باطل استدلال میں بھی خلط مبحث ہے۔ انبیائے کرام کا مسکن اور مدفن ہونے کے باعث بیت المقدس، یروشلم کا شماراسلامی مقامات مقدسہ میں ہوتا ہے، البتہ اس آیت میں ذکر ہے کہ اللہ محمدؐ رسول اللہ کو کعبہ سے بیت المقدس راتوں رات لے گیا۔یہاں یروشلم کے تقدس کے ذکر سے آپ کے سفر معراج کی نفی نہیں ہوتی البتہ ان فضلاء کے پیش نظر صرف یہ مفروضہ ہے کہ اسراء ؍معراج کا واقعہ موسیٰ کو پیش آیا اور اسلامی روایت میں اسے غلطی سے محمد رسول اللہ سے منسوب کر دیا گیا ہے۔
اسلام ؍عرب دشمنی کا یہ پہلو بھی سبق آموز ہے کہ اپنے جد ا علی ابراہیمؑ کے تعمیر کردہ اولین بیت اللہ ،کعبہ سے یہودیوں کی بے اعتنائی کیسی شدید ہے ۔ اسی کے پہلو بہ پہلو اپنی قومی ،سیاسی تاریخ کے مظہر یروشلم کے مجد و شرف کے بارے میں کیسے غلو کا اظہار کیا گیا ہے۔
(۴) بائبل کتاب حزقی ایل میں مذکور ہے کہ نبی حزقی ایل کو ان کے گھر سے آگ کی مانند ایک شبیہ نے ان کو پکڑا اور پھر روح نے ان کو آسمان اور زمین کے درمیان بلند کیا اور ان کو رویائے الٰہی میں یرو شلم لے آئی اور وہ اسرائیل کے خدا کے جلال کے روبرو ہو ئے ۔ (حزقی ایل۸:۱-۵،ص ص۷۸۴)
زیر مطالعہ تفسیر کی رو سے مذکورہ بالاروایت سورہ الاسراء کی آیت -۱:سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَیٰ بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ(پاک ہے وہ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں، یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے والاہے) کی اساس ہے ۔ دونوںاقتباسات میں مشترک کچھ بھی نہیں پھر بھی ان فضلاء کی یہ جسارت حیرت انگیز ہے۔
(۵)ان فضلاء کا یہ فتوی ہے کہ پوری کی پوری سورہ الاسراء موسیؑ پر مرکوز ہے(۱۳) جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ ۱۱۱؍ آیات پر مشتمل اس سورہ کی صرف ۱۱؍آیات(۲تا۸ اور ۱۰۱تا ۱۰۴) موسیؑ اور بنی اسرائیل کے متعلق ہیں جب کہ بقیہ۱۰۰؍ آیات کے موضوعات متعدداور متنوع ہیں (اللہ کی نشانیاں ، معذب قوموں کے بارے میں سنت الٰہی، عقائد اور اعمال کے بارے میں متعدد احکام، اثبات توحید، مشرکین کا انکار حق اور قرآن مجید اور آخرت کی تکذیب، قوم ثمود ، ابلیس کی سرکشی ،انعام الٰہی ،تکریم بنی آدم ،منظر آخرت ،نماز اور تلاوت کی تاکید، محمدؐ رسول اللہ کے لئے مقام محمود کی بشارت، روح ، معجزہ قرآن مجید، مشرکین کا حسی اور مادی معجزات کا مطالبہ، قرآن مجید کی بتدریج تنزیل اور صفات الٰہی وغیرہ )۔ قرآن مجید کا یہودیت سے ماخوذ ہونے کا خیال ان فضلاء کے قلب اور ذہن پرایسا مستولی ہے کہ انھیں امر واقعہ کے انکار میں بھی کوئی باک نہیں۔
(۶) سورہ الاسراء آیات قرآنی ۳ ۱؍اور ۱۴؍یہ ہیں:وَکُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاہُ طَائِرَہُ فِی عُنُقِہِ وَنُخْرِجُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کِتَابًا یَلْقَاہُ مَنشُورًا۔اقْرَأْ کِتَابَکَ کَفَیٰ بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیبًا.(ہم نے ہر انسان کی برائی بھلائی کو اس کے گلے لگا دیا ہے اور بروز قیامت ہم اس کے سامنے اس کا نامۂ اعمال نکالیں گے جسے وہ اپنے اوپر کھلا ہوا پالے گا۔ لے!خود ہی اپنی کتاب آپ پڑھ لے۔ آج تو تو آپ ہی اپنا خود حساب لینے کو کافی ہے۔ )
ان فضلاء کے مطابق تقدیر اور انسان کی آزادیٔ عمل دو متضاد تصورات ہیں اور وہ ایک دوسرے کے منافی ہیں لہذا یہ قرآنی موقف معنی سے عاری ہے(۱۴)۔ یہ الزام بھی ایک بدیہی حقیقت کا بطلان ہے۔ أَلْزَمْنَاہُ طَائِرَہُ فِی عُنُقِہِ.سے مراد ہے کہ اللہ نے خیر و شر کے راستے ہر انسان کے سامنے بالکل واضح کر دیے ہیں اور اپنے اعمال کی بناء پر وہ ثواب اور عذاب کا مستحق ہوگا ۔ ایسے منطقی اور مدلل بیان کو متناقض قرار دینا محض شرانگیزی اور مخالفت حق ہے ورنہ قرآنی موقف قطعاًغیر مبہم اورعام فہم ہے۔
(۷)سورۃ الاسراء آیات۲۲ تا ۳۹میں متعدد احکام الٰہی وارد ہوئے ہیں ۔ ان فضلاء کا پہلا اور مہمل اعتراض یہ ہے کہ اس سے قبل نازل قرآن مجید میں کوئی حکم نہیں ملتا، یک بہ یک بغیر کسی تمہید کے ان آیات میں اللہ بطور شارع نظر آتا ہے(۱۵)۔اللہ رب العالمین کی اس حیثیت پر اعتراض طفلانہ بھی ہے اور مضحکہ خیز بھی ۔ ان کا دوسرا اعتراض اورزیادہ شدید اور سنگین ہے۔ ان کے بقول یہ قرآنی احکام تو ریت کی کتا ب خروج میں مذکور ان احکام عشرہ کی ناقص نقل ہیں جو اللہ نے موسیٰ کو کوہ سینا پر عطا کئے تھے(۱۶)۔
ذیل میں توریت اور قرآن مجید کے احکام نقشے کی شکل میں موازنے کے لئے پیش ہیں :
توریت کے احکام عشرہ
(۱)میرے حضور تو غیر معبودوں کو نہ ماننا(خروج۲۰:۳)
(۲)تو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا(خروج۲۰:۴-۶)
(۳)تو خداوند اپنے خدا کا نام بے فائدہ نہ لینا(خروج۲۰:۷)
(۴)یاد کرکے تو سبت کا دن پاک ماننا(خروج۲۰:۸-۱۱)
(۵)تو اپنے باپ اوراپنی ماں کی عزت کرنا(خروج۲۰:۱۲)
(۶)تو خون نہ کرنا(خروج۲۰:۱۳)
(۷)تو زنا نہ کرنا(خروج۲۰:۱۴)
(۸)تو چوری نہ کرنا(خروج۲۰:۱۵)
(۹)تو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دینا(خروج۲۰:۱۶)
(۱۰)تو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا(خروج۲۰:۱۷) (۱۷)
احکام قرآنی
(۱)اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بناؤ،نہ اس کے سوا کسی کی عبادت کرو( ۱۷:۲۲)
(۲) والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، ان کا احترام بجالاؤاور ان کی مغفرت کے لیے اللہ سے دعا کرو۔(۱۷:۲۳-۲۴)
(۳) رشتے داروں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو۔(۱۷:۲۶)
(۴) اسراف اور فضول خرچی سے پرہیز کرو۔(۱۷:۲۶-۲۷)
(۵)ضرورت مندوں اور غریبوں سے نرم لہجے میں بات کرو۔(۱۷:۲۸)
(۶)بخل سے کام نہ لو اور نہ دونوں ہاتھوں سے اپنی دولت لٹاتے رہو۔ (۱۷:۲۹)
(۷)مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کوقتل نہ کرو۔(۱۷:۳۱)
(۸) زنا کے قریب بھی نہ جاؤ کیوں کہ وہ بڑی بے حیائی ہے ۔(۱۷:۳۲)
(۹)کسی جان کوناحق ہرگز قتل نہ کرو ۔(۱۷:۳۳)
(۱۰)اپنے مقتول کا قصاص لیتے وقت بھی انصاف کو پیش نظر رکھو۔(۱۷:۳۳)
(۱۱) یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ۔(۱۷:۳۴)
(۱۲)وعدے پورے کرو۔(۱۷:۳۴)
(۱۳) ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرو۔(۱۷:۳۵)
(۱۴)جس بات کا علم نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑو۔ (۱۷:۳۶)
(۱۵) زمین میں اکڑ کر نہ چلو۔(۱۷:۳۷)
(۱۶) اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبودبناؤ گے تودوزخ میں ڈال دیے جاؤ گے۔ (۱۷:۳۹) (۱۸)
ان فضلاء کا یہ بھی الزام ہے کہ محمدؐ رسول اللہ نے احکام عشرہ میں سے احکام شمار نمبر۲، ۳،۴ ؍اور ۱۰ حذف کر دیے اور ۴ احکام کا ازخود اضافہ کر دیا (۱۹)۔ غالباً اس حقیقت کے اعادہ کی ضرورت نہیں کہ کوئی بھی مغربی فاضل قرآن مجید کو منزل من اللہ کلام الٰہی تسلیم نہیں کرتا اور اس سلسلۂ و حی اور پیغمبران خداوندی کو بھی قابل اعتنا نہیں سمجھتا جس کے مطابق حالات اور ظروف کی رعایت سے ہر آسمانی کتاب ؍شرعی احکام میں اللہ حکیم اور عزیز مطلق نے مناسب تبدیلیاں کی ۔ اس حقیقت کی تکذیب مذکورہ بالا اعتراض کے پس پشت ہے ۔ ان فضلاء میں احکام عشرہ اور احکام قرآنی میں بعض مماثلتوں کو قرآن مجید میں سرقے سے تعبیر کیا ہے کیونکہ وہ اس امر کے منکر ہیں کہ توریت اور قرآن مجید دونوں ہی اللہ کے نازل کردہ ہیں لہذا بعض مقامات میں ان میں مماثلت چنداں حیرت انگیز یا قابل اعتراض نہیں ۔ بہر کیف وہ اپنی اس تحقیق پر بہت نازاں اور فرحاں ہیں کہ سورہ الاسراء میں چند ایسے احکام مذکور ہیں جو توریت میں بھی وارد ہیں مثلا آیت ۲۶؍ بائبل کتاب خروج ۲۲:۲۱-۲۷۔اس ضمن میں یہ فضلاء اس حقیقت کو فراموش کر گئے کہ کتاب خروج میں اس سے متصل آیات میں یہ احکام بھی در آئے ہیں :
’’تو خدا کو نہ کو سنا اور نہ اپنی قوم کے سردار پر لعنت بھیجنا ۔ تو اپنی کثیر پیداوار اور اپنے کولھو کے رس میں سے مجھے نذرو نیاز دینے میں دیر نہ کرنا اور اپنے بیٹوں میں سے پہلوٹھے کو مجھے دینا ۔ (خروج۲۲:۲۸-۲۹،ص۷۵)
اگر معاذ اللہ قرآن مجید تو ریت کے احکام کا چربہ ہوتا تواس میں اس نوع کے غیر فطری احکام کیو ں نہیں ہیں (اللہ کو نذر و نیاز دینا، اس میں مطلق کوئی تاخیر نہ کرنا اور اپنے پہلے بیٹے کو اللہ کے نام پر وقف کر دینا) یہ توریت میں تحریف پر دال ہیں۔
(۸)والدین کے ساتھ حسن سلوک ایک اہم قرآنی حکم ہے جس کا بالکل واضح انداز میں یہ اعلان کیا گیا ہے:
وَقَضَیٰ رَبُّکَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُہُمَا أَوْ کِلَاہُمَا فَلَا تَقُل لَّہُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُل لَّہُمَا قَوْلًا کَرِیمًا۔ وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِی صَغِیرًا .(آیات:۲۳-۲۴)
(اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار!ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔)
مگر ان فضلاء کا اصرار ہے کہ یہ صریح ، عام فہم حکم بائبل کی اس گنجلک عبارت سے ماخوذ ہے(۲۰):
’’کتنی بار میں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کر لیتی ہے اسی طرح میں بھی تیرے بچوں کو جمع کر دوں مگر تم نے نہ چاہا‘‘۔(لوقا۱۳:۳۴)
’’کتنی بار میں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کر لیتی ہے اسی طرح میں بھی تمہارے لڑکوں کو جمع کرلوں مگر تم نے نہ چاہا ۔ (متّی۲۳:۳۷)
ان فضلاء کے دعوی کے برعکس بائبل کے ان اقتباسات میں والدین کے ساتھ حسن معاشرت کا کوئی ذکر ہی نہیں بلکہ موضوع خدا؍ عیسیؑ کا بنی اسرائیل سے شفقت کا اعلان ہے جس کے نامکمل ہونے پر تاسف ہے ۔ مزید برآں بائبل کی ان دونوں کتابوں میں ’’بچوں‘‘ اور ’’لڑکوں ‘‘کے درمیان تفریق قابل غور ہے ۔ اگر صرف لڑکے ہی مراد ہیں تولڑکیوں سے اس امتیاز کا کیا جواز ہے۔ مزید برآں خدا ؍عیسیؑ کا ان کو مجتمع نہ کرنے پر بے بسی کا اظہار ناقص تصور خدا ہے جو قوت اور عمل سے عاری ہے ۔ یہ اقتباسات جن کا ان فضلاء نے بڑے فاتحانہ انداز میں ذکر کیا ہے ،بائبل سے متعلق متعدد سوالیہ نشان قائم کرتے ہیں ۔
آیت :۲۴؍میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے والدین کے لئے رحمت الٰہی کی دعا کریں ۔ یہ آیت بھی ان فضلاء کی رائے میں بائبل کے مذکورہ بالا اقتباسات پر مبنی ہے جب کہ در حقیقت ان اقتباسات اور قرآن مجید کی عبارت میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے ۔ اول الذکر میںوالدین کی جانب اشارہ ہے ،جب کہ موخر الذکر ایک جامع ، موثر دعا ہے جو اللہ نے اہل ایمان کو سکھائی ہے کہ وہ اپنے والدین کے لئے جذبۂ تشکر اور احسان مندی کے ساتھ کرتے رہیں۔
(۹) آیت:۳۲ حرمت زنا سے متعلق ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَیٰ إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَاءَ سَبِیلًا .
خبردار! زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیوں کہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے۔
ان فضلاء نے اس کی نسبت یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ حکم غیر واضح ہے اور اس کی کوئی تشریح نہیں ملتی (۲۱)۔قرآنی حکم بے غبار حدتک واضح ہے ۔ فعل زنا تو درکنار،اس کے متعلقات تک کی صریح ممانعت اور اس کی شناعت کے لئے دو دو مذمتی الفاظ ’’بے حیائی‘‘اور’’ بہت ہی بری راہ‘‘ مستعمل ہوئے ہیں۔ غالباً ان فضلا ء کو با ئبل کے زنا سے متعلق مندر جہ ذیل احکام کے پیش نظر یہ خلجان ہوگا:
’’ اگر کوئی اپنی چچی یا تائی سے صحبت کرلے تو اس نے اپنے چچایا تاؤ کے بدن کو بے پردہ کیا ۔سو ان کا گناہ ان کے سر لگے گا ۔ وہ لاولد مریں گے۔ اگر کوئی شخص اپنے بھائی کی بیوی کو رکھے تویہ نجاست ہے، وہ لاولد رہیں گے‘‘۔ (احبار۲۰:۲۱،ص۱۱۴)
یہاں زنا جیسے قبیح فعل کے لئے’’صحبت کرنا ‘‘اور’’رکھنا‘‘ عجیب ہے۔مزید برآں ان کی کوئی سزا متعین کرنے کے بجائے صرف یہ کہا گیا ہے کہ ایسے گناہ گار’’لا ولد‘‘مریں گے ۔ اولاً یہ کلیہ عملاً غلط ہے، زنا کے نتیجے میں حمل ٹھہرنا ایک معروف امر ہے، اس ضمن میں کوئی الٰہی مداخلت نہیں ہوتی اور پھر محض’’لا ولد‘‘ رہ جانا عملاً کوئی سزا ہے ہی نہیں ۔ بھائی کی بیوہ سے عدت کے بعد نکاح کو زنا کی صف میں رکھنا ایک اور نا قابل توجیہ پہلو بائبل کے مذکورہ بالا حکم کا ہے ۔
بائبل کا ہن کو اس حکم کا پابند بناتی ہے:’’اس عورت سے بیاہ نہ کریں جسے اس کے شوہر نے طلاق دی ہو کیونکہ کا ہن اپنے خدا کے لئے مقدس ہے‘‘ ۔ (احبار۲۱:۷، ص ۱۱۴) مطلقہ عورت کی یہ ناپاکی نا قابل دفاع ہے ۔اس سے بھی زیادہ قابل اعتراض بائبل کا یہ حکم ہے:
’’خدا وند نے موسی سے کہا :ہارون سے کہہ دے کہ تیری نسل میں پشت در پشت اگر کوئی کسی طرح کا عیب رکھتا ہے تو وہ اپنے خدا کی غذا گزراننے کو نزدیک نہ آئے ۔ خواہ کوئی ہو جس میں عیب ہو وہ نزدیک نہ آئے،خواہ وہ اندھا ہو یا لنگڑا ہو،یانک پھٹا ہو یا زائد الاعضاء،یا اس کا پاؤں ٹوٹا ہوا ہو یا ہاتھ ٹوٹا ہو یا وہ کبڑا یا بونا ہو یا اس کی آنکھوں میں کچھ نقص ہو یا کھجلی بھرا ہو یا اس کے پپڑیاں ہوں یا اس کے خصیے پچکے ہوئے ہوں …وہ مذبح کے پاس نہ آئے، اس لئے کہ وہ عیب دار ہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ میرے مقدس مقاموں کو بے حرمت کرے کیوں کہ میں خدان کا مقدس کرنے والاہوں ‘‘۔ (احبار۲۱: ۱۸ – ۲۱اور ۲۲-۲۳،ص۱۱۵)
اس کے عین بر عکس قرآن مجید میں معذور افراد کی تالیف قلب مذکور ہے ۔ سورہ عبس میں نابینا صحابی ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا واقعہ اس کا بہترین مرقع ہے ۔ قرآن مجید میں رسول اکرمﷺ پر نکیر ہے کہ آپ ﷺنے سہواً ایک معذور صحابی سے کیوں بے رخی برتی۔(عبس۸۰:۱-۱۲) ۔ رسول اکرمؐ نے متعدد معذور صحابہ کرام کو اعلی مناصب پر مقرر کیا (مثلا عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اورعطا ابن ابی رباح رضی اللہ عنہ)۔احادیث میں جسمانی طور پر معذور افرادسے حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے(۲۲) ۔
ز نا کے بارے میںقرآنی ممانعت سے متعلق ان فضلاء کے اشکال کی ایک وجہ غالباً یہ ہے کہ بائبل(احبار۲۰:۱۰)میں صرف شادی شدہ زانیوں کی سزا مذکور ہے جب کہ اسلام میں زنا مطلق طور پر حرام ہے اس کا مرتکب خواہ غیر شادی شدہ شخص ہویا شادی شدہ شخص ،سب ہی لائق تعزیر ہیں ۔ زنا کی یہ مطلق شناعت غالبا ان مغربی فضلاء پر روشن نہیں۔
(۱۰) آیت:۳۴ میں اللہ نے یتیموں کا مال ناحق کھانے کے خلاف خبردار کیا ہے ۔
وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إِلَّا بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ حَتَّیٰ یَبْلُغَ أَشُدَّہُ .
اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ بجز اس طریقہ کے جو بہت ہی بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی بلوغت کو پہنچ جائے۔
ان فضلاء کی عقل پر ماتم کرنے کا مقام ہے کہ انھوں نے اس قرآنی حکم کو Syrian Homilies سے مستعار قرار دیا ہے(۲۳)۔پندو موعظت پر مشتمل یہ مجموعہ اقوال نینوا ،شام کے اسقف اعظم اسحاق (Issac) سے منسوب ہے۔ یہ ۶۸۸ءیعنی قرآن مجید کی تکمیل؍ وفات نبوی کے ۵۵؍سال بعد سریانی زبان میں تحریر ہوا ،اس کے متفرق اجزاء قلمی پارچوں کی صورت میں چودھویں صدی عیسوی تک دریافت ہو تے رہے۔ مجموعہ کی شکل میں یہ اولین دفعہ یونانی ترجمے کے طور پر۱۳۷۴ء میں سامنے آیا ۔ سریانی زبان کی یہ تحریر جو مکمل اور قلمی نسخے تک کے طور پرچودھویں صدی میں منظر عام پر آئی، اسے ۶۳۳ءکے قرآن مجید کا ماخذ قرار دنیا علمی خیانت بھی ہے اور ذہنی دیوالیہ پن بھی ۔
(۱۱)آیات:۳۶-۳۷ انسان کی مسئولیت اور تکبر کی مذمت سے متعلق ہیں۔
وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ أُولَٰئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُولًا ۔ وَلَا تَمْشِ فِی الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّکَ لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا.
جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ۔ کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے اور زمین میں اکڑ کر نہ چل کہ نہ تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ لمبائی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتا ہے۔
خلط مبحث میں مبتلا ان فضلاء نے اس قرآنی تنبیہ کو بائبل کی زبور(۱۰۹:۲ اور۱۲۰:۲) کے مماثل قرار دیا ہے جو کہ امر واقعہ ہے ہی نہیں (۲۴)۔ زبور کے ان اقتباسات میں پیغمبر کی شریر اور دغا باز افراد کے خلاف خدا سے فریادہے (زبور۱۰۹:۲) اور اسی کا اعادہ زبور۱۲۰:۲ ہے ۔ ان دونوں مضامین میںکوئی مماثلت نہیں ۔ قرآن مجید کا مقصود انسان میں اس شعور کو بیدار اور پختہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اعضاء اور جوارح اور اعمال کے لئے اللہ کے سامنے جوابدہ ہے اور اس کا تکبر اللہ کی کبریائی کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا ہے ۔
(۱۲) آیات ۲۲ تا۳۹ میں متعدد احکام مذکور ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے بھی ہے اور حقوق العباد سے بھی۔ ان فضلاء کی یہ نکتہ آفرینی قابل استہزاء ہے کہ ان کے بقول ہر چند کہ قرآن مجید نے احکام کی ایک طول طویل فہرست بیان کر دی ہے لیکن اس کے مطابق لائق تعزیر جرم صرف شرک ہے جس کی سزا آیت ۳۹میں درج ہے بقیہ احکام کی خلاف ورزی پر کسی سزا کا اعلان نہیں ہے(۲۵)۔ یہ امر معروف ہے کہ قرآن مجید خود اپنی تفسیر پیش کرتا ہے۔ ایک آیت میں جو بیان ہے اسی کی توضیح اور تشریح دیگر قرآنی آیات میں ہے۔ احکام القرآن کے موضوع پر تفاسیر( از جصاص، قرطبی ،ابن العربی،طحاوی) میں ان کی تفصیل دستیاب ہے۔
ان فضلاء نے اپنی دانست میں یہ بڑا معرکہ سر کیا ہے کہ یہ نشاندہی کی ہے کہ شرک کی سنگین سزا تا لمود میں بھی ہے اور وہی اس قرآنی حکم کی اساس ہے ۔ توریت اصلاًکتاب الٰہی ہے گو اس کی موجودہ شکل تحریف شدہ ہے، لیکن اس کے با وصف تو حید کاپیغام اور شرک کی شناعت اب بھی اس کا جزو ہے ۔ یہ کیفیت عیسائی انجیل (نئے عہد نامہ )کی نہیں ہے جا بجا خدا اورعیسیؑ یکساں درجہ الوہیت پر متمکن ، عیسیؑ کا ابن اللہ اور بنی نوع انسان کے شفیع ہونے کے باطل عقائد اس پر مستزاد۔
(۱۳)آیات ۴۹تا ۵۱ میں اللہ کی قدرت حیات بعد الممات کا اثبات ہے :
وَقَالُوا أَإِذَا کُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِیدًا ۔قُلْ کُونُوا حِجَارَۃً أَوْ حَدِیدًا۔ أَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُ فِی صُدُورِکُمْ فَسَیَقُولُونَ مَن یُعِیدُنَا قُلِ الَّذِی فَطَرَکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ فَسَیُنْغِضُونَ إِلَیْکَ رُئُ وسَہُمْ وَیَقُولُونَ مَتَیٰ ہُوَ قُلْ عَسَیٰ أَن یَکُونَ قَرِیبًا .
انھوں نے کہا، کیا جب ہم ہڈیاں اور (مٹی ہو کر)ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ہم ازسرنو پیدا کر کے پھر دوبارہ اٹھا کر کھڑے کر دیئے جائیں گے۔ جواب دیجئے کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا یا کوئی اور ایسی خلقت جو تمہارے دلوں میں بہت ہی سخت معلوم ہو، پھر وہ پوچھیں کہ کون ہے جو دوبارہ ہماری زندگی لوٹائے؟ آپ جواب دے دیں کہ وہی اللہ جس نے تمہیں اول بار پیدا کیا، اس پر وہ اپنے سر ہلا ہلا کر آپ سے دریافت کریں گے کہ اچھا یہ ہے کب؟ تو آپ جواب دے دیں کہ کیا عجب کہ وہ (ساعت)قریب ہی آن لگی ہو۔
اس واضح ، استدلالی قرآنی بیانیے کا موازنہ بائیل کے حسب ذیل اقتباسات سے سے کرنا چاہئے کہ ان فضلاء کی رائے میں یہی قرآن مجید کے بیان کی بنیاد ہیں(۲۶):
’’خدا وند کا ہاتھ مجھ (حزقی ایل )پر تھا ،اس نے مجھے اپنی روح میں اٹھایا اور اس وادی میں جو ہڈیوں سے پُر تھی اتار دیا اور مجھے ان کے آس پاس جو گرد پھرایا…اس نے مجھ سے فرمایا تو ان ہڈیوں پر نبوت کر…جب میں نبوت کر رہا تھا تو ایک شور ہوا اور دیکھ زلزلہ آیا اور ہڈیاں آپس میں مل گئیں …میں نے حکم کے مطابق نبوت کی اور ان میں دم آیا اور وہ زندہ ہو کر اپنے پاؤں پر کھڑی ہوئیں… (حزقی ایل۲۷:۱-۳،۷ اور ۱۰-۱۱، ص۸۱۶ )
یہاں بیانیہ تمام ترنبی حزقی ایل کے معجزے پر مرکوز ہے کہ کسی طرح خدا کے حکم کے مطابق ان کے ہاتھوں سوکھی ہڈیاں زندہ افراد (بنی اسرائیل)میں تبدیل ہو گئیں ،قرآن مجید کے برخلاف روز قیامت اور آخرت یہاں مذکور نہیں ۔
قرآن مجید میں سرقے کا دوسرا حوالہ ان فضلاء نے انجیل کے اس بیان کا دیا ہے :
’’میں یوحنا نبی تم سے کہتا ہوں کہ خدا ان پتھروں سے ابرہام کے لئے اولاد پیدا کر سکتا ہے‘‘۔ (متّی ۳:۹، ص۶)
یہاں بھی موضوع آخرت میں حیات بعد الموت نہیں ہے بلکہ اظہار خدا کی قدرت کا ملہ کا ہے لہذا اس دعوی میں کوئی وزن نہیںکہ مذکورہ بالا قرآنی آیات بائبل سے ماخوذ ہیں۔
(۱۴)آیت ۵۵ میں ذکر داؤد اور ان پر نازل کتاب الٰہی زبورکا ہے۔قرآن میں مذکور اس امر واقعہ پر کوئی اعترا ض جڑنے سے قاصر رہنے پر ان فضلاء نے قضیہ یہ چھیڑا کہ ایک اور مقام پر قرآن مجید نے داؤد کا استخفاف کیا ہے اور حوالہ اس آیت قرآنی کا دیا ہے(۲۷):
یَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیفَۃً فِی الْأَرْضِ فَاحْکُم بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوَیٰ فَیُضِلَّکَ عَن سَبِیلِ اللَّہِ إِنَّ الَّذِینَ یَضِلُّونَ عَن سَبِیلِ اللَّہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیدٌ بِمَا نَسُوا یَوْمَ الْحِسَابِ (سورۂ ص – آیت 26)
اے داؤد!ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی، یقیناً جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اس لئے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے۔
اس آیت سے داؤد ؑکے اعلی اور ارفع مقام پر کوئی حرف نہیں آتا ۔ یہ فضلاء چونکہ ایک نبی عیسیؑ کے اللہ کے شریک اور فرزند ہونے کے تصور سے مغلوب ہیں، داؤد کو احکم الحاکمین کا یہ خطاب ان کی طبع خاطر پر غالبا گراں گزرا ہے ۔ اس حقیقت کا اعادہ لازم ہے کہ نبی بہر کیف بشر اور اللہ کا بندہ ہوتا ہے ۔ قرآن مجید میں بشریت ابنیاء بشمول ان کی لغزشوں کا ذکر ملتا ہے ۔ اللہ کے حبیب محمد ؐرسول اللہ کے بعض اعمال پر بھی قرآن مجید میں گرفت ملتی ہے ۔ عصمت انبیاء کا اسلامی عقیدہ ان برگزیدہ شخصیات کی وقتی ،بشری کمزوریوں اور محدود دائرہ علم کے منافی نہیں ہے۔
(۱۵)آیات ۵۶اور۵۷ میں باطل معبودوں کی بے بسی اور مجبوری کو نمایاں کیا گیا ہے:
قُلِ ادْعُوا الَّذِینَ زَعَمْتُم مِّن دُونِہِ فَلَا یَمْلِکُونَ کَشْفَ الضُّرِّ عَنکُمْ وَلَا تَحْوِیلًا۔ أُولَٰئِکَ الَّذِینَ یَدْعُونَ یَبْتَغُونَ إِلَیٰ رَبِّہِمُ الْوَسِیلَۃَ أَیُّہُمْ أَقْرَبُ وَیَرْجُونَ رَحْمَتَہُ وَیَخَافُونَ عَذَابَہُ إِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُورًا .
کہہ دیجیےکہ اللہ کے سوا جنہیں تم معبود سمجھ رہے ہو انہیں پکارو لیکن نہ تو وہ تم سے کسی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں اور نہ بدل سکتے ہیں۔جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وہ اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہوجائے وہ خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوفزدہ رہتے ہیں، (بات بھی یہی ہے)کہ تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہی ہے۔
ان فضلاء کے مطابق ان سے مراد فرشتے نماارواح ؍جنات ہیں اور قرآن مجید میں ان کا ماخذ ایک قدیم یہودی صحیفہ Ethiopian Book of Enoch ہے(۲۸) جو دوسری؍ تیسری صدی قبل مسیح کا ہے جو کہ حبشی زبان میں ہے۔ اس کی ایک کلیدی جہت یہ ہے کہ یہ اس خرافات پر مبنی ہے کہ بعض فرشتے انسانی گوشت پوست کی حسین و جمیل عورتوں پر فریفتہ ہو بیٹھے، ان سے جسمانی تعلقات کے مرتکب ہوئے اور اس کی پاداش میں جنت سے جلا وطن ہوئے اور ان ہی کی بدولت دنیا میں گناہ اور غیر اخلاقی افعال کا رواج ہوا۔ یہ صحیفہ یہودیوں کے صرف ایک غیر معروف اقلیتی گروہ یعنی حبش کے یہودیوں کے لئے قابل قبول ہے عام یہود ی اسے زندقہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان فضلاء کی قوت تخیل قابل داد ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کا ایک امی(محمدؐ رسول اللہ)بائبل پر عبور کے پہلو بہ پہلو یہودیت اور عیسائیت کے مختلف زبانوں میں غیر معروف بلکہ متروک صحائف میں بھی ایسا درک رکھتا تھا کہ اس نے ان تمام مآخذ کا انتہائی چابک دستی سے ا ستعمال کیا۔
(۱۶)آیت ۵۹میں اہل ثمود کی معجزاتی اونٹنی اور آیت۶۰میں معراج کے دوران محمدؐ رسول اللہ کی الشجرۃ الملعونۃ (الزقوم) کی رویت کے حوالے ہیں ۔ بائبل ان تلمیحات سے عاری ہے لہذا ان فضلاء کی دانست میں یہ محض خیالی ہیں جن کی کوئی اصلیت نہیں(۲۹)۔ اس پوری تفسیر میں ان فضلاء کا یہی منہج ہے کہ اگر متن قرآنی میں کوئی تصور؍ اصطلاح؍ عقیدہ کسی نہ کسی لحاظ سے بائبل سے مماثل ہے تو اسے بلا تکلف بائبل سے سرقہ قرار دیتے ہیں اور اگر کوئی لوازمہ بائبل سے مشابہ نہیں ہے تو اس کے وجود ہی سے انکار کر دیتے ہیں ان کا رد اورقبول کا پیمانہ صرف اور صرف بائبل اور اس کے متعلقات ہیں، کچھ کیفیت اس شعر کے مصداق :
خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
(۱۷)آیات۶۱ تا۶۵ ابلیس کے تکبر، آدم کے آگے سجدہ کرنے سے انکار، بنی نوع انسان کے دشمن ہونے اور ان کو گمراہ کرنے پر مشتمل ہیں ، گو اس صراحت کے ساتھ کہ ابلیس صرف شر کی ترغیب دے سکتا ہے، اس کو انسان پر کوئی قدرت یا اختیار مطلق نہیں اور متقی اہل ایمان شیطان کے وسوسے سے محفوظ اور مامون رہتے ہیں ۔ان فضلاء کی رائے میں یہ پورا بیا نیہ سریانی زبان میں ساتویں صدی عیسوی کے ایک عیسائی صحیفےThe Cave of Treasures سے مستعار ہے(۳۰)۔ یہ تحریر مخطوطے کے طور پر گو شۂ گمنامی میں رہی اور۱۸۸۳ء میں پہلی مرتبہ اس کا جرمن ترجمہ شائع ہوا۔مستشرقین کے ان قیاسات کی بنیاد پر تصویر کچھ یہ بنتی ہے کہ ساتویں صدی کے اُمی نبی محمدؐ رسول اللہ کا ایک انتہائی وسیع کتب خانہ تھا جس میں سریانی، آرا مائی، حبشی، عبرانی اور دیگر قدیم زبانوں کے تمام قلمی مخطوطات دستیاب تھے اور وہ کسی ہفت زباںفاضل محقق کی مانند ان کے مطالعے میں مستغرق رہتے اور گہر آبدار تلاش کر کے ان کی بنیاد پر نعوذ باللہ قرآن مجید کی تصنیف میں مصروف رہتے۔ آپؐ کی سیرت طیبہ کے روز و شب کے تمام کو ائف بالاستیعاب چشم دید مشاہدین صحابۂ کرام نے فراہم کیے ہیں۔ اوائل ساتویں صدی کے مکہ ؍حجاز میں علم اور تحقیق تو کجا، خواندگی کی سطح برائے نام تھی اور آپؐ کا مطلق نا خواندہ ہونا ایک بدیہی حقیقت ہے ۔ اس صورت میں آپؐ کی نسبت غیر زبانوں کے ایسے ناقابل رسائی مآخذ کی نشاندہی محض ایک فعل عبث ہے۔
(۱۸) آیات:۶۶ اور۶۷ نعمت الٰہی سے بھی متعلق ہیں اور انسان کے کفریہ رویہ سے بھی :
رَّبُّکُمُ الَّذِی یُزْجِی لَکُمُ الْفُلْکَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِہِ إِنَّہُ کَانَ بِکُمْ رَحِیمًا ۔وَإِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِیَّاہُ فَلَمَّا نَجَّاکُمْ إِلَی الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَکَانَ الْإِنسَانُ کَفُورًا .
تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ وہ تمہارے اوپر بہت ہی مہربان ہے ۔اور سمندروں میں مصیبت پہنچتے ہی جنہیں تم پکارتے تھے سب گم ہوجاتے ہیں صرف وہی اللہ باقی رہ جاتا ہے۔ پھر جب وہ تمہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم منھ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔
زبور میں یہ سرسری اشارہ ہے:
’’دیکھو یہ بڑا اور چوڑا سمندر جہاز اس میں چلتے ہیں‘‘۔
(زبور۱۰۴:۲۵-۲۶) (۳۱)
محض اس برائے نام مماثلت کے پیش نظر ان فضلاء کا اصرار ہے کہ مذکورہ بالا قرآنی آیات زبور کا عکس ہیں(۳۲) ۔زبور کی عبارت میں نہ ذکر ، فضل الٰہی کا ہے، نہ اللہ کی قدرت اور ربوبیت کا، نہ حفاظت اور سر پرستی کا اور نہ انسان کی عام احسان فراموشی کی روش کا ۔ لیکن ان سب کے باوصف اعتراض یہی ہے کہ قرآن مجید میں کوئی ندرت ،کوئی جو دت نہیں، یہ محض بائبل کی نا کام نقل ہے ۔ العیاذ باللہ !
(۱۹)آیت:۷۰فضیلت بنی آدم کے بارے میں ہے:
وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ وَحَمَلْنَاہُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاہُم مِّنَ الطَّیِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاہُمْ عَلَیٰ کَثِیرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیلًا.
یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔
ان فضلاء کی تحقیق کے بموجب یہ بائبل کے ان جملوں سے مستعار ہے(۳۳):
’’ تو نے اسے (آدم زاد)کو خدا سے کچھ ہی کمتر بنا یا ہے اور جلال اور شوکت سے اسے تاجدار کرتا ہے‘‘۔ (زبور۸:۵)(۳۴)
بائبل کا بیان خاصا مبالغہ آمیز ہے۔ انسان کا خدا سے تقریبا ہم سر ہونا اور شوکت اور جلال کا حامل ہونا تعلّی سے مملوہیں ۔ قرآن مجید میں جا بجا انسان کی عبدیت، اللہ رب العالمین پر اس کے کلی انحصار اور اسی باعث تذلل اور تو کل پر قائم رہنے کی تاکید کا سبق ہے جو کہ بائبل کی مذکورہ بالا عبارت میں مفقود ہے ۔
(۲۰)یہ فضلاء قرآن مجید کی توقیفی ترتیب پر بھی معترض ہیں(۳۵)۔ اللہ تبارک و تعالی کی ہدایت کے مطابق محمدؐ رسول اللہ نے کاتبین وحی اور صحابہ کرام کو ہدایت کی کہ وحی الٰہی کو کس ترتیب کے مطابق مدون کیا جائے اور قرآنی سورتوں کا کیا شمار نمبر ہو ۔ قرآن مجید کی ترتیب نزولی نہیں ہے ۔یہ حکمت الٰہی مستشرقین کے لئے ناقابل فہم ہے ۔ جے ۔ ایم ۔ راڈ ویل( J.M Rodwell) ۱۸۰۸ء-۱۹۰۰ء اور رچرڈ بیل (Richard Bell ) ۱۸۷۶ء-۱۹۵۲ء تو ایسے دیدہ دلیر انگریزی مترجمین قرآن مجید ہوئے کہ انھوں نے اپنے انگریزی تراجم علی الترتیب ۱۸۶۱ء اور۱۹۳۷ء تا۱۹۳۹ء میں قرآن مجید کے متن کی ترتیب ہی مسخ کر دی اور توقیفی کے بجائے نزولی ترتیب کو اختیار کیا ہے(۳۶)۔ایک مذہبی گروہ کی مقدس کتاب میں ایسی جسارت آمیز مداخلت ان کے تکبر اور احساس تفوق کی غماز ہے۔
زیر مطا لعہ تفسیر کے مصنف ان دونوں فضلاء کا یہ فیصلہ ہے کہ سورہ الاسراء آیت ۸۱ پر ختم ہے ۔آیات ۸۲ تا ۱۱۱ بعد میں داخل کردی گئیں جو کہ ایک سقم ہے ۔ ان خود ساختہ جامعین قرآن مجید نے اس اعتراض کی تکرار ایک اور مقام پر اپنی تفسیر میں کی ہے۔
(۲۱)آیت۸۲ میں قرآن مجید کو اہل ایمان کے حق میں شفاء اور رحمت سے تعبیر کیا گیا ہے :
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ہُوَ شِفَاء ٌ وَرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِینَ وَلَا یَزِیدُ الظَّالِمِینَ إِلَّا خَسَارًا .
یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے۔ ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی۔
یہاں بھی ان فضلاء نے بائبل کے ایک غیر متعلق اقتباس کا حوالہ دیتے ہوئے فاتحانہ انداز میں یہ دعوی کیا ہے کہ قرآنی بیان بائبل کا چربہ ہے (۳۷)جب کہ در حقیقت بائبل کے اس محولہ اقتباس میں روداد ہے ایک معجزے کی کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل تین دن کے سفر کے بعد مارہ پہنچے ۔چوں کہ دوران سفرا نہیں پانی نصیب نہیں ہوا تھا ۔مارہ میں قدرۃ وہ پانی کی جانب لپکے لیکن وہ:
’’ مارہ کا پانی پی نہ سکے کیونکہ وہ کڑوا تھا ۔ اسی لئے اس جگہ کا نام مارہ پڑ گیا ۔ موسیؑ نے خداوند سے فریاد کی ۔ خداوند نے ا سے ایک پیڑ دکھایاجسے جب اس نے پانی میں ڈالاتو پانی میٹھا ہو گیا ‘‘۔(خروج ۱۵:۲۲-۲۵، ص ۶۸)
بائبل اور قرآن مجید کے مذکورہ بالا دونوں بیانات کے مقصود مختلف ہیں، ان کو ایک دوسرے کا مماثل قرار دینا یا اسے قرآنی آیت کی بنیاد پر محمول کرنا ان فضلاء کی کم علمی پر دلالت کرتا ہے۔
(۲۲)آیت۹۹ اللہ کی قوت قاہرہ اور کاملہ کا اعلان ہے ۔سورہ البقرہ ۲:۲۵۵ معروف بہ آیت الکرسی میں یہ صراحت ہے کہ اللہ کو غنودگی یا نیند لاحق نہیں ہوتی ۔ بائبل میں اس کے بر خلا ف تخلیق کے ساتویں دن یوم السبت Sabbathکوخدا نے آرام کیا (پیدائش ۲:۲-۳)۔اس تضادپرپردہ ڈالنے کے لئے ان فضلاء نے زبور کی اس عبارت کا حوالہ دیا ہے:
’’دیکھ اسرائیل کا محافظ نہ اونگھے گا نہ سوئے گا‘‘۔(زبور۱۲۱:۴)(۳۸)
یہاں آفاقی خدا کو جو کہ رب العالمین ہے، صرف اسرائیل کے محافظ کے طور پر محدود کر دینا نہایت معیوب بلکہ خدا کی شان میں گستاخی ہے جس پر ان فضلاء نے کوئی لب کشائی نہیں کی ہے ۔قرآن مجید میں خدا صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ ہر ہر عالم کے ہر ہر مخلوق کا رب اور مالک ہے ،اسے عرب سے کوئی خصوصی نسبت نہیں ہے۔
(۲۳)آیت۱۰۱ میں فرمان الٰہی ہے کہ اللہ نے موسیؑ کونو معجزے عطا کئے۔ ان فضلاء نے اپنی دانست میں قرآن مجید کی یہ اصلاح کی ہے کہ بائبل میں دس معجزات مذکور ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر ان کا سنگین اور شنیع اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید میں یہ سارے معجزے اللہ سے منسوب ہیں جب کہ بائبل کے مطابق تین معجزات ہارون ؑ، تین موسیؑ اور صرف تین خدا نے بپاکئے تھے۔دسواں معجزہ ہارونؑ، موسی ؑاور خدا کی مشترک کاوش تھا۔ ( کتاب خروج ،باب۷،۸ ،۱۰ اور ۱۱)(۳۹) ۔ بائبل کے ایک فاضل اسپیر Speyer نے بھی اسی نکتے کا بڑے شدو مد سے اعادہ کیا ہے۔(۴۰)
(۲۴)آیت ۱۰۴میں قول الٰہی ہے:’’ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اس سرزمین پر تم رہو ‘‘۔ یہ فضلاء اس پر معترض ہیں کہ قرآن مجید نے بنی اسرائیل کی تاریخ بیان کرنے میں غیر معمولی اختصار سے کام لیا ہے۔حیرت ہے کہ ان پر یہ بد یہی حقیقت روشن نہیں کہ قرآن کا موضوع اور مخاطب کل کی کل اور ہمیشہ ہمیش کی نوع انسان ہے۔ اس میں تاریخ اور جغرافیہ کی تفصیلات بڑی حد تک غیر متعین ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ابدی پیغام ساتویں صدی عیسوی یا اس سے ما قبل تک محدود نہیں ہے ۔ قریش ؍حجاز اور عرب تک کے حوالے چند ہی ہیں جب کہ بائبل کا محور اول تا آخر بنی اسرائیل اور ان کی تاریخ ہے ۔ ان کے تصور خدا تک کی شناخت نسلی ہے یعنی ہر مقام پر اسے صرف بنی اسرائیل کے خدا کے طور پر متعارف کیا گیا ہے ۔کسی غیر اسرائیلی کے لیے بائبل کا مطالعہ انتہائی صبر آزما اور ہمت شکن ہے کہ پورا بیانیہ صرف ایک نسل کے ارد گرد محصور ہے اور کسی غیر اسرائیلی کی اس میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔اس کے برخلاف قرآن مجید کا دائرہ آفاقی ہے اور اس کے محتویات آج بھی اتنے ہی حسب حال ہیں جیسے نزول قرآن مجیدکے دور یعنی ساتویں صدی عیسوی میں تھے۔
(۲۵)آیت:۱میں ’’مسجد اقصیٰ کے آس پاس اللہ کی برکت‘‘،مذکور ہے۔ یہ تقدس اسے متعدد انبیائے کرام کے مسکن اور مدفن ہونے کی نسبت سے حاصل ہے ۔ان مستشرقین میں بائبل کے زیر اثر اللہ کی تجسیم کا تصور ایسا راسخ ہے کہ مذکورہ بالا قرآنی عبارت ان کو بائبل کے اس جملے کے مثل نظرآتی ہے (۴۱):
’’اور روح نے مجھے (حزقی ایل نبی)کو اٹھالیا اور میں نے اپنے پیچھے ایک بڑی کڑک کی آواز سنی جو کہتی تھی کہ خداوند کا جلال اس کے مسکن سے مبارک ہو‘‘۔(حزقی ایل۳:۱۲)(۴۲)
قرآن مجید میں خدا کی کڑک اور مسکن کا مطلق کوئی حوالہ نہیں لہذا ان دونوں عبارتوں کو مماثل قرار دینا محض خام خیالی ہے۔
(۲۶)آیات ۴تا ۸ میں بنی اسرائیل کے دوبار فساد برپا کرنے اور اس کی پاداش میں بیت المقدس کی بے حرمتی اور بنی اسرائیل کی ذلت بطور عبرت درج ہے۔ اس ناقابل تردید حقیقت پر کسی تبصرے کے بجائے ان فضلاء نے حیلہ سازی یہ کی ہے کہ اپنے اس استعجاب کا اظہار کیا ہے کہ قرآن مجید کو مکہ؍کعبہ سے کوئی سروکار نہیں اور تذکرہ صرف ان اشخاص اور مقامات کا ہے جو بائبل کے حوالے سے معروف ہیں(۴۳)۔گویا قادر مطلق اللہ رب العالمین کو قرآن مجید کے اپنے ابدی پیغام میں صرف مقامی حالات اور ظروف( مکہ؍کعبہ ؍ قریش) پر قناعت کرنا چاہئے تھا۔تکذیب حق میں انسان کا ذہن کہاں کہاں بھٹک جاتا ہے۔
(۲۷)آیت ۴۲میں اللہ کے لیے لقب’’ذی العرش‘‘ آیا ہے۔ ان فضلاء کا اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید میں کہیں صاحب عرش کے خدوخال واضح نہیں ہوتے ،محمدؐ رسول اللہ کی رویت الٰہی ثابت نہیں ہوتی جب کہ بائبل کے مطابق یسعیاہ نبی کو یہ شرف حاصل ہوا(۴۴):
’’جس سال میں عزّیاہ بادشاہ نے وفات پائی ،میں نے خداوند کو ایک بڑی بلندی پر اونچے تخت پر بیٹھے دیکھا اور اس کے لباس کے دامن سے ہیکل معمور ہوگئی‘‘۔ ( یسعیاہ ۶:۱، ص۶۶۵)
قرآن مجید میں رویائے الٰہی کا فقدان ان کی دانست میں ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ اسلام تجسیم خداوندی کا مطلق قائل نہیںلیکن یہ فضلاء اس حقیقت کے ادراک سے قاصر ہیں۔ان کے مطابق یسعیاہ نبی کی رویت میں زمان کی بھی صراحت ہے اور یہ مفصل بھی ہے ۔اس کے برعکس سورہ النجم میں کوئی زمانی تحدید نہیںاور رسول کو وحی بواسطہ موصول ہوئی ،جب کہ رسول رویائے الٰہی سے محروم رہا۔
(۲۸)سورہ النجم آیات ۵ تا ۱۰ میں فرشتۂ وحی جبرئیلؑ کا مفصل بیان ہے اور ان کے اوصاف کا حال ہے لیکن ان فضلاء کی نظر میں بائبل کا یہ بیان زیادہ لطیف ہے:’’خدا کی روح پانی کی سطح پر جنبش کرتی تھی‘‘۔(پیدائش۱:۱)۔قرآن مجید میں روح القدس کی اس شبیہ کی غیر موجودگی ان کی دانست میں ایک سقم ہے(۴۵) ۔سورہ النجم میں جبرئیلؑ کی مفصل حرکات اور سکنات سے ان فضلاء کی پہلو تہی بظاہر ناقابل توجیہ ہے اور ان کا اعتراض صرف برائے اعتراض کے ذیل میں آتا ہے۔
(۲۹)ان فضلاء نے سورہ الاسراء میں معراج کے بیانیے کے با لمقابل بائبل کی اس عبارت کا حوالہ دیا ہے ،جس میں حزقی ایل نبی نے اپنے رویائے الٰہی کی تفصیلات بقید زمان و مکان بیان کی ہیں(۴۶):
’’اور چھٹے برس کے چھٹے مہینے کی پانچویں تاریخ کو یوں ہوا کہ میں اپنے گھر میں بیٹھا تھا اور یہوداہ کے بزرگ میرے سامنے بیٹھے تھے کہ وہاں خداوند خدا کا ہا تھ مجھ پر ٹھہرا تب میں نے نگاہ کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شبیہ آگ کی مانند نظر آتی ہے… اس نے ایک ہاتھ کی سی شبیہ سی بڑھا کر میرے سر کے بالوں سے مجھے پکڑا اور روح نے مجھے آسمان اور زمین کے درمیان بلند کیا اور مجھے الٰہی رویا میں یروشلم میں شمالی پھاٹک پر جہاں غیرت کی مورتی کا مسکن تھا جو غیرت بھڑکاتی ہے آئی اور کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں اسرائیل کے خدا کا جلال اس رویا کے مطابق جو میں نے اس وادی میں دیکھی تھی موجود تھی۔ تب مجھ سے اس نے فرمایا…‘‘۔ (حزقی ایل۸:۱-۲اور۳-۵)(۴۷)
بائبل کے اس اقتباس میں تجسیم خداوندی، خدا کے اسرائیل کے خدا ہونے کی تصریح، اور یروشلم کی تقدیس اور مرکزیت اور مورتی کی موجودگی قابل غور ہیں ۔ ایسی خرافات کے پروردہ یہ فضلاء سورۃ الاسراء کے حشو وزوائدسے پاک بیان سے قدرۃ ناخوش اور غیر مطمئن ہیں ۔
(۳۰)سورۃ الاسراء ہجرت مدینہ سے ایک سال قبل آخر مکی دورمیں نازل ہوئی، انداز ا ً ۶۲۲ء میں۔سیرۃ طیبہ کو مطعون کرنے کے مقصد سے مغلوب ان فضلاء نے یہ شوشہ چھوڑا ہے کہ چونکہ ۶۱۴ء میں سا سانیوں کی یروشلم پر یلغار کے نتیجے میں عیسائی یروشلم پر اقتدار سے معزول کردیے گئے تھے اور فاتحین نے شہر کا انتظام وقتی طورپر یہودیوں کی ایک مجلس شوری کے سپرد کر دیا تھا ،محمدؐ رسول اللہ نے اس غیر یقینی سیاسی صورتحال اور عدم استحکام کا فائدہ اٹھانے کی غرض سے اس سورہ کے ذریعے مسجد اقصی؍یروشلم پر اپنا دعوی پیش کر دیا (۴۸)۔ اگر اس الزام میں کوئی صداقت ہوتی تو محمدؐ رسول اللہ مدنی دور میں یروشلم پر فتح اور قبضے کی کوئی شش کرتے کہ اس دور میں آپؐ کی قیادت میں مسلم فوج اور وسائل اس غزوہ کے عین متحمل تھے لیکن امرواقعہ یہ ہے کہ عالم عرب اور اس سے متصل علاقوں پربتدریج اسلام کا غلبہ ہوتا گیا اور اسی سلسلۂ فتوحات میں خلیفہ ثانی عمرؓ کے دور میں۶۳۸ء میں برضا و رغبت یروشلم کے عیسائیوں نے بغیر قتل و خون کے سپر اندازی کی۔ یہ واقعہ وفات نبوی کے ۱۵؍ سال بعد پیش آیا مگران فضلاء کا سوئے ظن یہ ہے کہ آپؐ نے یروشلم پر قبضے کا منصوبہ ۶۱۴ء ہی میں بنا لیا تھا۔مستشرقین بالعموم رسول اکرمؐ کو ایک طالع آزما شخصیت کے طور پر مسخ کر کے پیش کرتے ہیں جس نے مذہبی،سیاسی، قبائلی، معاشرتی اور عسکری عوامل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار کلی حاصل کر لیا ۔
(۳۱) قرآن مجید نے یہودیوں کی نسبت سے’’ الارض المقدسۃ‘‘ (المائدہ۵ : ۲۱)واد ی سینا کو ’’مقدس‘‘ (طہ۲۰:۱۲) اورکوہ طور کی سر زمین کو’’البقعۃ المبارکۃ‘‘ (القصص۲۸:۳۰)سے ملقب کیا ہے ۔ یہ اعزاز و اکرام موحدبنی اسرائیل اور کلیم اللہ موسیٰ کی بدولت ہے ،اسی کے پہلو بہ پہلو قرآن مجید نے طاغی اور باغی بنی اسرائیل کے معاصی اور خباثتوں کا بھی پردہ چاک کیا ہے کہ اللہ منصف مطلق ہے لیکن بنی اسرائیل سے متعلق ’’مقدس‘‘اور’’با برکت‘‘الفاظ کو ان فضلاء نے یہ فتنہ پرور معنی پہنائے ہیں کہ محمد ؐرسول اللہ یہو دیت سے نفسیاتی طور پر مرعوب رہے(۴۹)۔قرآن مجیدکی اس انصاف پسندی کوانھوں نے رسول اکرمؐ کی بشری کمزوری سے منسوب کر دیا ہے۔
(۳۲)آیت ۴میں اللہ کا اعلان ہے:
وَقَضَیْنَا إِلَیٰ بَنِی إِسْرَائِیلَ فِی الْکِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْأَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیرًا .
ہم نے بنی اسرائیل کے لئے ان کی کتاب میں صاف فیصلہ کردیا تھا کہ تم زمین میں دوبار فساد برپا کرو گے اور تم بڑی زبردست زیادتیاں کرو گے ۔
آیات۵اور۷ میں یہود بشمول ہیکل کی ذلت آمیزتباہی کی داستان ہے،ا س کے باوصف بھی ان فضلاء نے کج بحثی یہ کی ہے کہ قرآن مجید نے یہودیوں کو قصور وار نہیں قرار دیا ہے (۵۰)۔یہ صریحا ًغلط بیانی ہے کیونکہ آیت۴ میں صراحت ہے:’’تم (اے بنی اسرائیل) بڑی زبردست ز یاد تیاں کرو گے‘‘ ۔
(۳۳) ان فضلاء نے تفاخر کے ساتھ دعوی کیا ہے کہ قرآ ن مجید کی اساس بائبل میں پہلے سے درج احکام عشرہ اور قصص الانبیاء پر ہے جیسا کہ اس سے قبل مذکور ہوا(۵۱)۔احکام قرآنی اور احکام عشرہ میں نمایاں فرق ہے۔قرآن مجید میں احکام قرآنی اپنی غیر محرف صورت میں ہیں۔ اسی کا اطلاق قصص الانبیاء پر بھی ہوتا ہے ۔ قصص قرآنی میں کسی ایسے غیراخلاقی ،غیر منطقی عنصر کی آمیزش نہیں جس سے بائبل میں مذکورہ قصص آلودہ ہیں(۵۲)۔
(۳۴) سورۃ الاسراء میں مذکور احکام قرآنی(آیات۲۲تا۲۹)اور توریت کے احکام عشرہ میں فرق کی ان فضلاء نے یہ شر انگیز تشریح کی ہے کہ محمد ؐرسول اللہ نے موسیٰ سے رقابت سے مغلوب ہو کر اور ان کو کم تر ثابت کرنے کے لئے یہ احکام پیش کئے۔ رسالت کا صحیح تصور نہ اختیار کرنے سے عقل کیسے مسخ ہو جاتی ہے مذکورہ بالا تا ثراسی کا شاخسانہ ہے۔
(۳۵) ان فضلاء کا یہ موقف بھی ہے کہ تو ریت کے احکام عشرہ کے بالمقابل سورۃ الاسراء میں مذکور احکام قرآنی میں مقامی رنگ کا عمل دخل ہے اور نزول قرآن مجید کے دور میں عرب معاشرے میں جو مسائل درپیش تھے ،ان سے نبرد آزما ہونے کی کوشش ملتی ہے مثلا مفلسی کے خوف سے قتل اولاد کی ممانعت(آیت:۳۱)، قتل کے معاملے میں وارث کو قصاص یا دیت کا حق(آیت:۳۲)اور تکبر کی مذمت(آیت:۳۷)(۵۳)۔طرفہ تماشا یہ ہے کہ ان نئے احکام کو قرآن مجید کی حقانیت یا ابدی پیغام سے تعبیر نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان کو مقامی پس منظر کا زائیدہ قرار دے کر ان کی تضعیف کی گئی ہے۔
(۳۶)ان فضلاء کا دل آزار تجزیہ ہے کہ سورہ الاسراء میں تو ریت کے احکام عشرہ کی ترتیب نو بطور شارع اللہ کو متعارف کرنے اور قدیم عربی شاعری کے لوازمے کو چابک دستی کے ساتھ استعمال کرنے کے ذریعے محمدؐ رسول اللہ نے اپنے آپ کو با اختیار بنانے کی حکمت عملی اپنائی (۵۴)۔
(۳۷) ان فضلاء کی رائے میں سورہ الاسراء قرآن مجید میں نقطہ آغاز ہے موسیٰ سے محمدؐ رسول اللہ کی ہمسری بلکہ برتری کے دعوی کا اور اس کے بعد نازل شدہ سورتوں میں یہ رنگ اور گہرا ہو گیا ہے اور موسیٰ کا استخفاف نمایاں ہے۔ ان کا الزام یہ بھی ہے کہ ہر چند اس سورہ میں موسیٰ کو عطا کردہ احکام عشرہ کو نقل کر دیا گیا ہے لیکن ان سے موسیؑ کی نسبت کو پردۂ خفاء میں رکھا گیا ہے اور احکام عشرہ کو وحی الٰہی سے منسوب کر دیا گیا ہے(۵۵)۔ا ن فضلاء کی یہ شر انگیز تفریق (وحی الٰہی اور موسیٰ اور موسیٰ اور محمدؐ رسول اللہ کے مابین) اسلام؍قرآن مجید اور رسول اکرم سے ان کے بغض و عناد کی آئینہ دار ہے۔ یہ نکتہ بھی کسی عجوبے سے کم نہیں کہ ۷۰؍ صفحات کو محیط سورہ الاسراء کی اس مغربی تفسیر میں محمدؐ رسول اللہ کا اسم گرامی ایک جگہ بھی نہیں آیا ،ہر جگہ حوالہ محض ایک بے نام ’’نقیب‘‘یا ’’نامہ بر ‘‘کا ہے ۔ قرآن مجید اور سیرت طیبہ سے متعلق ۲۰۲۴ء میں مغربی تحقیق اور علم وفضل کے مظہر ۲۰۰۷ء یعنی گزشتہ ۱۷؍ سال سے جاری اس بظاہر عظیم الشان تحقیقی منصوبے کا یہ عالم ہے!
ایسے ظالم کا کیا کرے کوئی
٭٭٭٭
حوالے اور حواشی
٭اس مقالے سے متعلق دو صراحتیں لازم ہیں:
(۱)’’ نقل کفر کفر نہ باشد‘‘کے اصول کے تحت مستشرقین کے اسلام ؍قرآن مجید اور سیرت طیبہ سے متعلق انتہائی دل خراش ، کفریہ جملے علمی ضرورت کے باعث نقل کئے گئے ہیں۔ ان کی نقل میرے لئے اور ان کا مطالعہ قارئین کے لئے یقینا سوہان روح ہے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں معاف فرمائے ۔ ان اقوال کے اقتباس کے بغیردفاع اسلام کا فریضہ انجام نہیں پاتا ۔ توقع ہے کہ قارئین اس سے درگزر کریں گے ۔
(۲)مقالے میں جابجا بائبل اور قرآن مجید کے اقتباسات ان مصادر سے منقول ہیں:
(i) بائیل:کتاب مقدس ، بنگلور،بائبل سوسائٹی آف انڈیا،۲۰۱۵ء
(ii) قرآن مجید :قرآن کریم مع اردو ترجمہ و تفسیر از مولانا محمد جونا گڑھی ،مدینہ ،شاہ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس،۱۴۱۹ھ
(۱)یوحنا د مشقی(John of Damascus)اور قرون وسطی کے تعصبات اور اتہامات کو اس منصف مزاج مغربی فاضل نے دستا و یزی شکل میں محفوظ کر دیا ہے ۔
Norman Daniel, Islam and the West: The Making An Image. Oxford, Oneworld, 1993.
یوحنا؍یحییٰ دمشقی کی فتنہ پروری کے لیے ملاحظہ کریں:
عبدالرحیم قدوائی،’’یحییٰ دمشقی:اولین عیسائی سیرت نگار‘‘،کتاب وحکمت،جولائی-ستمبر ۲۰۲۵ء، ص ص۸۱-۸۶
(۳)استشراق کی اس قابل نفریں روایت کی تاریخ کے لئے مطالعہ کریں:
- Matthew Dimmock, Mythologies of the Prophet Muhammad in Moderen English Culture, Cambridge, 2013
- John Tolan, Faces of Muhammad, Princeton, 2019
- Frederick Quinn, The Sum of All Heresies: The Image of Islam in Western Thought, Oxford, 2008
- Abdur Raheem Kidwai, Images of the Prophet Muhammad in English LiteratureNew York, 2018.
- Muhammad Mustafa Al-Azami, The History of the Quranic Text, Leicester, 2003
- M. Mohar Ali, The Quran and the Orientalists. Norwich, UK, 2004.
(۴) اس منصوبے سے متعلق تمام تفصیلات اور اس کے زیر ا ہتمام مطبوعات اس ویب سائٹ پر دستیاب ہیں : https://
corpus coranicum.de/en/about
اس منصوبے کے تعارف کے لئے دیکھئے:
٭عبدالرحیم قدوائی،’’کورپس قرآنکیم:قرآنیات سے متعلق مستشرقین کا حالیہ علمی محاذ‘‘مشمولہ عبدالرحیم قدوائی،اسلام اہل مغرب کی نظر میں،مرتب:رفیق احمد رئیس سلفی،علی گڑھ،ادارۂ تحقیق وتصنیف اسلامی،۲۰۲۳ء،ص ص۴۱-۶۴۔ - Oliver Leaman, “The Corpus Coranicum Project and the Issue of Novelty”, Journal of Quranic Studies, 15:2 (2013), 142-148.
(۵)اس کی تفصیل کے لئے یہ مقالے دیکھیں جن سے قرآن مجیدکے متن کا استناد بذریعہ Carbon dating اور قرآن مجید کے اولین نسخوں سے ثابت ہے: - عبد الرحیم قدوائی ،’’قرآن مجید کی صحت اور حفاظت :ایک دستاویزی تحقیق ‘‘، مشمولہ جہات قرآنیات از عبد الرحیم قدوائی ،علی گڑھ ا،دارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ۲۰۲۴ء ،ص ص۶۶-۷۲
-عبداللہ الخطیب اور عبدالرحیم قدوائی،’’لائیڈن یونیورسٹی میں قرآن مجید کا قدیم مخطوطہ‘’،مشمولہ جہات قرآنیات از عبدالرحیم قدوائی، حوالہ مذکورہ بالا ، ص ص۷۳- ۷۶
)6( Corpus Coranicum Commentary Commentary Oview. Sura 17 Translated and Analyzed by Dirk Hartwig and Angelika Neuwirth
(7) https://corpuscoranicum.de/en
)مخففVerse- navigator/sura/17/, P.16. (Surah17
(۸)حواشی کی ابتداء میں بائبل کے اس ایڈیشن کے اشاعتی کوائف درج ہیں جن سے یہ اقتباسات منقول ہیں۔ ہراقتباس کا صفحہ نمبر قوسین میں درج ہے ۔
(۹)Surah17 ،ص۱۷
(۱۰) Surah17 ،ص۱۷
(۱۱)Surah17 ،ص۱۸
(۱۲)Surah17 ،ص۱۸
(۱۳)Surah17 ،ص۱۹
(۱۴)Surah17 ،ص۲۴
(۱۵)Surah17 ،ص۲۵
(۱۶)Surah17 ،ص۲۵
(۱۷) کتاب مقدس ،ص ۷۲
(۱۸) قرآن مجید،سورہ الاسراء،آیات ۲۲ تا ۳۹ ،اردو ترجمہ از محمد جوناگڑھی
(۱۹)Surah17 ،ص۲۵
(۲۰) مقدس کتاب ، ص ص ۶۸-۶۹
(۲۱)Surah17 ،ص۲۸
(۲۲) عبد الرحیم قدوائی ، ’’معذور افراد سے حسن سلوک‘‘،مشمولہ جہات قرآنیات از عبد الرحیم قدوائی ، ص ص۳۶-۴۴
(۲۳)Surah17 ،ص۲۸
(۲۴) ایضاً،ص۲۸
(۲۵) ایضاً،ص۲۹
(۲۶) ایضاً،ص۳۱
(۲۷) ایضاً،ص۳۱
(۲۸) ایضاً،ص ۳۱
(۲۹) ایضاً،ص ۳۲
(۳۰) ایضاً،ص ۳۲
(۳۱) مقدس کتاب،ص۵۸۹
(۳۲) Surah17 ،ص۳۳
(۳۳) ایضاً،ص۳۳
(۳۴) مقدس کتاب،ص۵۳۲
(۳۵) Surah17 ،ص۳۴
(۳۶) ان اور دیگر انگریزی تراجم قرآن پرمحاکمے کے لئے دیکھئے: - Abdur Raheem Kidwai, Bibliography of the Translations of the Meaning of the the Glorious Quran into English. : 1649-2002. Madina , Saudi Arabia, King Fahad Quran Printing Complex, 2007.
*Translating the Untranslatable: A Critical Guide to 60 English Translations of the Quran, NewDelhi,Sawrup
and Sons.2011 - God’s Ward, Man’s Interpretations: A Critical Study of the 21st Century English Translations. New Delhi, Viva Books,2018.
(۳۷)Surah17 ،ص۳۴
(۳۸) مقدس کتاب،ص۶۰۵
(۳۹)Surah17 ،ص۳۸
(۴۰)Heinrich Speyer,The Biblical Narratives in the Quran.Darmstadt,Germany
(۴۱)Surah17 ،ص۴۰
(۴۲) مقدس کتاب ، ص۷۸۰
(۴۳)Surah17 ،ص۴۱
(۴۴) ایضاً،ص۴۴
(۴۵) ایضاً،ص۴۴
(۴۶) ایضاً،ص۴۶
(۴۷) مقدس کتاب،ص۷۸۴
(۴۸) Surah17 ،ص۴۶
(۴۹) ایضاً،ص۴۹
(۵۰) ایضاً،ص۴۹
(۵۱) ایضاً،ص۵۳
(۵۲) بائبل اور قرآن مجید میں قصص انبیاء میں فرق اور قرآنی بیانیے کی منطقی پیش کش اور اخلاقی رفعت کے لئے دیکھئے:
٭رحمت اللہ کیرانوی کی اظہار الحق کا اردو ترجمہ:بائبل سے قرآن تک،دیوبند حافظی بک ڈپو،۱۹۹۳ء ،۳ جلدوں میں
٭ عبد الرحیم قدوائی،’’قصۂ یوسف تو ریت اور قرآن مجید میں:ایک موازنہ ‘‘، مشمولہ جہات قرآنیات ،علی گڑھ، ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ،۲۰۲۴ء، ص ص ۴۷-۶۵
٭عبدالرحیم قدوائی،’’حضرت اسماعیلؑ کی شخصیت-بائبل اور قرآن میں ‘‘،تحقیقات اسلامی، اپریل-جون ۲۰۲۵ء،ص ص۲۷-۴۶
٭عبدالرحیم قدوائی،’’بائبل اور قرآن مجید میںآدمؑ اور حوّا کے بیانیے:ایک موازنہ‘‘،معارف، ستمبر ۲۰۲۵ء،ص ص۵-۲۱
(۵۳) Surah17 ،ص۵۶
(۵۴) ایضاً،ص۵۸
(۵۵) ایضاً،ص۶۵،۶۶،۶۷ اور ۶۸۔
٭٭٭٭٭

