اللہ پرایمان اسلام کے نظامِ عقائد کا بنیادی عقیدہ ہے۔ اس پر یقین کے بغیر دعوائے اسلام بے حقیقت ہے۔ اللہ پر ایمان یہ ہے کہ اللہ اس کائنات کی بدیہی حقیقت ہے۔ اللہ کہتا ہےکہ اس کا کوئی ہمسر نہیں اور نہ کوئی اس کا شریک ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے اور نہ کوئی اس سے پیدا ہوا ہے۔ کائنات اور اس میں پائی جانے والی ہرشے اللہ ہی نے تخلیق کی ہے اور انسان کو بھی خصوصیت سے اُسی نے پیدا کیا ہے۔
اللہ نے انسان کو برگزیدہ اور خاص انسانوں (پیغمبروں) کے ذریعے کرۂ ارض پر زندگی بسرکرنے کا طریقہ سکھایا ہے۔ اس عقیدے کا فطری تقاضا یہ ہے کہ اس کائنات اور اس کی تمام موجودات اور انسان کو اللہ اور صرف اللہ ہی کا تخلیق کردہ تسلیم کیا جائے۔ قرآن حکیم میں اس بات کو جگہ جگہ بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ سجدہ آیات ۴،۵ میں فرمایا: وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں، چھے دنوں میں پیدا کیا اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ سورۂ روم آیت ۸ میں بیان ہے: کیا انھوں نے کبھی اپنے آپ پر غوروفکر نہیں کیا؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں برحق اور مدت مقررہ کے لیے پیدا کیا ہے۔
انسان کی تخلیق کے بارے میں خصوصیت سے سورۂ اعراف آیت ۱۰؍ میں بیان ہے:ہم نے تمھاری (انسان کی) تخلیق کی ابتدا کی، پھر تمھاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو۔ آگے آیت ۱۸۹ ؍میں فرمایا : وہ اللہ ہی ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرسکے۔ سورۂ فاطر آیت ۱۱ ؍میں وضاحت اس طرح کی گئی : اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر تمھارے جوڑے بنائے، کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب اللہ کے علم میں ہوتا ہے‘‘۔ بلاشبہ اللہ رب العزت نے ہی انسان کو تخلیق کیا ہے۔
فرشتوں کو تخلیقِ انسان سے مطلع کرنا
قرآن میں ہے: اور جب تمھارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والاہوں۔ اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے۔پھر اللہ نے آدم سے کہا: تم انھیں (فرشتوں کو) ان چیزوں کے نام بتائو۔ پھر ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم ؑ کے آگے جھک جائو۔(البقرہ ۳۰-۳۴)۔ اللہ نے فرشتوں کو بھی علم عطا فرمایا ہے۔ اس لیے کہ علم کے بغیر وہ بھی اپنی ذمے داریاں ادا نہیں کرسکتے۔ فرشتوں اور انسان کے علم میں فرق یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کا جو گروہ جس خاص ذمے داری پر مامور ہوتا ہے اس کے بارے میں ان کی معلومات انسان کی معلومات سے زیادہ ہیں مگر اپنے شعبے کے علاوہ دوسرے تمام شعبوں میں ان کی معلومات صفر ہیں، جب کہ انسان کا علم ہمہ گیر ہے اور ہرمادی چیز کے بارے میں ہے۔ انسانی معاملات بہت سے فرشتوں کے سپرد ہونا تھے اور ہیں۔ مثلاً دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے رب کی ہدایات و رہنمائی پہنچانا، انسان کے روزمرہ اعمال کا ریکارڈ رکھنا، انسان کی موت و حیات کا ریکارڈ ترتیب دینا اور انسان کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات بجا لانا وغیرہ ۔ اس طرح انسان کو فرشتوں اور جنوں پر علمی برتری حاصل ہے۔
کائنات میں انسان کی تخلیق کا مقام
پھر ہم نے آدم سے کہا تم اور تمھاری بیوی جنت میں رہو۔ پھر ہم نے حکم دیا تم سب (آدم و حوا اور ابلیس) یہاں سے اُتر جائو۔ اس وقت آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی، جس کو اس کے رب نے قبول کرلیا‘‘ (البقرہ ۳۵-۳۶)۔ اسی طرح سورۂاعراف آیت۱۹ ؍میں بیان ہوا ہے :پھر (ہم نے) آدم (سے کہا) تم اور تمھاری بیوی جنت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چاہو) کھائو مگر اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ گنہگار ہوجائو گے‘‘ ۔ سورۂ طٰہٰ آیت ۱۲۳؍میں کہا گیا ہے: تم دونوں یہاں سے نیچے اُتر جائو، تم میں سے بعض بعض کے دشمن (ہوں گے)۔ پھر اگر ہماری طرف سے ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گم راہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا۔ پھرالاعراف آیت ۲۵ ؍میں فرمایا کہ اس (زمین) میں تمھارا جینا ہوگا، اسی میں تمھارا مرنا ہوگا اور اسی میں (قیامت کو زندہ کرکے) نکالے جائو گے‘‘۔
یہ سب آیات قطعی طور پر شاہد ہیں کہ پہلے انسانی جوڑے (آدم و حوا) کی تخلیق کا مقام جنت ہے۔ اس جنت میں مٹی بھی ہے اور پانی بھی، پھلواری اور پھل دار درخت بھی ہیں اور نہریں بھی۔غرض انسان کی ضرورت کی ہرچیز بہترین صورت میں موجود ہے۔ یہی جگہ ہے جہاں مرنے کے بعد سعید روحیں اور اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کی روحیں قیام کرتی ہیں۔ اس کا نام جنت الماویٰ ہے۔ یہ جنت سدرۃ المنتہیٰ پر واقع ہے۔ اس مقام تک معراج کی رات نبی کریمﷺ تشریف لے گئے تھے اور آپﷺ کو اس جنت کا مشاہدہ بھی کروایا گیا تھا۔ سورۂ نجم آیت ۱۳ تا۱۵ ؍میں فرمایا گیا ہے:اور ایک مرتبہ پھر اس (محمدﷺ) نے سدرۃ المنتہیٰ (بیری کا وہ درخت جو انتہائی سرے پر واقع ہے) کے پاس اُس کو اُترتے دیکھا جہاں پاس ہی جنت الماویٰ ہے۔ اس جنت کے قریب ہی اللہ رب العزت کا عرش ہے۔ سورۂ سجدہ آیت ۵ ؍میں اس طرف اشارہ ہے: آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدابیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداد اس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن، جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے۔سوۂ معراج آیت۴ ؍میں یہ مقدار ۵۰ ہزار سال بیان کی گئی ہے۔
جنت کی مٹی سے انسان کا پُتلہ بنانا
اس جنت میں انسان کی تخلیق کے لیے استعمال کی گئی مٹی بھی ہے۔ اس مٹی کے بارے میں قرآنِ حکیم میں بیان ہوا ہے:’’ اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ‘‘(فاطر۳-۱۱) سورۂ الصفّٰت آیات ۱۱-۱۲ میں بیان ہے: ان کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے۔ پھر سورۂ رحمٰن آیت ۱۴ ؍میں ہے :انسان کو اُس نے ٹھیکرے جیسے سوکھے سڑے گارے سے بنایا ہے۔ پھر فرمایا: اُس (اللہ) نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی۔ پھر اس کی نسل ایک ایسےہست سے چلائی جو حقیرپانی کی طرح ہے (السجدہ ۷-۹)
قرآن میں انسانِ اوّل کے تخلیقی مادے کے لیے تُراب، طین، طین لازب،صلصال من حمإ مسنون اور صلصال کالفخار کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ تراب اور طین کے معنی خاک، مٹی اور گارے کے ہیں، جب کہ طین لازب کے معنی لیس دار گارے یا چکنی مٹی ہیں۔صلصال کالفخار کے معنی ٹھیکرے جیساسوکھا سڑا گارا یا ایسی مٹی جو ٹھیکرے کی طرح بجتی ہو ہیں۔صلصال من حمإ مسنون کا ترجمہ سید مودودی نے یوں کیا ہے:
سڑی ہوئی مٹی کا سوکھا گارا اور تفسیری حاشیہ یوں ہے: اُس (انسان) کی تخلیق کی ابتدا براہِ راست ارضی مادوں سے ہوئی ہے، جن کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ نےصلصال من حمإ مسنونکے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ حمإ عربی زبان میں ایسی سیاہ کیچڑ کو کہتے ہیں جس کے اندر بو پیدا ہوچکی ہویا بہ الفاظ دیگر خمیر اُٹھ آیا ہو۔ مسنون کے دومعنی ہیں۔ ایک معنی میں متغیر، منتناور اِملس، یعنی ایسی سڑی ہوئی جس میں سڑنے کی وجہ سے چکنائی پیدا ہوگئی ہو۔ دوسرے معنی ہیں: مصوّراور مصبوب، یعنی قالب میں ڈھلی ہوئی جس کو ایک خاص صورت دے دی گئی ہو۔ صلصال اس سوکھے گارے کو کہتے ہیں جو خشک ہوجانے کے بعد بجنے لگے۔(تفہیم القرآن، ج۲، ص۵۰۴)
ان تصریحات سے واضح ہوجاتا ہے کہ انسانِ اوّل کا تخلیقی مادہ ایسی مٹی ہے، جس کے ذرّات انتہائی باریک اور باہم متصل ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان ہوا نہیں ہوتی بلکہ پانی کی پَتلی تہہ ہوتی ہے جس کے باعث ذرّات آپس میں چپک جاتے ہیں۔ پھر اس مٹی میں نامیاتی کیمیاوی مادّے ہوتے ہیں۔ یہ مادے مُردہ حیوانی اور نباتی ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں اور مٹی میں موجود زندہ بیکٹیریا کے باعث سڑتے اور گلتے ہیں۔ ان میں کیمیاوی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے مٹی میں لیس، چپک، سڑاند، یعنی بو پیدا ہوجاتی ہے اور مٹی سیاہی مائل ہوجاتی ہے۔ یہ مٹی کسی بھی قالب میں ڈھالنے کے لیے عمدہ ہوتی ہے اور سوکھ کر ٹھیکرے کی طرح بجتی ہے۔ اس قسم کی مٹی کی عمدہ قسم کا اُس جنت میں پایا جانا جہاں انسانِ اوّل کی تخلیق کی گئی، زیادہ قرین قیاس ہے۔
اللّٰہ رب العزت کےہاتھوں انسان کی تخلیق سورۂ ص، آیت ۷۵ ؍میں بیان ہوا ہے کہ رب نے فرمایا: اے ابلیس! تجھے کیا چیز اس (آدم ) کو سجدہ کرنے سے مانع ہوئی، جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟اپنے دونوں ہاتھوں سے بنانے، یعنی بہ ذاتِ خود انسانی قالب میں ڈھالنے کا عمل آدم پر اللہ تبارک وتعالیٰ کا بہت بڑا شرف ہے۔ مٹی کو انسانی قالب میں ڈھالنے کی تفصیلات کا ذکر قرآنِ حکیم میں بیان نہیں ہوا۔ بس یہ اشارہ ضروری ہے کہ ’’اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ ہوجا اور وہ ہوگیا‘‘۔ (ال عمرٰن ۶۱)
عمدہ اور شان دار تخلیق
انسانی قالب بعض دودھ پلانے والے حیوانات سے بہت سی مشابہتوں کے باوجود ان سے منفرد اور اعلیٰ ہے۔ قرآن حکیم کی متعدد آیات میں اس طرف اشارہ ہے: اور (اللہ نے) تمھاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی ہے‘‘ (التغابن ۶۳:۳)۔ سورۃ التین آیت۴ ؍میں فرمایا: بے شک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر تخلیق کیا ۔ پھرسورہ ٔانفطار آیت ۱۰ ؍میں مزید وضاحت اس طرح کی اے انسان – جس نے (اللہ نے) تجھے نک سک سے درست کیا، تجھے متناسب بنایا اور اس کو جس طرح چاہا جوڑ کر تیار کیا‘‘۔
اچھی صورت، متناسب جسم اور بہترین ساخت پر پیدا کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اعلیٰ درجے کی ساخت پر تخلیق کیا گیا ہے جس پر کسی اور جان دار مخلوق کو نہیں بنایا گیا۔ اسے یعنی انسان کو فکروفہم اور عقل کی وہ بلندپایہ قابلیتیں بخشی گئی ہیں، جو کسی دوسری مخلوق کو نہیں دی گئیں۔ سیدھا قامت یا کھڑا قد اور اس کے ساتھ مناسب اور متناسب ترین پائوں اور ہاتھ دیے گئے ہیں ،جن کے باعث وہ سیدھاکھڑے ہوکر چلتا پھرتا ہے اور توازن قائم رکھتا ہے، جب کہ کوئی حیوان سیدھا دوقدم بھی نہیں چل سکتا۔ اس کو بولتی ہوئی زبان دی گئی ہے، جب کہ کوئی حیوان دو لفظ بھی نہیں بول سکتا۔ خوب صورت آنکھیں، ناک اور کان عطا ہوئے ہیں، جو سب اسے ماحول سے ہم آہنگی پیدا کرنے، توازن قائم کرنے اور اپنی ضروریات تلاش کرنے میں مددگار ہیں۔ اس کو سوچنے، سمجھنے اور معلومات جمع کرنے، ان سے نتائج اخذ کرنے کے لیے ایک اعلیٰ دماغ دیا گیا ہے۔ اس کو ایک اخلاقی حِس اور قوتِ تمیز دی گئی ہے، جس کی بنا پر وہ بھلائی اور بُرائی اور صحیح اور غلط میں فرق کرتا ہے۔ اس کو ایک قوتِ فیصلہ دی گئی ہے، جس سے کام لے کر وہ اپنی راہِ عمل کا خود انتخاب کرتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ اپنی کوششوں کو کس راستے پر لگائے اور کس پر نہ لگائے۔ اس کو یہاں تک آزادی دی ہے کہ چاہے تو اپنے خالق کو مانے اور اس کی بندگی کرے ورنہ اس کا انکار کردے یا جن جن کو چاہے اپنا رب بنابیٹھےیا جسے رب مانتا ہو اس کے خلاف بغاوت کرنا چاہے تو کرگزرے۔ ان ساری قوتوں اور سارے اختیارات کے ساتھ اُسے اللہ نے اپنی پیدا کردہ بے شمار مخلوقات پر تصرف کرنے کا اختیار دیا ہے اور وہ عملاً اس اختیار کو استعمال بھی کرتا ہے۔
انسانی جسم یا قالب عناصر کے آپ سے آپ جڑ جانے سے اتفاقاً نہیں بن گیا ہے بل کہ ایک خدائے حکیم و دانا نے اسے مکمل صورت میں ترکیب دیا ہے یعنی نِک سُک سے درست کیا، تناسب قائم کیا اور جس طرح چاہا جوڑ کر تیار کردیا۔ یہ جسم یا قالب دودھ پلانے والے (دودھیلے) جانور اور انسان سے کس قدر مشابہ، حیوانات مثلاً بندر، لنگور، گوریلا، بن مانس وغیرہ سے بڑی مماثلت رکھتا ہے۔ مثلاً جسم کے تمام حصے ڈھانچا، ہاضمہ، دورانِ خون کا نظام، عضلات، اعصاب اور نظام تولید وغیرہ، سب حیوانات سے مماثل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علمِ حیوانیات میں انسان دودھیلے حیوانات کی ہومو(Homo) نام کی ایک جنس (نوع) شمار ہوتا اور اس کا نام ہومو سیپینس (Homo Sepians) ہے۔ یہی نکتہ ہے جس کی بنا پر حامیین حیاتی ارتقا منطقی دلیل قائم کرتے ہوئے سوال کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے کہ انسان اور یہ دودھیلے حیوانات مماثل ہیں؟ پھر خود ہی جواب دیتے ہیں کہ اس مماثلت کی وجہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے کہ انسان حیاتی ارتقا کے اصول پر حیوانات سے ترقی پاکر بنا ہے۔
دل چسپ حقیقت یہ ہے کہ انسان اور حیوانات کی یہی مماثلت وہ نکتہ ہے، جس پر غوروفکر کے نتیجے میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان اور حیوانات دونوں ہی کو اللہ حکیم و علیم نے تخلیق کیا ہے۔ لہٰذا دونوں میں مماثلت اور مشابہت ہونا فطری اور لازمی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح ایک ماہر سنگ تراش کے تراشے ہوئے مختلف مجسمے ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود اپنے اندر ایسی بنیادی مشابہتیں رکھتے ہیں،جس کی بنیاد پر مجسمہ سازی میں درک رکھنے والے پہچان لیتے ہیں کہ یہ سارے مجسمے کسی ایک ہی مجسمہ ساز کے تراشے ہوئے ہیں۔ یہ منطقی حقیقت اردگرد کے سارے ماحول میں رچی بسی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سادہ سی منطقی حقیقت کو سمجھنے اور تسلیم کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟ سوائے اس بات کے کہ سائنس پرست وجودِ باریِ تعالیٰ کو تسلیم کرنے میں نفسیاتی اور روایتی مخالفت پر کمربستہ ہیں ،جو انسانی شرف کو قبول کرنے میں مانع ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو انسان ہونے اور اُس کو خلیفہ فی الارض ہونے کے بہت بڑے شرف سے نوازتا ہے مگر یہ سائنسی بوجھ بجھکڑ اس کو اس شرف سے نیچے گرا کر ترقی یافتہ حیوان بنا دیتے ہیں۔
آدم کے قالب میں روح کا پھونکاجانا
تخلیقِ آدم کے منصوبے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ آدم کے قالب بنا دیے جانے اور خشک ہوجانے کے بعد اللہ نے اس قالب میں اپنی روح پھونکی اور دیکھتے ہی دیکھتے مٹی کا یہ قالب گوشت پوست کے متحرک انسان میں تبدیل ہوگیا۔ سورۃ السجدہ آیت ۹؍میں اللہ کا ارشاد ہے: جب میں پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں‘‘۔ یہی الفاظ سورہ ص آیت۷۲ ؍میں دہرائے گئے ہیں۔جب اللہ رب العزت نے آدم کے قالب میں اپنی روح میں سے کچھ پھونکا تو اس قالب میں حیات یعنی زندگی پیدا ہوگئی۔ اس کے اندر ارادہ و اختیار اور علم کی تمام صفات پیدا کی گئیں ۔ یہ صفات کسی نہ کسی درجے میں صفاتِ الٰہی کا عکس یا پرتو ہیں اور غالباً اس سب کے مجموعے کو ’روح‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اس بارے میں مولانا مودودیؒسورۂ سجدہ، حاشیہ ۱۶ ؍میں رقم طراز ہیں۔
روح سے مراد محض زندگی نہیں ہے، جس کی بدولت ایک ذیِ حیات جسم کی مشین متحرک ہوتی ہے، بل کہ اس سے مراد وہ خاص جوہر ہے جو فکروشعور اور عقل و تمیز اور فیصلہ و اختیار کا حامل ہوتا ہے، جس کی بدولت انسان تمام دوسری مخلوقاتِ ارضی سے ممتاز ایک صاحب ِ شخصیت ہستی، صاحب اَنا پرستی اور حامل خلافت ہستی بنتاہے۔ اس روح کو اللہ تعالیٰ نے اپنی روح یا تو اس معنی میں فرمایا ہے کہ وہ اسی کی مِلک ہے اور اس کی ذات پاک کی طرف اس کا انتساب اسی طرح کا ہے، جس طرح ایک چیز اپنے مالک کی طرف منسوب ہوکر اس کی چیز کہلاتی ہے۔ یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر علم، فکر، شعور، ارادہ، فیصلہ، اختیار اور ایسے ہی دوسرے جو اوصاف پیدا ہوئے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی صفات کا پرتو ہیں۔ ان کا سرچشمہ مادے کی کوئی ترکیب نہیں ہے بل کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اللہ کے علم سے اس کو علم ملا ہے۔ اللہ کی حکمت سے اس کو دانائی ملی ہےاور اللہ کے اختیار سے اس کو اختیار ملا ہے۔(تفہیم القرآن، ج۴،ص ۴۱)
یہی وہ روح ہے جسے موت کے وقت فرشتے کسی انسان کے جسم سے نکال لے جاتے ہیں۔ یہ روح انسان کے قالب میں اللہ تعالیٰ نے پھونکی۔ اس کی تفصیلات کے بارے میںقرآنِ حکیم خاموش ہے۔ غالباً یہ کام بھی حکم ربی ’کن‘ کے تحت ہی انجام پایا۔ واللہ اعلم!
حضرت حوا کی تخلیق
حضرت آدم کی تخلیق کے ساتھ ساتھ ان کی زوج حضرت حوا کی تخلیق بھی اللہ رب العزت نے فرمائی۔سورۃ النساء کی پہلی آیت میں ہے کہ تم کو (انسان کو) ایک جان (آدم) سے پیدا کیا اور اسی جان سے اُس کا جوڑا بنایا۔ یہی بات سورۃ الزمر آیت ۶ ؍میں بھی بیان ہوئی ہے۔ سورۂ اعراف آیت ۱۸۹ ؍میں یوں بیان ہوا ہے :وہ اللہ ہی ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ حضرت حوا کو کس طرح تخلیق کیا گیا ،اس کی تفصیل قرآن میں نہیں ہے۔ انجیل میں اتنی بات بیان ہوئی ہے کہ آدم کی پسلی سے حواکو پیدا کیا گیا۔ تلمود میں اتنا اضافہ مزید ہے کہ حواکو آدم کی دائیں جانب کی تیرھویں پسلی سے پیدا کیا گیا۔واللہ اعلم! بہرحال یہ حقیقت ہے کہ حضرت آدم و حو اایک دوسرے کے لیے سکون کا ذریعہ اور کرۂ ارض پر نسلِ انسانی کی افزایش کی بنیاد تھے۔
فرشتوں اور جنات کو سجدے کا حکم
سورۂ بقرہ آیت ۳۴ ؍میں ہے: اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا‘‘۔سور ۂ اعراف آیت۱۱ ؍میں یہی حکم ہے:ہم نے تمھاری تخلیق کی ابتدا کی، پھر تمھاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو، مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ یہ اور اسی طرح کی دوسری کئی آیات میں وہ منظر واضح ہوتا ہے، جب اللہ رب العزت نے فرشتوں اور جنوں کو حکم صادر کیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ شرعی سجدہ تو صرف اللہ ہی کو مستلزم ہے۔ یہ بھی شرعی سجدہ تھا۔ اس لیے کہ یہ بھی اللہ ہی کا حکم تھا۔ اس کا مقصد فرشتوں اور جنوں میں انسان (آدم وحوا) کی عزت افزائی اور شرف معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے کہ انسان کو کائنات کی تمام اشیا کا علم سکھایا (وعلم آدم الأسماء كلها -البقرہ) اس طرح فرشتوں اور جنات پر فوقیت دی۔ سجدہ کروانے کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کیا تھا، لہٰذا فرشتوں اور جنات کو یہ بتانا بھی مقصود تھا کہ زمین پر انسان سے مکمل تعاون کیا جائے، سدِّراہ نہ بناجائے۔
سجدے کی حکم عدولی
قرآنِ حکیم میں جس جس مقام پر فرشتوں کو آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہیںبالعموم ابلیس یا شیاطین کے ایک گروہ کی سجدے کے حکم کی حکم عدولی بھی بیان ہوئی ہے۔سورۂ اعراف آیات ۱۲-۱۸،سور ۂ حجر آیات ۲۶-۳۳،سور ۂ ص آیات ۷۱-۷۲؍ میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہاں صر ف سورۂ اعراف کا بیان دیا جارہا ہے۔ پوچھا: تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا، جب کہ میں نے حکم دیا تھا؟بولا: میں اس سے بہتر ہوں۔تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے۔فرمایا: اچھا تو یہاں سے نیچے اُتر، تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے۔ نکل جا کہ درحقیقت تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں۔ بولا: مجھے اس دن تک مہلت دے، جب کہ یہ سب دوبارہ اُٹھائے جائیں گے۔فرمایا: تجھے مہلت ہے۔ بولا: اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہرطرف سے ان کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکرگزار نہ پائے گا۔فرمایا: نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا ۔ یقین رکھ کہ ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے، تجھ سمیت اُن سب سے جہنم کو بھردوں گا۔(سورۂ اعراف آیات ۱۲-۱۸)
ابلیس نے اپنے آگ سے تخلیق ہونے پر بڑائی دکھائی اور نہ صرف اللہ رب العزت پر الزام تراشی بھی کی کہ ’’تو نے مجھے گم راہی میں مبتلا کیا ہے‘‘ حالاں کہ وہ خود اپنے نفس کی گم راہی میں مبتلا ہوگیا تھا اور اللہ کی اطاعت سے نکل گیا اور ذلت میں گرگیا۔ اس بنا پر اللہ احکم الحاکمین نے اُس کو اور اس کے گروہ کو نیچے زمین پر اُتر جانے کا حکم دیا۔ اس انتباہ کے ساتھ کہ ’’یقین رکھ کہ ان (انسانوں) میں سے جو تیری پیروی کریں گے تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا‘‘۔
جنات کون ہیں؟ کرۂ ارضی پر جنات بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔ ان کو اللہ نے آگ کی لپٹ سے، انسان کی تخلیق سے بہت پہلے پیدا کیا۔ جِنّ انسانوں کو نظر نہیں آتے مگر وہ ان کو دیکھتے ہیں۔ یہ انسانی آبادیوں سے دُور سنسان جگہوں پر رہتے ہیں۔ بعض جنات اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض اللہ اور اس کے احکامات سے رُوگردان بھی ہیں۔ یہ دوسرا گروہ ہے جو اللہ کے سیدھے راستے سے انسانوں کو روکتا ہے اور دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ اس گروہ کے افراد شیطان کہلاتے ہیں۔
آدم و حوا ، جنت میں
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے منصوبے کے مطابق سجدے کی تقریب کے اختتام پر آدم و حوا کو جنت میں قیام کا اِذن عام دیا: اور اے آدم ؑ، تو اور تیری بیوی اس جنت میں رہو، جہاں جس چیز کو تمھارا جی چاہے کھائو، مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہوجائو گے‘‘ (اعراف ۷:۱۹)۔ یہی بات سورۂ بقرہ آیت ۳۵ ؍میں ملتی جلتی آیات میں فرمائی گئی ہے۔سورۂ طٰہٰ آیات ۱۱۶-۱۱۷ ؍میں مزید کہا گیا: یاد کرو وہ وقت جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ وہ سب سجدے میں گرگئے مگر ابلیس تھا کہ انکار کربیٹھا۔ اس پر ہم نے آدم سے کہا: دیکھو یہ تمھارا اور تمھاری بیوی کا دشمن ہے۔ایسا نہ ہو کہ یہ تمھیں جنت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑجائو۔ یہاں تمھیں یہ آسائشیںحاصل ہیں کہ نہ بھوکے ننگے رہتے ہو، نہ پیاس اور دھوپ تمھیں ستاتی ہے۔ آخرکار دونوں (میاں بیوی) اُس درخت کا پھل کھاگئے۔
ابلیس، آدم کی گھات میں تھا۔ اپنی چکنی چپڑی باتوں سے وہ آدم و حوا دونوں کو پھسلانے میں کام یاب ہوگیاکہ:تمھارے رب نے تمھیں جو اس درخت سے روکا ہے، اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جائو یا تمھیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہوجائے اور اُس نے قَسم کھاکر ان سے کہا کہ میں تمھارا سچا خیرخواہ ہوں۔ آخرکار دونوں کو دھوکا دے کر اپنے ڈھب پر لے آیا۔ آخرکار جب انھوں نے اس درخت کا مزہ چکھا تو ان کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور وہ اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانکے لگے۔ تب ان کے رب نے انھیں پکارا: کیا میں نے تمھیں اس درخت سے نہ روکا تھا اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمھارا کھلا دشمن ہے؟دونوں بول اُٹھے: اے رب! ہم نے اپنے اُوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقینا ہم تباہ ہوجائیں گے(سورۂ اعراف ۲۰-۲۳)۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، تمھارے لیے ایک خاص مدت تک زمین میں ہی جاے قرار ہے اور سامانِ زیست ہے اور فرمایا: وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اس میں سے تم کو آخرکار نکالاجائے گا(سورۂ اعراف۲۴-۲۵)
آدم و حوااور ابلیس کا زمین پر اُتارا جانا
اللہ احکم الحاکمین نے آدم و حوا اور شیطان کو جنت سے کرۂ ارضی سے اُتر جانے کا حکم صادر کیا اور پھر وہ لوگ زمین پر اُتار دیے گئے اس تنبیہ کے ساتھ ’’تمھارے بعض بعض کے دشمن ہیں (بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ)اور اس ہدایت کے ساتھ کہ جب تمھیں میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو میری اس ہدایت پر چلا، نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جنھوں نے میری آیات کو جھٹلایا وہی دوزخ والے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرہ ۲۸-۲۹)
حکم عدولی کے نتیجے میں ان کے ستر ڈھانکنے کا جو انتظام کیا تھا وہ بکھر گیا۔ اب جنت کے درختوں کے پتوں سے انھوں نے اپنی سترپوشی کی۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا غماز ہے کہ انسان جب بھی کسی معاملے میں اللہ رب العزت کے حکم کی نافرمانی کرے گا تو دیر یا سویر اس کا پردہ کھل کر رہے گا۔ انسان کے ساتھ اللہ کی تائید و حمایت اس وقت تک ہے جب تک وہ اللہ کا مطیع فرمان ہے۔ طاعت کی حدود سے قدم باہر نکالتے ہی اُسے اللہ کی تائید و حمایت ہرگز حاصل نہ ہوگی، بل کہ وہ اپنے نفس کے حوالے کردیا جائے گا۔ انسان نے شیطان سے پہلی شکست ستر کے برہنہ ہوجانے کے مسئلے پر کھائی اور آج بھی کارگاہِ حیات میں یہ بات بڑی اہم ہے کہ شیطان اور اس کی ذُریت کی پوری کوشش ہے کہ مختلف ذرائع استعمال کرکے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کے سامنے برہنہ یا نیم برہنہ کردے اور اس کو ’روشن خیالی‘ یا ’تہذیب جدید‘ قرار دے کر انسان کو روشن خیال یا ترقی یافتہ ثابت کردے۔
آدم و حوا کو جنت سے نکالاضرور مگر سزا کے طور پر نہیں بل کہ مزید آزمائش و امتحان کے لیے۔ اس لیے کہ دونوں نے فوراً ہی اپنی غلطی تسلیم کرلی اور اللہ رب العزت سے معافی کے خواست گار ہوئے اور اللہ نے ان دونوں کو معاف بھی کردیا۔ آدم و حوااپنے رب کی فرماں برداری میں پوری طرح کام یاب نہیں ہوسکے اور انسان کی یہ کم زوری ظاہر ہوگئی کہ وہ اپنے دوست نما دشمن کے فریب میں آکر اطاعت سے رُوگردانی کرسکتا ہے۔ پھر انسان نے عجزوانکسار اختیار کیااور اللہ کے حضور اپنی بڑائی اور گھمنڈ نہیں دکھایا۔ اس اعتبار سے انسان شیطان سے افضل قرار پایا، جب کہ شیطان نے اللہ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اللہ رب العزت پر الزام تراشی بھی کی۔
زمین کی آرایش و زیبایش
کرۂ ارض کو انسان کی رہائش کے قابل بنانا بھی انسان کی تخلیق کے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ انسان کی تخلیق سے بہت پہلے یہ کام شروع ہوچکا تھا۔ سورۂ حج آیت ۶۲ ؍بتاتی ہے: کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس (اللہ) نے وہ سب کچھ تمھارے لیے مسخر کررکھا ہے جو زمین میں ہے۔سورہ ٔطٰہٰ آیت ۵۳ ؍بیان کرتی ہے: ہم نے زمین کا فرش بچھایا اور اس میں تمھارے لیے راستے بنائے اور اُوپر سے پانی برسایا۔ پھر اس کے ذریعے قسم قسم کی پیداوار نکالی۔سورہ ٔزمر آیت۶ ؍بتاتی ہے: اُس (اللہ) نے تمھارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ نر اور مادہ پیدا کیے۔ اورسور ۂ نمل آیت۶۱ ؍میں کہا گیا ہے: اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں (پہاڑوں کی) میخیں گاڑدیں؟
یہاں مولانا مودودیؒ کا یہ طویل اقتباس شافی ہوگا:
زمین کا اپنی بے حدوحساب مختلف النوع آبادی کے لیے جائے قرار ہونا بھی کوئی سادہ سی بات نہیں ہے۔ اس کرۂ خاکی کو جن حکیمانہ مناسبتوں کے ساتھ قائم کیا گیا ہے، ان کی تفصیلات پر آدمی غور کرے تو اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اُسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مناسبتیں ایک حکیم و دانا قادرِ مطلق کی تدبیر کے بغیر قائم نہ ہوسکتی تھیں۔ یہ کرہ فضائے بسیط میں معلق ہے۔کسی چیز پر ٹکا ہوا نہیں ہے، مگراس کے باوجود اس میں کوئی اضطراب اور اہتزاز نہیں ہے۔ اگر اس میں ذرا سا بھی اہتزاز ہوتا، جس کے خطرناک نتائج کا اندازہ ہم کبھی زلزلہ آجانے سے بہ آسانی لگاسکتے ہیں، تو یہاں کوئی بھی آبادی ممکن نہ تھی۔ یہ کرہ باقاعدگی کے ساتھ سورج کے سامنے آتا اور چھپتا ہے،جس سے رات اور دن کا اختلاف رُونما ہوتا ہے۔ اگر اس کا ایک ہی رُخ ہر وقت سورج کے سامنے رہتا اور دوسرا ہروقت چھپا رہتا تو یہاں کوئی آبادی ممکن نہ ہوتی کیوں کہ ایک رُخ کو سردی اور بے نوری نباتات اور حیوانات کی پیدائش کے قابل نہ رکھتی اور دوسرے رُخ کو گرمی کی شدت بے آب و گیاہ اور غیرآباد بنا دیتی۔ اس کرہ پر ۵۰۰ ؍میل کی بلندی تک ہوا کا ایک کثیف ردّا چڑھا دیا گیا ہے، جو شہابوں کی خوف ناک بم باری سے اسے بچائے ہوئے ہے۔ورنہ روزانہ ۲ ؍کروڑ شہاب جو ۳۰؍میل فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین کی طرف گرتے ہیں یہاں وہ تباہی مچاتے کہ کوئی انسان، حیوان یا درخت جیتا نہ رہ سکتا تھا۔ یہی ہوا درجۂ حرارت کو قابو میں رکھتی ہے۔ یہی سمندروں سے بادل اُٹھاتی اور زمین کے مختلف حصوں تک آب رسانی کی خدمت انجام دیتی ہے اور یہی انسان اور حیوان اور نباتات کی زندگی کو مطلوبہ گیسیں (آکسیجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ) فراہم کرتی ہے۔ یہ نہ ہوتی تب بھی زمین کسی آبادی کے لیے جائے قرار نہ بن سکتی ۔
اس کُرے کی سطح سے بالکل متصل وہ معدنیات اور مختلف قسم کے کیمیاوی اجزا بڑے پیمانے پر فراہم کردیے گئے ہیں، جو نباتی، حیوانی اور انسانی زندگی کے لیے مطلوب ہیں۔ جس جگہ بھی یہ سروسامان مفقود ہوتا ہے، وہاں کی زمین کسی زندگی کو سہارنے کے لائق نہیں ہوتی۔ اس کُرے پر سمندروں، دریائوں، جھیلوں،چشموں اور زیرزمین سوتوں کی شکل میں پانی کا بڑا عظیم الشان ذخیرہ فراہم کردیا گیا ہے اور پہاڑوں پر بھی اس کے بڑے بڑے ذخائر کو منجمد کرنے اور پھر پگھلا کر بہانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس تدبیر کے بغیر یہاں کسی زندگی کا امکان نہ تھا۔ پھر اس پانی، ہوا اور تمام اُن اشیا کو جو زمین پر پائی جاتی ہیں، سمیٹے رکھنے کے لیے اس کُرے میں نہایت ہی مناسب کشش رکھ دی گئی ہے۔ یہ کشش اگر کم ہوتی ہو تو ہوا اور پانی، دونوں کو نہ روک سکتی اور درجۂ حرارت اتنا زیادہ ہوتا کہ زندگی یہاں دشوار ہوجاتی۔یہ کشش اگر زیادہ ہوتی تو ہوا بہت کثیف ہوجاتی، اس کا دبائو بڑھ جاتا، بخارات آبی کا اُٹھنا مشکل ہوتا اور بارشیں نہ ہوسکتیں، سردی زیادہ ہوتی، زمین کے بہت کم رقبے آبادی کے قابل ہوتے بلکہ کشش ثقل بہت زیادہ ہونے کی صورت میں انسان اور حیوانات کی جسامت بہت کم ہوتی اور ان کا وزن اتنا زیادہ ہوتا کہ نقل و حرکت بھی ان کے لیے مشکل ہوتی۔ علاوہ بریں، اس کُرے کو سورج سے ایک خاص فاصلے پر رکھا گیا ہے، جو (انسانی، حیوانی اور نباتاتی)آبادی کے لیے مناسب ترین ہے۔ اگر اس کا فاصلہ زیادہ ہوتا تو سورج سےاس کو حرارت کم ملتی، سردی بہت زیادہ ہوتی، موسم بہت لمبے ہوتے اور مشکل ہی سے یہ آبادی کے قابل ہوتا اور اگر فاصلہ کم ہوتا اس کے برعکس گرمی کی زیادتی اور دوسری بہت سی چیزیں مل جل کر اسے انسان جیسی مخلوق کی سکونت کے قابل نہ رہنے دیتیں۔
یہ صرف چند وہ مناسبتیں ہیں جن کی بدولت زمین اپنی موجودہ آبادی کے لیے جائے قرار بنی ہے۔ کوئی شخص عقل رکھتا ہو اور ان اُمور کو نگاہ میں رکھ کر سوچے تو وہ ایک لمحے کے لیے بھی نہ یہ تصور کرسکتا ہے کہ کسی خالق حکیم کی منصوبہ سازی کے بغیر یہ مناسبتیں محض ایک حادثے کے نتیجے میں خودبہ خود قائم ہوگئی ہیں اور نہ یہ گمان کرسکتا ہے کہ اس عظیم الشان تخلیقی منصوبے کو بنانے اور رُوبہ عمل لانے میں کسی دیوی، دیوتایا جن یا نبی و ولی یا فرشتے کا کوئی دخل ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۳، ص۵۹۰-۵۹۲)
کرۂ خاکی پر نسلِ انسانی کی تخلیق
آدم اور حواکو زمین پر اُتارنے کے بعد اور زمین کو ان کا مامن اور مسکن قرار دینے کے بعد مرد اور عورت کے نطفوں کے ملاپ کو انسان کی پیدائش کا طریقہ قرار دیا۔ یہ طریقہ نسلِ انسانی کو قائم رکھنے، ترقی دینے اور زمین پر پھیلانے اور بسانے کی غرض سے جاری فرمایا۔سورہ ٔمومن آیت ۴ ؍میں بیان ہے:وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے۔ اس کی مزید تشریح سورۂ دہر آیت۳ ؍میں یوں کی گئی کہ:ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیااور مزید یہ کہ اور اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے ہم جنس بیویاں بنائیں اور اسی نے ان بیویوں سے تمھیں بیٹے اور پوتے عطا کیے‘‘۔ (النحل۷۲)
اس عنوان پر بہت سی اور آیات ہیں مگر درج ذیل قابلِ غور ہیں۔
( ۱)پھر اس کی (انسان کی) نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے‘‘ (السجدہ۷-۹)۔
(۲)پھر جب مردنے عورت کوڈھانپ لیا تو اسے ایک خفیف ساحمل رہ گیا، جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی‘‘ (اعراف۱۸۹)۔
(۳)کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحمِ مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے، پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں(القیامۃ ۳۷-۳۹)۔ مرد اور عورت کے ملنے والے نطفوں سے انسان کے بنانے کی تفصیل سورۂ حج ۵-۶ میں درج ہے۔
انسان کی تخلیق اوّل سے قبل اس کرۂ خاکی پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری اور بھی زندہ مخلوق یعنی نباتات اور حیوانات پیدا کی۔ ان کی بعض انواع پیدا بھی کی گئیں اور معدوم بھی کردی گئیں، مگر نوع زوج زوج یعنی نر اور مادہ کی صورت میں پیدا کی گئیں۔ اس لیے کہ ان سب کی نسلی افزائش مقصود تھی۔ قرآن حکیم میں اس بارے میں بیان ہے: پاک ہے وہ ذات جس نے تمام اشیا کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس یعنی نوعِ انسانی میں یا ان اشیا میں جن کو یہ جانتے تک نہیں۔(یٰس ۳۶)
کرۂ خاکی پر ہر انسان ایک خاص مدت تک زندگی گزارے گا۔ زندگی گزارنے کے لیے اپنے اختیار سے یا تووہ طریقہ اختیار کرے گا جو اس کے رب نے پیغمبروں کے ذریعے اس تک پہنچایا ہے یا وہ طریقہ اختیار کرے گا جو رب کے بتائے ہوئے طریقے کے بجاے کوئی اور طریقہ ہے۔ بس یہی انسان کی مدت ہے اور ہر انسان کے امتحان کی مدت مختلف ہے۔ اس مدت کے اختتام پر ہرانسان پر موت واقع ہوگی اور اس کے جسم سے اللہ کی پھونکی جانے والی روح نکال لی جائے گی اور مُردہ جسم سپردِ خاک کر دیا جائے گا۔ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ پھر ایک مدت بعد اسی خاک سے اس کو اپنی اصلی حالت میں اُٹھا کھڑا کیا جائے گا۔ فی الحقیقت یہ ہرانسان کی دوسری پیدائش ہے۔ اس وقت بھی اسے رب العزت ہی تخلیق فرمائے گا۔ اس بارے میں قرآنِ حکیم میںسورہ ٔنوح آیت ۱۷ ؍میں یہ شہادت موجود ہے: پھر وہ (اللہ) تمھیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا۔سورۂ طٰہٰ، آیت ۵۵ ؍میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ اسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں ہم تمھیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکال لیں گے۔
قرآن اور انسانی تخلیق
پروفیسر شہزادالحسن چشتی

