اسلام کا پورا نظامِ عقیدہ، نظام عبادات اور نظام اخلاق جس حقیقت کے گرد گھومتا ہے وہ ہے معرفتِ الٰہی۔ اور معرفتِ الٰہی کا سب سے روشن، منظم اور مؤثر باب اسمائے حسنی ہیں۔ قرآنِ کریم نے جہاں توحید کو دلیل سے واضح کیا، وہیں اسے دلوں میں زندہ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی کو بار بار پیش کیا۔ رسول اکرم ﷺنے بھی انسانیت کو اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ اسماء کی طرف متوجہ کیا ہے۔ آپ نے اسمائے حسنی کی تعداد بھی طے فرمائی اور انھیں ترتیب سے گنا بھی دیا۔
اسمائے حسنی کی تعداد کے متعلق جمہور کا مسلک یہ ہے کہ صفاتِ الہیہ ان 99 ؍اسماء میں محدود نہیں ہیں۔ یہ اسماء تو انسان کی اوقات کے لحاظ سے بتا دیے گئے ہیں۔ ان اسماء کو سمجھتے سمجھتے ہی نسلیں کی نسلیں ختم ہوجائیں گی اور قیامت برپا ہوجائے گی۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان میں سے ایک اسم پاک پر بھی انسان کی عمریں ختم ہوجائیں۔ یہ اسمائے مبارکہ علم و عرفان اور حقائق و معانی کا ایک سمندر اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بس 99 ؍اسماء بتانے پر اکتفا فرمایا۔
اسمائے حسنی کے متعلق شروع ہی سے سلفِ صالحین نے کتابیں لکھیں۔ موجودہ دور میں بھی اس موضوع پر مسلسل لکھا جا رہا ہے۔ البتہ جن کتابوں کو سب سے اہم مرجع کی حیثیت حاصل ہے اُن میں امام ابواسحاق زجاج (وفات 311 ھ) کی تفسير أسماء الله الحسنى، امام ابو حامد غزالی (وفات 505 ھ) کی المقصد الأسنى، امام فخرالدين رازی (وفات 605 ھ) کی لوامع البينات شرح أسماء الله تعالى والصفات، امام محمد ابن احمد قرطبی (وفات 671 ھ) کی الأسنى في شرح أسماء الله الحسنى سرِ فہرست ہیں۔ ان کے علاوہ جن مفسرین، محدثین، صوفیہ اور متکلمین نے اپنی کتابوں میں مختلف اسمائے حسنی کی جو تشریحات کی ہیں، وہ بھی بہت اہمیت کی حامل ہیں۔
امام ابو علی دقاق (وفات 405 ھ) نے اس سلسلے میں بہت نفیس گفتگو فرمائی ہے۔ کہتے ہیں:
المعرفة على لسان العلماء هو العلم، فكل علم معرفة، وكل معرفة علم، وكل عالم بالله عارف، وكل عارف عالم، وعند هؤلاء القوم المعرفة صفة من عرف الحق سبحانه بأسمائه و صفاته۔ (الرسالة القشيرية، ج دوم، ص 460، ط المكتبة التوفيقية، قاہرہ، 2015)
علماء کی زبان میں معرفت دراصل علم ہی کا دوسرا نام ہے؛ چنانچہ ہر علم معرفت ہے اور ہر معرفت علم۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا عالم ہے وہ عارف بھی ہے اور جو عارف ہے وہ عالم بھی۔ ان حضرات کے نزدیک معرفت اُس صفت کا نام ہے جس کے ذریعے کوئی شخص حق سبحانہٗ و تعالیٰ کو اس کے اسماء و صفات کے ساتھ پہچان لے۔
اس میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اسمائے حسنی کا تعلق کسی خاص فرقے، مسلک، مشرب یا منہج سے بھی نہیں ہے۔ ان کی اہمیت و عظمت سب کے نزدیک مسلم ہے۔ یوں تو ان پاکیزہ ناموں کا تعلق کسی مذہب سے بھی نہیں ہے۔ یہ کائنات کے خالق و مالک کے مقدس نام ہیں۔ اس لیے یہ اسلام کی نہیں، انسانیت کی چیز ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے’’اللہ‘‘ کو مسلمانوں کا خدا سمجھ لیا گیا اور ہم مسلمانوں نے سمجھنے دیا، اس لیے اسمائے حسنی کو کم از کم تمام مسلم گروہوں کو ضرور سمجھنا سمجھانا، پڑھنا پڑھانا اور اپنے جسم و روح کا حصہ بنانا چاہیے۔
اس ذیل میں کچھ کرنے کے کام یہ ہوسکتے ہیں:
1- اسمائے حسنی کی تشریحات پر مشتمل ایک مفصل انسائیکلو پیڈیا کی ترتیب۔ اس میں ہر اسم پاک پر مقامی زبانوں میں لغوی تحقیق، قرآنی استعمال، حدیثی استعمال، سلف صالحین کی تشریحات، ایمانی اثرات اور عملی تقاضے کا مفصل بیان ہو۔
2- اسی طرح معصوم ذہنوں میں اسمائے حسنی کو بٹھانے کے لیے دلکش، آسان اور دلچسپ کتابیں تیار کرنی چاہئیں۔ ان کے موضوعات بچوں کی مناسبت سے یہ ہوسکتے ہیں:اللہ کون ہے؟ رب کا کیا مطلب ہے؟ مجھے کس نے پیدا کیا؟
3- چند ماہ پر مشتمل معرفتِ الٰہی کورس کا آغاز۔ ہمارا احساس ہے کہ اس طرح کے کورسز کے ذریعے نئی نسل میں اللہ تعالیٰ کی معرفت پیدا کرنے اور عصری مسائل کے حل کے لیے صبر، شکر، توکل، دیانت اور اور خوف و رجا جیسے پاکیزہ جذبات پیدا کرنے کی کوشش بڑے پیمانے پر ہونی چاہیے۔ اس کورس میں یومیہ یا ہفتہ وار کلاسز کے ذریعے اسمائے حسنی کی تفہیم اور ہر شریک کو اسمائے حسنی معانی کے ساتھ یاد کرائے جاسکتے ہیں۔
4- اس کے علاوہ اسمائے حسنی ورک شاپس کا انعقاد اور سوشل میڈیا پر اسمائے حسنی مہم کا اہتمام بھی کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی اسمائے حسنی پر مبنی خطباتِ جمعہ سیریز بھی چلائی جاسکتی ہے۔
اگر یہ کام کیے جائیں تو قوی امید ہے کہ معاشرے میں تعلق مع اللہ کی مضبوطی، اخلاص، اخلاقی اصلاح، اتحاد و اتفاق اور دینی و دعوتی شعور میں اضافہ ہوگا۔
آئیے ! اسمائے حسنی کو علمی تحقیق، تربیتی پروگرام اور دعوتی تحریک کی صورت میں زندہ کریں، تاکہ معرفتِ الٰہی صرف کتابوں میں نہ رہے بلکہ دلوں میں اترے اور زندگیوں کو بدلے۔
اسمائے حسنی – معرفت اور انقلاب
شاہ اجمل فاروق ندوی

