(عربی سے ترجمہ: ادارہ تعمیر فکر)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَقَالُواْ أَإِذَا کُنَّا عِظَاماً وَرُفَاتاً أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقاً جَدِیْداً۔ قُل کُونُواْ حِجَارَۃً أَوْ حَدِیْداً۔ أَوْ خَلْقاً مِّمَّا یَکْبُرُ فِیْ صُدُورِکُمْ فَسَیَقُولُونَ مَن یُعِیْدُنَا قُلِ الَّذِیْ فَطَرَکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ فَسَیُنْغِضُونَ إِلَیْکَ رُؤُوسَہُمْ وَیَقُولُونَ مَتَی ہُوَ قُلْ عَسَی أَن یَکُونَ قَرِیْباً۔ (الإسراء: ۴۹-۵۱)
اور وہ کہتے ہیں: ’’جب ہم ہڈیاں اور مٹی بن جائیں گے، کیا ہم حقیقت میں ایک نئی تخلیق کے طور پر دوبارہ زندہ کیے جائیں گے؟‘‘ کہو: ’’چاہے تم پتھر بن جاؤ یا لوہا یا کوئی ایسی مخلوق جو تمھارے دلوں میں زیادہ بڑی ہو۔‘‘ پھر وہ کہیں گے: ’’ہمیں کون واپس لائے گا؟‘‘ کہو: ’’وہی جس نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔‘‘ پھر وہ تمھاری طرف سر ہلائیں گے اور کہیں گے: ’’یہ کب ہوگا؟‘‘ کہو: ’’شاید یہ جلد ہوگا‘‘۔
گزشتہ دو صدیوں میں علم الحفریات ؍ احفوریات کے میدان میں کی جانے والی سائنسی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ جان داروں کے باقیات وقت کے ساتھ بہ تدریج پتھروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں یا بعض صورتوں میں لوہے کے معدنیات میں تبدیل ہو کر آخر کار زنگ آلود لوہے کے ڈھیر میں بدل جاتے ہیں۔ یہ بات قرآن مجید نے چودہ سو سال قبل ہی اس آیت میں ذکر کی تھی:
قُلْ کُونُوا حِجَارَۃ أَوْ حدیداً‘‘ (الإسراء: ۵۰)
کہو:چاہے تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔
یہ قیامت اور زندگی بعد از مرگ کے انکاریوں کو چیلنج کرنے کے طور پر ہے۔ یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہوں جس کا وہ گمان کر سکتے ہوں۔
یہ آیات کفار کے موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے سے انکار کے بارے میں بات کرتی ہیں، جب ان کے جسم ہڈیاں اور مٹی میں تبدیل ہو جائیں گے۔ تاہم خدا کا جواب انھیں بتاتا ہے کہ چاہے وہ پتھر یا لوہا بن جائیں، اللہ ان کو دوبارہ زندہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اللہ کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں۔ چاہے وہ اپنی عضویاتی شکل میں ہوں (ہڈیاں اور باقیات) یا غیر عضوی شکل میں تبدیل ہو چکے ہوں جیسے پتھر یا لوہا۔ وہی جو انسانوں اور دیگر مخلوقات کو پہلی بار مٹی سے پیدا کرنے والا ہے، وہ انھیں دوبارہ زندگی دینے پر پوری طرح قادر ہے اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے کیوںکہ اس کے ہاں کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ اس کی نظر میں ہر چیز آسان ہے،جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَہُوَ الَّذِی یَبْدَ أ الخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُہُ وَہُوَ أَہْوَنُ عَلَیْہِ وَلَہُ الْمَثَلُ الْأَعْلَی فِی السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَہُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ۔ (روم: ۲۷)
اور وہی ہے جو تخلیق کا آغاز کرتا ہے، پھر وہ اسے دوبارہ اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اسی کی اعلیٰ مثالیں ہیں اور وہ غالب حکمت والاہے۔
ان آیات میں قرآن مُردوں کے پتھروں یا لو ہے میں تبدیل ہونے کا ذکر کرتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے، جس کو سائنسی طور پر ثابت کیا جا چکا ہے۔ نہ صرف یہ بل کہ یہ حقیقت مزید پے چیدہ سائنسی تحقیقات کی بنیاد بن چکی ہے، جسے علم الحفریات / احفوریات (Paleontology) کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس طرح قرآن نے جدید سائنس سے پہلے یہ حقیقت بیان کر دی کہ مردے پتھر یا لوہے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر حسنی حمدان جو ارضیات کے استاد ہیں، اپنی پیلینٹولوجی کے کورس کی تعارفی تحریر میں کہتے ہیں:
زمین پر زندگی کا ریکارڈ ایک حیرت انگیز تاریخ سے بھرا ہوا ہے، جو ان مختلف تہذیبوں کی گواہی دیتا ہے جو ابتدائی جان داروں سے لے کر آج تک مختلف ادوار کے دوران گزر چکی ہیں۔ قدیم حیاتیات کا طالب علم زمین پر چل کر تخلیق کے آغاز پر غور کرے گا تو معلوم ہوگا کہ یہ ایک شان دار ریکارڈ ہے، لیکن یہ مکمل نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی بھی زندہ تھا، وہ مرچکا ہے۔ لیکن یہ طے ہے کہ ہر مرنے والا دفن نہیں ہوا اور نہ ہی ہر دفن ہونے والا محفوظ رہا اور نہ ہی جو محفوظ ہوا وہ دریافت ہو چکا ہے اور نہ ہی جو ہم نے دریافت کیا وہ پہچانا جا چکا ہے۔ زندگی کا ریکارڈ مکمل اندراجات کی نسبت زیادہ خلاؤں سے بھرا ہوا ہے۔ تین اہم عوامل ہیں، جو معدوم جان داروں کے آثار کے محفوظ ہونے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں: میکانیکی، حیاتیاتی اور کیمیائی تباہی۔ جب ہم اپنے طلبہ کو یہ سکھاتے ہیں کہ جان داروں کے آثار کیسے محفوظ ہوتے ہیں تو ہمیں قرآن کے ان حوالوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جو انسانوں کے جسموں کے پتھر یا لوہے میں تبدیل ہونے کے امکان کے بارے میں ہیں یا اس سے بھی بڑھ کر انسانوں، جانوروں اور پرندوں کا موازنہ، مخلوقات کی درجہ بندی، حیاتیاتی انواع کی تعریف اور پرانے جان داروں کا مکمل ریکارڈ جو اللہ کے پاس محفوظ ہے۔
مفسرین کے اقوال
ابن کثیر لکھتے ہیں: اللہ ہمیں ان کافروں کے بارے میں اطلاع دے رہا ہے، جو قیامت کے واقع ہونے پر شک کرتے ہیں اور بے اعتقادی سے پوچھتے ہیں:أَإِذا کُنَّا عِظَامًا وَرُفاَتاً (کیا ہم حقیقت میں دوبارہ زندہ کیے جائیں گے، جب ہم ہڈیاں اور مٹی بن چکے ہوں گے؟) (یعنی جب ہم مٹی میں تبدیل ہو چکے ہوں گے۔) مجاہدؒ نے کہا کہ یہاں ’’تراب‘‘ سے مراد ’’مٹی‘‘ ہے اور علی بن ابی طلحہ نے ابن عباسؓ سے نقل کیا کہ اس کا مطلب ’’غبار‘‘ ہے۔
جہاں تک أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ (کیا ہم نئی تخلیق کے طور پر اٹھائے جائیں گے؟) کے جملے کا تعلق ہے، تو یہ یوم قیامت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب ہمارے جسم تلف ہو جائیں گے اور مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے اور ہم بھلا دیے جائیں گے تو کیا اس وقت ہم نئی تخلیق کے طور پر زندہ کیے جائیں گے؟ یہی وہ وقت ہے، جب اللہ نے اپنے پیغمبر کوحکم دیا کہ وہ ان سے کہیں: قل کُونُوا حِجَارَۃً أَوْ حَدِیدًا (کہو: اگر تم چاہو تو پتھر بن جاؤ یا لوہا)۔ دونوں چیزیں ہڈی اور مٹی سے زیادہ مضبوط ہیں۔ أَوْخَلْقًا مما یَکْبُرُ فِی صُدُورِکُمْ(یا ایسی مخلوق جو تمھارے دلوں میں اس سے بھی زیادہ عجیب ہو۔) ان کے لیے کچھ ایسا ہے، جو ان کے لیے اور بھی زیادہ ناقابل تصور ہے۔
ابن اسحاق نے ابن ابی نجیح سے مجاہد کا قول نقل کیا کہ میں نے ابن عباس سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: ’’اس کا مطلب موت ہے۔‘‘
عطیہ نے ابن عمر سے نقل کیا، جنھوں نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: ’’اگر تم مردہ ہو، تو میں تمھیں زندہ کر دوں گا۔‘‘ اسی طرح سعید بن جبیر، ابو صالح حسن، قتادہ اور ضحاک نے بھی یہی تفسیر بیان کی ہے۔
امام رازیؒ لکھتے ہیں:جہاں تک اللہ کے اس قول ’’کہو، اگر تم چاہو تو پتھر بن جاؤ یا لوہا‘‘ کا تعلق ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے قیامت کے دن زندہ ہونے کے امکان پر شک کیا۔ یہ پوچھتے ہوئے کہ کیا ہم واقعی زندہ کیے جائیں گے، جب ہم ہڈیاں اور مٹی بن چکے ہوں گے؟ اگرچہ ہڈیاں اور مٹی پہلی نظر میں زندگی سے ہم آہنگ نظر نہیں آتیں، لیکن انھوں نے یہ تصویر کیا کہ موت کے بعد جسم ایک ایسی حالت میں بدل سکتا ہے، جو زندگی کے امکان سے بھی زیادہ متضاد ہو جیسے پتھر یا لوہا بن جانا۔ پتھر اور لوہے کا زندگی سے ہم آہنگ نہ ہوتا، ہڈیوں اور زندگی سے ہم آہنگ نہ ہونے سے زیادہ بعید از قیاس ہے کیوںکہ ہڈیاں تو پھر بھی کبھی کسی جان دار جسم کا حصہ رہی تھیں۔ تاہم پتھر اور لوہا کبھی بھی کسی بھی شکل میں زندگی سے جڑے نہیں تھے۔
لہٰذا اگر لوگوں کے جسم مرنے کے بعد پتھر یا لوہے میں تبدیل ہو جائیں، تب بھی اللہ تعالیٰ ان میں زندگی واپس لوٹا سکتا ہے اور انھیں زندہ اور باشعور بنا سکتا ہے جیسے وہ پہلے تھے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان جسموں میں زندگی اور عقل کی صلاحیت موجود ہے۔ اگر یہ صلاحیت نہ ہوتی تو ان میں زندگی اور عقل کی ابتدا نہ ہوتی اور چوںکہ اللہ رب العالمین تمام تفصیلات سے واقف ہے اور اس کا علم مکمل ہے، اس لیے ایک نیک شخص جیسے زید کے جسم کے اعضا اور ایک گناہ گار شخص جیسے عمرو کے جسم کے اعضا میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اللہ ہر ممکن چیز پر قادر ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ان جسموں کے اعضا میں زندگی واپس آنا ممکن ہے اور یہ تسلیم کیا جائے کہ اللہ تمام معاملات سے آگاہ ہے اور ہر ممکن چیز پر قادر ہے تو یہ یقینا ثابت ہو جاتا ہے کہ زندگی ان اعضا کو واپس مل سکتی ہے، چاہے وہ ہڈیاں، مٹی یا ہڈیوں سے بھی دور کوئی چیز جیسے پتھر یا لوہا بن چکے ہوں۔ یہ ایک منطقی اور قطعی دلیل ہے۔
جہاں تک اللہ کے اس فرمان: کُونُوا حِجَارَۃ أَوْ حَدیداً (کہو،: پتھر یا لوہا بن جاؤ) کا تعلق ہے تو اس کا مقصد حکم نہیں بلکہ ایک مثال دینا ہے۔ یعنی اگر آپ کو زندگی کے لیے زیادہ ناممکن چیز میں تبدیل کر دیا جائے تب بھی اللہ کے لیے آپ کو دوبارہ زندہ کرنا ناممکن نہیں ہوگا۔ یہ اس طرح ہے جیسے کوئی دوسرے سے کہے: ’’کیا تمھیں لگتا ہے کہ میں یہ نہیں کر سکتا کیوںکہ میں فلاں ہوں؟‘‘ اور جواب ہو: ’’جو چاہے بن جاؤ، چاہے خلیفہ کے بیٹے بن جاؤ پھر بھی میں تم سے اپنا حق مانگوں گا۔‘‘
اگر یہ کہا جائے کہ اس عبارت کا کیا مطلب ہے أَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُ فِی صُدُورِکُمْ (یا کوئی ایسی مخلوق جو تمھارے دلوں میں اور بھی زیادہ غیر ممکن ہو؟) تو ہم کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پتھر اور لوہے کا زندگی سے ہم آہنگ ہونا بہت غیر متوقع ہے۔ اس لیے ان سے کہا گیا کہ ’’کسی ایسی چیز کا تصور کرو، جو پتھر یا لوہے سے بھی زیادہ زندگی کے لیے ناممکن ہو۔ کوئی ایسی چیز جس پر تمھارا ذہن یقین نہ کر سکے کہ اس میں زندگی ہو سکتی ہے۔‘‘
اس سیاق وسباق میں اس چیز کی وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں کیوںکہ مقصد یہ ہے کہ انسانوں کے جسم، چاہے وہ مرنے کے بعد کسی بھی شکل میں بدل جائیں، یہاں تک کہ اگر وہ ایسی حالت میں پہنچ جائیں جو مکمل طور پر زندگی سے نابلد ہو پھر بھی اللہ انھیں دوبارہ زندہ کرنے کے قابل ہے۔ اس آیت میں اس معنی کے لیے کسی خاص چیز کا ذکر ضروری نہیں۔ ابن عباس نے کہا کہ یہاں مراد موت ہے۔
متحجرات
متحجرات جانوروں یا پودوں کی وہ باقیات یا نشانیاں ہیں، جو قدرتی عملوں کے ذریعے زمین کی سطح پر محفوظ ہو جاتی ہیں۔ متحجرات کی اصطلاح عام طور پر اس چیز کے لیے استعمال ہوتی ہے، جو زمین میں پائی جاتی ہو یا دفن ہو۔ زندہ جان داروں کو، جو ابھی زندہ ہیں یا وہ مر کر دفن ہو جائیں تو انھیں متحجرات نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس لیے کہ بیشتر علمائے احفوریات اُس کو متحجرات کے طور پر شمار کرتے ہیں، جو مخصوص اوقات میں دفن ہوئے ہوں۔ متحجرات کی کم سے کم عمر عام طور پر ۰۰۰،۱۰؍ سال سمجھی جاتی ہے، جب کہ بعض متحجرات کی عمر ۴؍ ارب سال تک ہو سکتی ہے۔ دریافت شدہ اور غیر دریافت شدہ متحجرات اور ان کی موجودگی پتھر کے تکوینوں اور تہ نشینی پرتوں میں مل کر جو چیز تشکیل پاتی ہے، وہ ’’حفریاتی ریکارڈ‘‘ کہلاتی ہے۔
سائنس دانوں نے متحجرات کی عمر کا تعین ان چٹانوں کی تہوں کی تاریخ سے کیا ہے، جن میں یہ موجود ہیں اور اس کے لیے ’’ریڈیو میٹرک ڈیٹنگ‘‘ (Radiometric Dating) کے طریقے کا استعمال کیا جاتا ہے، جو چٹانوں کی عمر کا تعین ان میں موجود تاب کار آئسوٹوپس (Radioactive Isotopes) کے ذریعے کرتا ہے۔
لہٰذا قدیم زندگی (قبل تاریخ زندگی) کا مطالعہ کرنے کا واحد طریقہ ان باقیات کا مطالعہ کرنا ہے، جو متحجرات کے طور پر محفوظ ہیں۔ اس لیے یہ غلط ہے کہ کچھ لوگ ڈایناسور کی متحجرات کو ’’ڈایناسور کا ڈھانچہ‘‘ تصور کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ نام یاتی مادے جو ہڈیوں کو تشکیل دیتے ہیں، لاکھوں سال تک زندہ نہیں رہ سکتے۔ جو ہم حقیقت میں دیکھتے ہیں، وہ ان ہڈیوں کے پتھریلے نمونے ہیں۔ اس طرح ہم صرف ڈایناسور کے وہ حصے دیکھتے ہیں، جو کہ پتھر میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
متحجرات کے تحفظ کے لیے کیا شرائط ہیں؟
٭ ٹھوس حصوں کا موجود ہونا جیسے ہڈیاں، خول اور ریشے دار بافتیں۔
٭ جلدی دفن ہونا اور جسم کے مرنے کی جگہ سے زیادہ دور نہ منتقل ہونا۔ یہ Taphonomy کے شعبے میں آتا ہے، جو اس بات کا مطالعہ کرتا ہے کہ مردہ جان دار کے ساتھ اس کی موت کے وقت سے لے کر اس کے دریافت ہونے تک کیا ہوتا ہے۔
٭ مٹی، کیچڑ اور ریت جیسے باریک ترسیبات میں دفن ہونا۔
٭ مردہ جانوروں اور پودوں کے باقیات پر بیکٹیریا کی کم سے کم سرگرمی جو تیز بوسیدگی کو روکتی ہے، نیز درجۂ حرارت اور نمی کی مستحکم سطح۔
٭ زیر زمین پانی کے چلاؤ کا عمل، جوحل شدہ معدنیات کو لے کر جان دار کے اجزا کو کیمیائی طور پر مستحکم کرتا ہے۔
ہڈیاں کس طرح پتھر یا لوہے میں بدلتی ہیں؟
یہ بات بہ خوبی معلوم ہے کہ جان داروں کی سب سے زیادہ محفوظ باقیات، سخت باقیات ہوتی ہیں جیسے ہڈیاں، دانت اور خول۔ یہ اس وقت ہوتا ہے، جب ان باقیات میں موجود خلیاتی خالی جگہیں یا کیمیائی مرکبات مختلف معدنیات سے بھر جاتی ہیں یا ان سے تبدیل ہو جاتی ہیں۔ یہ اکثر کیلسیٹ، سیلکا، پائریٹ یا دیگر اشیا ہوتی ہیں۔ ان معدنیات کی بنیاد پر جو اصل اجزا کو تبدیل کرتی ہیں۔ یہ متحجر باقیات دو اہم اقسام میں تقسیم کی جاسکتی ہیں:
پہلی قسم: وہ باقیات جو پتھر میں بدل گئی ہیں۔
یہ بات بہ خوبی معلوم ہے کہ سیلکا زیادہ تر چٹانوں اور پتھروں کا بنیادی جز ہے۔ درحقیقت، سیلکا زمین کی پرت میں سب سے زیادہ پائی جانے والی معد نیات ہے۔ اس لیے جب خلیاتی خالی جگہیں یا معدنیات جیسے سیلکا یا کیلسیٹ زندہ جان دار کی باقیات کو تبدیل کر دیتی ہیں تو ان باقیات کا ایک چٹانی نمونہ بنتا ہے۔ نتیجے کے طور پر یہ باقیات پتھر میں تبدیل ہو چکی ہوتی ہیں۔
دوسری قسم: وہ باقیات جو لوہے میں بدل گئی ہیں۔
کئی معاملات میں کسی جان دار کی باقیات کو معدنیاتی پائریٹ Pyrite سے تبدیل کر دیا جاتا ہے، جو کہ ’آئرن پائریٹ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ معدنیات آئرن ڈائی سلفائیڈ FeS2 ہوتا ہے اور یہ سونے کی طرح رنگ اور چمک پیدا کرتا ہے۔اس وجہ سے اسے ’’فولز گولڈ‘‘ (غلاط سونا) کہا جاتا ہے۔ جب کسی جان دار کی باقیات کو اس معدنیات سے تبدیل کیا جاتا ہے اور وہ اچھی طرح محفوظ ہو جاتی ہیں تو آئران پائریٹ سے بنی باقیات کا ماڈل ایک دھاتی چمک اختیار کر لیتا ہے، جو پائر بیٹ کی چمک سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔
تاہم یہ اہم بات ہے کہ پائریٹ ایک غیر مستحکم معدنیات ہے۔ اگر باقیات اچھی طرح محفوظ نہ ہوں اور اگر انھیں نمی کا سامنا ہو تو پائریٹ آکسیڈائز ہو کر زنگ کی ایک گھڑی میں تبدیل ہو جائے گا، جو آئرن سلفیٹ FeSO4.7H20 ہے۔
انسانی جسم کو پتھر میں بدلنے کی کوششیں
کیا مفسرین کو اس کا اندیشہ تھا کہ بعض انسان حقیقت میں مردہ اجساد کو پتھر میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے؟ حقیقتاً ایسا ہوا ہے۔ تقریباً دو صدی قبل اطالوی سائنس دان جیر ولامو سیگاتو (Girolamo Segato) نے مردہ انسانی اجساد کو پتھر میں تبدیل کرنے کے تجربات کیے، جن کا مقصد انھیں قدیم مصریوں کے ممی بنانے کے عمل سے زیادہ پیچیدہ طریقے سے محفوظ کرنا تھا۔ محققین کا خیال ہے کہ وہ اس عمل میں جزوی طور پر کام یاب ہوئے تھے اور ان کے تجربات کے متعدد نتائج، جن میں پتھر میں بدلے ہوئے انسانی جسم کے حصے شامل ہیں اور یونی ورسٹی آف فلورنس کے اناٹومیکل میوزیم میں محفوظ ہیں۔
تحجر کے عمل پر مختلف لیباریٹری تجربات
بہت سے مطالعات اور تحقیقی مقالے تجرباتی فوسلائزیشن Fossilization) )کی کوششوں پر شائع ہوچکے ہیں، جن میں پودوں اور جانوروں کے حصوں کو پتھر میں تبدیل کرنے یا بعض معاملات میں آئرن (پائریٹائزیشن) میں تبدیل کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ ایک مثال لندن کی رائل ہالووے یونی ورسٹی کے ایک گروپ کی جانب سے کیے جانے والے تجربات ہیں، جنھوں نے پودوں کے ٹشوز کو معدنی پائریٹ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ اسے ’فوسلائزیشن کی تفہیم: پودوں کی تجرباتی پائریٹائزیشن‘ کے عنوان سے شائع کیا گیا تھا۔
یہ انسانی کوششوں کی صرف ایک مثال ہے، جس میں جانوروں یا پودوں کے باقیات کو پتھر یا لوہے کی معدنیات میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے یہ تجربات اب انسانی باقیات کو بھی شامل کرتے ہیں اور یہ امکان ہے کہ مستقبل میں انسانوں کے جسموں کو پتھر یا معدنیات میں تبدیل کرنے کی یہ کوششیں بڑھیں یا حتیٰ کہ بعض افراد خود ان کے لیے یہ عمل اختیار کریں۔
قرآن کا سائنسی معجزہ
زندہ جان داروں کی باقیات وقت کے ساتھ پتھر میں تبدیل ہو جاتی ہیں یا بعض اوقات لوہے کے خام مال میں تبدیل ہو کر آخر کار زنگ کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ قرآن کی آیت (قل کُونُوا حِجَارَۃً أَوْ حَدِیدًا) ’’کہہ دو: پتھر یا لوہا بن جاؤ‘‘ اسی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو ایک سائنسی حقیقت ہے۔ اس کی تصدیق جدید پالیونٹولوجی (قدیمی حیاتیات) نے کی ہے۔ یہ آیت اس بات کی پیش گوئی کرتی ہے کہ جان دار موجودات پتھریلی ساختوں یا لوہے کے ڈھانچوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
لہٰذا یہاں کافروں کے لیے پیغام واضح ہے۔ چاہے کتنا بھی وقت گزر جائے یا کتنے ہی ادوار گزریں یا آپ ان کے جسموں کو پتھر یا لوہا بنانے کی کوشش کریں، وہ ذات جس نے انھیں عدم سے وجود بخشا، انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ لہٰذا پوری دنیا کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ عظیم کتاب، جو ایک امی نبی کے دل پر صحرا کے درمیان نازل ہوئی، اسی کا ئنات کے خالق کا کلام ہے۔ اس کی شان بلند ہے اور اس کا فرمان ہے:
قُلْ أَنزَلَہُ الَّذِی یَعْلَمُ السَّرْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّہُ کَانَ غَفُورًا رَّحِیمًا (الفرقان: ۶)
’’کہہ دو: اس کو اسی نے نازل کیا، جو آسمانوں اور زمین کا غیب جانتا ہے۔ بے شک وہ ہمیشہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘
حوالہ جات
ا- محاضرات، ڈاکٹر حسنی حمدان، پروفیسر علوم ارض، جامعۃ منصورۃ، ومشیر الہیئۃ العالمیۃ للإعجاز العلمی في القرآن والسنۃ۔
۲- علم متحجرات، فاروق صنع اللہ عمری، وطارق صالح عبادی، ۱۹۸۲، مدیریۃ دار الکتب للطباعۃ والنشر، موصل یونی ورسٹی، ص۴۷۴۔
http://www.discoveringfossils.co.uk/pyrite_formation_fossils.htm

