حدیث:اصول، تخریج ، تدریس

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی

تمام اسلامی تعلیمات کا سرچشمہ کتاب اﷲ اور سنت رسول ہے ؛ چنانچہ رسول اﷲ ا نے ارشاد فرمایا ’’ترکت فیکم شیئین لن تضلوا بعدہما کتاب اﷲ وسنتي‘‘ ۱؎ ان دونوں مصادر شریعت میں سے جہاں کتاب اﷲ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ استناد کے اعلیٰ ترین مقام پر ہے اوراس کا ایک ایک حرف محفوظ ہے؛ بلکہ خود اﷲ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے ’’ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ‘‘ (الحجر : ۹) اور جس کے شک و شبہ سے بالاتر ہونے کی خود قرآن مجید نے صراحت کی ہے ’’ ذٰلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْبَ فِیْہِ‘‘ ( البقرۃ : ۲ ) وہیں حدیث کو یہ اہمیت حاصل ہے کہ وہ قرآن مجید کا بیان اور شریعت اسلامی کی توضیح و تفسیر ہے ؛ اسی لئے امام اوزاعیؒ نے فرمایا : ’’الکتاب أحوج إلی السنۃ من السنۃ إلی الکتاب‘‘ حدیث کی اسی اہمیت کی وجہ سے اسے ہر عہد کے اصحابِ نظر علماء اور محققین کی خصوصی توجہ حاصل رہی ہے اور دوسری صدی ہجری سے لے کر موجودہ صدی تک کوئی عہد ایسا نہیں گذرا ، جس میں حدیث کے مختلف پہلوؤں پر ، اس عہد کی ضرورتوں کے مطابق بہت سی تصنیفات منظر عام پر نہیں آئی ہوں ، روایت و تدریس اور تصنیف و تحقیق غرض ہر پہلو سے اس فن کی ایسی عظیم الشان خدمت کی گئی ہے کہ اس کو رسول اﷲ ا کے معجزہ کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔
اللہ تعالیٰ کا نظام یہ رہا ہے کہ جن مذہبی کتابوں سے اب انسان کی ہدایت متعلق نہیں رہی ، وہ محفوظ نہیں رہیں اور وہ انسانی آمیزشوں اور ملاوٹوں کا شکار بن گئیں ، اسی طرح ان مذہبی پیشواؤں کی سیرت بھی اپنی حقیقی حالت میں آج موجود نہیں ہے ، یہاں تک کہ جن پیغمبروں کا قرآن مجید میں ذکر آیا ہے اور جن پر ہمارا ایمان ہے ، ان کی زندگی کے بھی محض چند واقعات آج روشنی میں ہیں ؛ بلکہ اگر قرآن مجید میں ان کا ذکر نہ ہوتا ، تو تاریخی طورپر ان کی تصدیق بھی دشوار ہوتی ؛ لیکن جناب محمد رسول اﷲﷺ پر چوںکہ نبوت کا سلسلہ مکمل ہوچکا ہے اور قیامت تک انسانیت آپ ہی کے نبوت کے سایہ میں رہے گی ، اس لیے من جانب اﷲ آپ کی پوری زندگی تاریخ کی روشنی میں ہے اور آپ کے فرمودات ومعمولات اس طرح محفوظ ہیں کہ زندگی کا کوئی گوشہ اندھیرے میں نہیں ہے ، اس لیے حدیث کی حفاظت دراصل قرآن کی حفاظت اور رسول اﷲ ا پر ختم نبوت کا لازمی تقاضہ ہے ۔
حدیث کی نقل و روایت کی خدمت اس کے ابتدائی عہد میں جس طرح عربوں نے کی ، اسی طرح اس کے جمع و تدوین اور اس فن کو اوجِ کمال تک پہنچانے کا سہرا زیادہ تر ایرانی نژاد علماء کے حصہ میں آیا ، پھر مصر و شام اورفلسطین و یمن کے علاقوں سے اُٹھنے والے اہل علم نے اس فن کی آبیاری میں حصہ لیا ہے ، اسی طرح ہندستان گو جزیرۃ العرب سے دور دراز کا علاقہ ہے ؛ لیکن اسے یہ شرف حاصل ہے کہ حضرت عمر کے ابتدائی عہد میں ہی یہاں سے اہل ایمان کا قافلہ حجاز مقدس پہنچ چکا تھا اور بعض تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول ا ﷲ ﷺکے زمانے میں ہی ہندستان کے ساحلی علاقہ پر اسلام کی روشنی پہنچ گئی تھی ، اس دیار نے جہاں مختلف اسلامی اور عربی علوم کی خدمت کی ہے ، وہیں حدیث نبوی کی خدمت میں بھی اس کا نمایاں حصہ رہا ہے۔
برصغیر کا علم حدیث سے قدیم رابطہ رہا ہے ، یہاں حضرت عمر کے عہد سے ہی صحابہ اورتابعین کا ورود شروع ہوگیا تھا ، عہد فاروقی میں پانچ صحابہ ، عبد اﷲ بن عبد اﷲ بن عتیق انصاری ، عاصم بن عمر و تمیمی ( جو فتح عراق میں حضرت خالد بن ولید کی فوج میں شامل تھے ) ، قبیلۂ بنو عبد القیس کے صحار بن عبدی ، سہیل بن عدی اور حکم بن ابی العاص ثقفی کا ذکر ملتا ہے ، اس طرح حضرت عثمان غنی کے عہد میں عبید اﷲ بن معمر تمیمی مدنی ، عبد الرحمن بن سمرہ ( جو فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے ) اور حضرت امیر معاویہ کے عہد میں سنان بن سلمہ ہذلی ، جو سندھ تشریف لائے ، ان میں بعض حضرات کے راویان حدیث میں شامل ہونے کی صراحت ملتی ہے ، اور عمومی طورپر صحابہ کی تربیت اس طرح ہوئی تھی کہ وہ کہیں بھی اور کسی بھی نسبت سے پہنچتے ، رسول اﷲﷺ کے ارشادات لوگوں تک پہنچاتے ۔
اس عہد کے بعد موسیٰ بن یعقوب ثقفی( جو محمد بن قاسم کے ساتھ سندھ آئے تھے) یزید بن ابی کبشہ سکسکی دمشقی( جن کو سلیمان بن عبدالملک نے محمد بن قاسم کی جگہ مقرر کیا )تابعی تھے اور ماہرین رجال نے ان کو ثقہ راوی شمار کیا ہے ، بخاری میں بھی ان کی روایت ہے ، مفضل بن ابی صفراء ، ابو موسیٰ اسرائیل بن موسیٰ بصری ( جن کے تلامذہ میں سفیان ثوری ، سفیان بن عیینہ اور یحییٰ بن سعید القطان جیسے محدثین ہیں ) عمر و بن سفیان ثوری ، ربیعہ بن صبیح بصری ، جو حسن بصری کے شاگرد تھے اور جن کو اسلام میں پہلا مصنف قرار دیا گیا ہے ، جیسے اہل علم اورعلماء حدیث پہلی اور دوسری صدی ہجری میں وارد ہند ہوئے ، پھر سندھ کے شہر دیبل اورسندھ ہی میں محمد بن قاسم کے قائم کئے ہوئے شہر منصورہ کو مشرق میں اشاعت علم حدیث کے مرکز کی حیثیت حاصل ہوگئی اور اس وقت سے یہاں علم حدیث کی خدمت کا تسلسل قائم رہا ۔
عام طورپر علماء ظاہر اور علماء باطن میں چشمکیں رہتی ہیں ۔لیکن ہندستان میں صوفیا کی خدمت کا ایک امتیازی پہلو یہ رہا ہے کہ دہلی اور اس کے مشرق و مغرب کے علاقوں میں علم حدیث کی نشر و اشاعت صوفیا اور ان کی خانقاہوں سے ہوئی ، شاہ نظام الدین اولیاء (جن کے فیض کا دائرہ دور دور تک وسیع تھا ) نے اپنی شہرت و مقبولیت کے عروج کے زمانہ میں علم حدیث کی تحصیل کے لیے مولانا کمال الدین زاہد کا تلمذ اختیار کیا اور ان سے ’’ مشارق الانوار ‘‘ پڑھی ، جو تدریسی نقطۂ نظر سے ہندستان میں مقبول ترین کتاب تھی ، حدیث کی وجہ سے وہ صلاۃ جنازہ علی الغائب ، قراء ۃ فاتحہ خلف الامام اور سماع کے مسئلہ میں فقہائے احناف سے اختلاف رکھتے تھے ، آپ کے شاگردوں میں شمس الدین اودھی ہیں ، جنھوں نے مشارق الانوار کی شرح لکھی تھی، فخر الدین دہلوی ہیں ، جن کی تالیف ’’کشف القناع عن وجوہ السماع ‘‘ کا مخطوطہ اب بھی موجود ہے ، ’’ تاریخ فیروز شاہی ‘‘ کے مصنف فیروز شاہ برنی ، شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی اور سید محمد گیسو دراز ، جنھوں نے مشارق الانوار کی شرح بھی لکھی اورفارسی میں اس کا ترجمہ بھی کیا ، نیز معروف فقیہ قاضی شہاب الدین دولت آبادی بھی آپ کے تلامذہ میں خصوصیت سے قابل ذکر ہیں ۔
شیخ نظام الدین اولیاء سے بھی بڑھ کر جنھیں علم حدیث میں شہرت حاصل ہوئی ، وہ مخدوم الملک شیخ شرف الدین یحییٰ منیری کی شخصیت ہے ، انھوں نے سونار گاؤں میں اپنے استاذ اور خسر ابو تویمۂ حنبلی کی نگرانی میں تعلیم حاصل کی ، ان کے مکتوبات اور تصوف سے متعلق تالیفات میں کثرت سے احادیث منقول ہیں اور کہا جاتا ہے کہ پورے ہندستان میں سب سے پہلے انھوں نے ہی صحیحین کی تعلیم شروع کی ، ان کے شاگردوں میں شیخ مظفر بلخی ، حسین بن معز بہاری اور احمد لنگر دریا علم حدیث کی نشر و اشاعت اور تصنیف و تالیف میں امتیازی حیثیت کے حامل ہیں ۔
تیسری شخصیت سید علی ہمدانی کی ہے ، جن کے ذریعہ کشمیر میں اسلام کی اشاعت بھی ہوئی اور درس حدیث کا سلسلہ بھی شروع ہوا، انھوں نے ’’ السبعین فی فضائل امیر المومنین ‘‘ (جو اہل بیت کے فضائل میں ہے ) اور ’’ اربعین فی الحدیث ‘‘ لکھی ، ان کے شاگردوں میں سید جلال الدین اور قاضی حسین شیرازی قابل ذکر ہیں ، قاضی شیرازی ہی نے بابا رتن ہندی سے متعلق احادیث جمع کیں ، جو صحابی رسول ہونے کا مدعی تھا ۔چوتھی شخصیت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی کی ہے ، ان کے تلامذہ میں ان کے صاحبزادے محدث جمال الدین کے علاوہ سید جلال الدین بخاری خاص طورپر قابل ذکر ہیں ، ثانی الذکر بھی قراء ۃ فاتحہ خلف الامام اور صلوٰۃ جنازہ علی الغائب کے سلسلے میں شاہ نظام الدین اولیاء کے نقطۂ نظر پر تھے ، اس طرح ہندستان میں اشاعت حدیث کے سلسلے میں صوفیاء کا بڑا اہم حصہ رہا ہے ۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بعض بڑے بڑے محدثین جو عالم عرب میں اپنے عہد میں مرجع کی حیثیت رکھتے تھے ، ان کے تلامذہ یا تلامذہ کے تلامذہ خود ہندستان میں وارد ہوئے یا ہندستان سے جاکر وہاں کسب ِفیض کرکے واپس آئے ، حافظ ابن حجر عسقلانی سے براہ راست استفادہ کرنے والوں میں ہمیں یحییٰ بن عبد الرحمن ہاشمی شافعی کا نام ملتا ہے ، جن کے علم کا فیض گلبرگہ سے جاری ہوا اور ایک واسطہ سے تلمذ حاصل کرنے والوں میں جنوبی ہند کے مشہور عادل حکمراں محمود گاواں ہیں ، جنھوں نے ایک عظیم الشان مدرسہ کی بھی بنیاد رکھی ، اسی طرح علامہ عبدالرحمن سخاوی کے شاگردوں میں ابوالفتح بن رضی مکی ، احمد بن صالح عمر بن محمد دمشقی ، عبدالعزیز بن محمود طوسی شافعی ، وجیہ الدین محمد مالکی ، حسین بن عبد اﷲ کرمانی اور جمال الدین محمد جو بحرق کے نام سے معروف تھے ، نیز رفیع الدین صفوی کا تذکرہ ملتا ہے ، جن میں سے زیادہ تر شخصیتیں دکن کی مختلف مسلمان سلطنتوں میں فروکش تھیں ، یہ سب براہ راست علامہ سخاوی کے شاگرد تھے۔ علامہ ابن حجر ھیثمی کے تلامذہ شیخ عبد اﷲ عیدروسی ، ابوالسعادہ محمد فاکہی حنبلی ، میر مرتضیٰ شریف شیرازی اور محمد میر کلاں محمد سعید بن مولانا خواجہ ہیں ، جو محدث اکبر آبادی کے نام سے معروف تھے ، اول الذکر دونوں بزرگوں کا علمی مرکز گجرات میں قائم ہوا اور ثانی الذکر دونوں شخصیتوں کا آگرہ میں ، اس طرح مشہور دبستانِ حدیث جو عالم اسلام میں پائے جاتے تھے ، ان کا فیض ہندستان تک پہنچا ہے ۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہندستان ایک ایسا ملک ہے ، جس کے مختلف خطوں میں درس حدیث کی گونج رہی ہے ، سندھ کو تو اس میں اولیت حاصل ہے ہی ؛ لیکن دکن ، گجرات ، دہلی ، جونپور ، بہار ، بنگال ، لکھنؤ ، لاہور اورمالدہ وغیرہ کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے اورہندستان کی خاک سے متعدد ایسی شخصیتیں اُٹھتی رہی ہیں ، جن کے علم کی روشنی نے عالم اسلام کو بھی منور کیا ہے ، ان میں شیخ علی متقیؒ کا نام خاص طورپر قابل ذکر ہے ، شیخ علی متقی (متوفی : ۹۷۵ھ ) نے احادیث پر متعدد کتابیں مرتب کی ہیں ، جن میں ’’ کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال ‘‘ کو ایسی عالمگیر شہرت و پذیرائی حاصل ہوئی ، جو کم کتابوں کے حصہ میں آئی ، اس کے علاوہ انھوں نے فقہی ابواب کی ترتیب پر ’’ الجامع الصغیر‘‘ اور زیادۃ الجامع الصغیر کا مجموعہ بھی ’’ منہاج العمال ‘‘ کے نام سے مرتب کیا تھا ، جو اب تک مخطوطہ کی شکل میں ہے ، اس دبستانِ درس کی شخصیتوں میں شیخ ابوالحسن سندھی (متوفی : ۱۱۳۸ھ ) محشی صحاح ستہ ہیں ، جنھوں نے پہلی بار مسند احمد کی شرح لکھی اور جو اب تک تشنۂ طبع ہے ، ان کے صاحبزادے علامہ محمد حیات سندھی ، علامہ ابوطیب سندھی جن کی شرح جامع ترمذی پر ہےاور ’’ عقود الجواہر المنیفہ فی اصول ادلۃ مذہب ابی حنیفہ ‘‘ کے مصنف علامہ سید مرتضیٰ بلگرامی ( متوفی : ۱۲۰۵ھ ) اور علامہ محمد عابد سندھی ( متوفی : ۱۲۵۷ھ ) جنھوں نے مسند امام ابی حنیفہ کی ’’ المواہب اللطیفہ ‘‘ کے نام سے شرح لکھی ہے ، نیز بلوغ المرام کی شرح بھی تالیف فرمائی ہے ، اسی درسگاہ کے کواکب وانجم ہیں ۔
شیخ کے شاگرد علامہ طاہر پٹنی حنفی کو علم حدیث کی خدمت میں جو شہرت حاصل ہوئی ، وہ محتاجِ اظہار نہیں ، ان کی تالیفات ’’ المغنی فی ضبط الرجال ، تذکرۃ الموضوعات ، قانون الموضوعات والضعفاء ، مجمع بحار الانوار ‘‘ مطبوعہ ہیں اور ’’ اسماء الرجال ‘‘ مخطوطہ کی شکل میں خدا بخش لائبریری پٹنہ میں موجود ہے ، ان ہی علماء میں شیخ وجیہ الدین علوی گجراتی ہیں ، جنھوں نے مختلف موضوع کی تیئس کتابوں پر شرحیں اور حواشی لکھے ہیں ، ہندستان کے محدثین میں ایک زندہ و پائندہ نام علامہ حسن صنعانی لاہوری ( متوفی : ۵۶۰ھ ) کا ہے ، جنھوں نے علوم اسلامی کی تحصیل کے لئے حجاز اورعراق کے بکثرت اسفار کیے ، انھوں نے احادیث موضوعہ پر قلم اُٹھایا ، جو رسالۃ الموضوعات کے نام سے چھپ چکا ہے ، مشارق الانوار کے نام سے ( ۲۲۵۳) احادیث کا بخاری و مسلم سے انتخاب کیا ، یہ کتاب ایک زمانے تک ہندستان کے تدریسی اُفق پر چھائی رہی اور اس کو تشریح وترجمہ کے اعتبار سے بھی اہل علم کی بڑی توجہ حاصل ہوئی ، ان کی فہرست تصانیف میں رجال پر ’’کتاب الضعفاء والمتروکین ‘‘ کے نام سے بھی ایک کتاب کا نام ملتا ہے ۔
ہندستان میں علم حدیث کی تدریس و تالیف کو فروغ دینے والی ایک نہایت اہم شخصیت شیخ عبد الحق محدث دہلوی کی ہے ، جنھوں نے ہندستان میں ’’ مشکوٰۃ المصابیح ‘‘ کے درس کو رواج دیا اور اس کی شرح عربی میں ’’لمعات التنقیح‘‘ اور فارسی میں ’’ اشعۃ اللمعات‘‘ کے نام سے لکھی ، آپ کی ایک اہم تالیف ایام ولیالی کے فضائل اوراعمال سے متعلق ’’ ماثبت بالسنۃ ‘‘ کے نام سے مطبوعہ ہے، شاہ عبدالحق صاحب نہ صرف خود حدیث کا درس دیا اورتالیف و تصنیف کے ذریعہ علم حدیث کی خدمت کی ؛ بلکہ ایک ایسی درسگاہ کی بنیاد رکھی ، جس سے بہت سے اہل علم نے استفادہ کیا اور بڑے بڑے محدثین وہاں سے فارغ التحصیل ہوئے ، جن میں خود شیخ کی اولاد و احفاد میں شیخ نورالحق ہیں ، جن کی بخاری پر ’’ تیسیر القاری ‘‘ کے نام سے پانچ جلدوں میں ایک جامع شرح چھپ چکی ہے ، اوراسی خاندان کے ایک اوربڑے عالم سلام اﷲ محدث رام پوری ہیں ، مؤطا امام مالک پر عربی زبان میں ان کی شرح ’’المحلی باسرار المؤطا‘‘ کے نام سے مخطوطہ کی شکل میں موجود ہے۔ شیخ عبد الحق کی درسگاہ سے استفادہ کرنے والوں میں بابا داؤد مشکاتی کشمیری بھی ہیں، جن کو پوری مشکوٰۃ حفظ تھی ، ان ہی میں میر غلام علی آزاد بلگرامی بھی ہیں ، جو مشہور مصنف ، مؤرخ اور فارسی کے ادیب تھے ، جن کی تالیفات میں ’’سبحۃ المرجان فی آثار ہندستان ‘‘ ( مطبوعہ ۱۳۰۳ھ ) اورہندستان سے متعلق احادیث پر ’’ شمامۃ العنبر فی ماورد فی الہند عن سید البشر‘‘ کو خاص طورپر شہرت حاصل ہوئی ۔
شاہ عبد الحق صاحب کے بعد جس شخصیت نے ہندستان میں باضابطہ درسگاہ حدیث کی بنیاد رکھی اورحدیث کے فیض کو دور دور تک پہنچایا ۔ وہ شاہ ولی اﷲ دہلویؒہیں ، جنھوں نے حجاز کا سفر کیا اور وہاں سے حدیث کا تحفہ لے کر آئے ، اس وقت ہندستان کی علمی فضا پر معقولات کی گھٹا چھائی ہوئی تھی ، انھوں نے ہندستان واپس آکر مؤطا امام مالک ، صحاح ستہ ، مسند دارمی اور مشکوٰۃ کا درس شروع کیا ، شاہ ولی اﷲ صاحب کے شاگردوں میں شاہ عبد العزیز صاحب ، قاضی ثناء اﷲ پانی پتی ، مولانا محمد عاشق پھلتی ، خواجہ امین ولی اللہی ، مولانا خیر الدین سواتی اورمولانا بشیر الدین مراد آبادی جیسے نابغۂ روزگار علماء شامل ہیں ، جن کے ذریعے پورے ہندستان میں حدیث کی نشر واشاعت ہوئی اور درس حدیث کی ایک نئی تحریک نے جنم لیا ، شاہ عبد العزیز صاحب سے استفادہ کرنے والوں میں شاہ فضل رحمن گنج مرادآبادی اور شاہ محمد اسحق جیسے اہل علم ہوئے ، دیوبند اورسہارنپور کا سلسلہ حدیث شاہ محمد اسحق صاحب اور شاہ عبد الغنی صاحب سے مربوط ہے ، اور شاہ عبد العزیز صاحب ہی کے ایک اور شاگرد میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی سے اہل حدیث مکتبہ فکر کا رشتہ جڑا ہوا ہے ، اس طرح اس وقت برصغیر میں حدیث کے جو مدارس ہیں ، ان سب کا سلسلۂ نسب شاہ عبد العزیز صاحب سے ملتا ہے ۔
شاہ عبد العزیز صاحب کے بعد ہندستان کے آسمان علم و تحقیق پر نیر تا باں بن کر طلوع ہونے والی شخصیات میں غالباً سب سے نمایاں نام مولانا عبد الحیٔ فرنگی محلی لکھنوی کا تھا ، وہ علوم اسلامی کی جامعیت ، حدیث و فقہ میں یکساں تبحر اور تقلید کے ساتھ ساتھ تحقیق اور فکر ونظر میں عدل و اعتدال کا ایسا نمونہ ہیں ، جن کو شاہ ولی اﷲ صاحب کی فکر کا عکس جمیل قرار دیا جاسکتا ہے ، وہ بنے بنائے راستے پر قناعت کرنے کے بجائے نئے راستے بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے اورابداعی فکر کے مالک تھے ، انھوں نے جس موضوع پر قلم اٹھایا ، اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ، حدیث کے رد و قبول کے سلسلے میں سند کے علاوہ دوسرے قرائن اوروجوہِ درایت کی اہمیت کو انھوں نے بڑی قوت کے ساتھ اور مدلل طورپر پیش کیا ، اس سلسلے میں ’’ الرفع والتکمیل ‘‘ اور ’’ الاجوبۃ الفاضلۃ ‘‘ اُصولِ حدیث کے پورے کتب خانے میں امتیازی حیثیت کی حامل کتابیں ہیں ، جو بعد کے اہل علم کے لئے سرمۂ چشم بنیں ؛ اسی لئے ممتاز محدث شیخ عبد الفتاح ابوغدہ کی جو توجہ مولانا لکھنوی کی تالیفات کو حاصل ہوئی ، شاید ہی کسی اور عالم کے حصہ میں آئی ہو ۔
اسی دور میں ہندستان میں ایک دوسری شخصیت نواب صدیق حسن خاں کی ابھری ، جو اس دیار میں مسلک اہل حدیث کے مؤسسین میں ہیں ؛ البتہ ان کے یہاں اعتدال اور ائمہ متبوعین کا پورا احترام بھی ہمیں نظر آتا ہے، فقہ الحدیث پر ان کی تالیف ’’نزل الابرار ‘‘ کے علاوہ ان کی اور بھی متعدد کتابیں ملتی ہیں اور خاص طورپر انھوں نے ہندستان میں علامہ شوکانی کے علوم وافکار کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس موقعے پر علامہ شوکانی کے ایک تلمیذ رشید محدث حسین بن محسن انصاری یمانی کا ذکر بھی مناسب ہوگا ، جو اپنے عہد کے مشہور اساتذۂ حدیث میں تھے ۔بڑے بڑے اہل علم خاص کر ندوۃ العلماء کے اکابر نے ان سے استفادہ کیا۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی بھی ان سے استفادہ کرنے والوں میں ہیں ، ان کی تالیف ’’ التحفۃ المرضیۃ فی حل بعض المشکلات الحدیثیۃ‘‘ نقد ِحدیث کے موضوع پر بڑی اہم کتاب ہے ، جس میں دوسری بحثوں کے بہ شمول حدیث کے رد و قبول میں تلقی بالقبول کی اہمیت پر بڑی چشم کشا گفتگو کی گئی ہے۔
مدارس حدیث کی جہد مسلسل ہی کا نتیجہ ہے کہ حدیث کے موضوع پر اُردو فارسی کے علاوہ عربی زبان میں بھی ہمیں علماء ہند کی تصنیفات کا ایک بڑا ذخیرہ نظر آتا ہے ؛ چنانچہ متونِ حدیث کو جمع کرنے میں شیخ علی متقی ہندی کی ’’ کنز العمال ‘‘ ایسی شہرہ آفاق اور جامع تالیف ہے ، جس کی شہرت ذکر و تعارف سے ماوراء ہے ، پھر ماضیٔ قریب میں مولانا ظہیر احسن شوق نیموی کی ’’ آثار السنن ‘‘ مولانا ظفر احمد عثمانی کی ’’ اعلاء السنن ‘‘ اور مولانا عبد اﷲ شاہ محدثِ دکن کی ’’زجاجۃ المصابیح ‘‘ حنفی نقطۂ نظر سے احکام حدیث کے ایسے جامع اور وقیع مجموعے ہیں ، جن کی عالم اسلام کے علماء نے بھی داد دی ہے ۔
شروح حدیث میں بخاری پر مولانا احمد علی محدث سہارنپوری اور مولانا محمد قاسم نانوتوی کے حواشی ، مولانا رشید احمد گنگوہی کی ’’ لامع الدراری ‘‘ مولانا انور شاہ کشمیری کی ’’ فیض الباری ‘‘ مسلم پر مولانا شبیر احمد عثمانی کی ’’ فتح الملہم، سنن ابی داؤد پر مولانا شمس الحق عظیم آبادی کی ’’ عون المعبود ‘‘ مولانا خلیل احمد سہارنپوری کی ’’ بذل المجہود ‘‘ اورمولانا سید انور شاہ کشمیری کی ’’ انوار المحمود ‘‘ سنن ترمذی پر مولانا عبد الرحمن مبارکپوری کی ’’ تحفۃ الاحوذی ‘‘ مولانا انور شاہ کشمیری کی ’’ العرف الشذی ‘‘ مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی ’’ معارف السنن ‘‘ اور مولانا رشید احمد گنگوہی کی ’’الکوکب الدری ‘‘ سنن نسائی پر مولانا رشید احمد گنگوہی کی ’’ الفیض السماوی ‘‘ اور مؤطا امام مالک پر شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی کی ’’المسویٰ ‘‘ ، نیز مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی کی مفصل شرح ’’ اوجز المسالک ‘‘ ، مؤطا امام محمد پر مولانا عبد الحیٔ فرنگی محلی کی ’’ التعلیق الممجد ‘‘ امام ابو یوسف کی کتاب الآثار پر مولانا ابوالوفاء افغانی کی ’’ تعلیقات ‘‘ امام محمد کی کتاب الآثار پر مفتی مہدی حسن شاہجہاں پوری کی ’’ قلائد الازہار ‘‘ نیز سنن دار قطنی پر مولانا شرف الدین عظیم آبادی کی التعلیق المغنی اور شرح معانی الآثار پر مولانا محمد یوسف کاندھلوی کی امانی الاحبار وغیرہ نہایت اہم تالیفات ہیں ۔
اُصولِ حدیث کے موضوع پر مولانا عبد الحیٔ فرنگی محلی لکھنوی کی ’’ ظفر الامانی علی مختصر الجرجانی ‘‘ شاہ عبد الحق صاحب کا مقدمہ فی اصولِ الحدیث از روئے درایت نقد حدیث کے سلسلے میں مولانا لکھنوی کی ’’ الرفع والتکمیل ‘‘ اور ’’ الاجوبۃ الفاضلۃ ‘‘ کے علاوہ اعلاء السنن پر مولانا ظفر احمد عثمانی کا ، فتح الملہم پر مولانا شبیر احمد عثمانی کا ، تحفۃ الاحوذی پر مولانا عبد الرحمن مبارکپوری کا ، اوجز المسالک پر مولانا محمد زکریا کاندھلوی کا اور لامع الدراری پر مولانا محمد عاقل سہارنپوری کا مقدمہ بلند پایہ تحریریں ہیں ، اسی طرح محدث یمانی کی التحفۃ المرضیہ اور نواب صدیق حسن خاں صاحب کی بعض تالیفات نہایت اہمیت کی حامل ہیں ۔
رجال کے سلسلے میں علامہ پٹنی کی ’’ المغنی فی ضبط الاسماء ‘‘ کے علاوہ شاہ عبد الحق محدث دہلوی کی ’’ الاکمال فی اسماء الرجال ‘‘ اور طحاوی کے رجال پر مولانا محمد ایوب سہارنپوری کی ’’ تراجم الاحبار ‘‘ وغیرہ اہم تالیفات ہیں ، اسی طرح تخریج حدیث میں مولانا حبیب اﷲ مختار کی ترمذی کی احادیث الباب پر ’’ کشف النقاب ‘‘ ایک مفید ترین کام ہے ، جو افسوس کہ مکمل نہیں ہوپایا ۔
یہ تو ان تالیفات میں سے کچھ اہم کتابوں کا ذکر ہے ، جو عربی زبان میں لکھی گئی ہے ؛ لیکن برصغیر میں اُردو زبان میں بھی حدیث کے موضوع پر ایک پورا کتب خانہ وجود میں آچکا ہے ، جس میں متونِ حدیث کے ترجمے بھی ہیں ، صحاحِ ستہ اور حدیث کی بعض اور کتابوں کی مختصر ، متوسط اورتفصیلی شرحیں ( جو زیادہ تر دروس کے مجموعے ہیں ) بھی ہیں، اُصولِ حدیث پر بھی مختصر اور مفصل مستقل کتابیں اور عربی کی اہم کتابوں کے ترجمے موجود ہیں ، حدیث کے انکار کے فتنے کی بیج یوں تو مستشرقین نے بوئی اور اس کا پہلا اثر مصر کی بعض مغرب زدہ شخصیتوں نے قبول کیا ؛ لیکن یہ فتنہ تقریباً اسی دور میں ہندستان میں بھی پہنچ گیا اور یہاں بعض معروف شخصیتیں اس گمراہی کا شکار ہوئیں ، اس پس منظر میں حدیث کی حجیت ، عہد نبوی اور عہد صحابہ میں حدیث کی کتابت اور حدیث کے استناد و اعتبار پر علماء نے پوری تحقیق ، بصیرت ، دینی حمیت اور سلف صالحین کے نقطۂ نظر پر استقامت کے ساتھ نہ صرف قلم اٹھایا ؛ بلکہ اس پر پورا کتب خانہ تیار کردیا اور شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہو کہ اس جہت سے علماء ہند کی خدمات عالم عرب سے بھی زیادہ وقیع ہیں ، اس سلسلے میں علامہ سید سلیمان ندوی ، مولانا سید مناظر احسن گیلانی ، مولانا حبیب الرحمن اعظمی ، مولانا بدر عالم میرٹھی اورمولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی وغیرہ کی خدمات خاص طورپر قابل ذکر ہیں ۔
روایات کی سند و متن اور نقد و درایت کی جہتوں سے تنقیح و تحقیق کے سلسلے میں علامہ شبلی نعمانی اور ان کے تلمیذ سعید علامہ سید سلیمان ندوی کی کوششیں ایک حد تک اس وقت تک کی ان تالیفات ِسیرت پر بھی بھاری ہیں ، جو عربی زبان میں لکھی گئی ہیں ۔
حدیث کی متعدد اہم تالیفات وہ ہیں ، جن پر تحقیق و تعلیق کی خدمت علماء ہند نے انجام دی ہے ، اس سلسلے میں ’’ مسند امام اعظم ‘‘ امام ابویوسف اور امام محمد کی ’’ کتاب الآثار ، مصنف عبدالرزاق ، مسند ابویعلی اور سنن سعید بن منصور ‘‘ پر علماء ہند کی علمی کاوشیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں اور ہندستان میں مولانا ابوالوفاء افغانی اور مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی خدمات اس سلسلہ میں ناقابل فراموش ہیں ، نیز عصر حاضر میں ڈاکٹر مصطفی اعظمی اور مولانا ابواللیث خیر آبادی وغیرہ خدمت حدیث کے سلسلہ میں عالمی سطح پر معروف ہیں اور ان کی تصنیفات کو عالم عرب میں بھی مقبولیت حاصل ہوئی ہے ۔
ان خدمات کے مختصر اور سرسری ذکر کا مقصد تفاخر اور محض تاریخ کے صفحات کو الٹانا نہیں ہے ؛ بلکہ مقصد یہ ہے کہ نئی نسل کے سامنے اپنے بزرگوں کا کارنامہ رہے ؛ کیوںکہ قومیں ماضی کے آئینہ میں اپنے مستقبل کو سنوارتی ہیں اور بزرگوں کے نقش قدم پر آئندہ کا سفر طے کرتی ہیں ، پس اﷲ تعالیٰ خادمین دین کے اس قافلے کو بہتر سے بہتر اجر عطا فرمائے اور ہمیں اپنے دین اورعلم دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے ۔
دکن بھی یہ علم حدیث کے اہم مراکز میں رہا ہے ، برہان پور ، گلبرگہ ، بیجاپور ، بیدر اور احمد نگر وغیرہ میں سنی مسلم حکومتوں نے محدثین کی بڑی پذیرائی کی اور انھیں تدریس و تصنیف کے ذریعہ اس علم کی آبیاری کرنے کا پورا پورا موقع فراہم کیا ہے ، جن میں سے بعض کا ذکر اوپر ہوچکا ہے ۔ ماضی قریب میں بھی دکن خاص کر حیدرآباد کا حدیث کی نشر و اشاعت میں بڑا حصہ رہا ہے۔ یہیں دائرۃ المعارف العثمانیہ سے پہلی بار ’’ کنز العمال ، سنن بیہقی ، کتاب الانساب للسمعانی ، کتاب الثقات لابن حبان ، مشکل الآثار للطحاوی ‘‘ وغیرہ جیسی عظیم کتابیں طبع ہوئیں ، اور اہل علم کو ان سے استفادہ کا موقع ملا ، اسی طرح مولانا ابوالوفاء افغانی کے قائم کردہ ادارہ ’’ لجنۃاحیاء المعارف النعمانیہ ‘‘ کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں ، جس سے امام ابویوسف اورامام محمد کی ’’ کتاب الآثار ‘‘ وغیرہ شائع ہوئیں۔ صحاح ستہ (سوائے سنن ترمذی ) کے مترجم اور مفردات حدیث پر عربی اُردو لغت کے مؤلف نواب وحید الزماں حیدرآبادی کا قیام اسی شہر میں تھا اور وہ یہیںکی آغوش میں پروان چڑھے ۔ مولانا شبیر احمد عثمانی کی فتح الملہم کی تالیف میں سابق حکومت حیدرآباد ہی نے مالی تعاون کا تحفہ پیش کیا اور بحمدا ﷲ اس وقت بھی اس دیار میں تدریس و تالیف اور تحقیق وتعلیق کی صورت میں علم حدیث کی خدمت جاری ہے اور متعدد ایسی درسگاہیں ہیں ، جہاں صحاحِ ستہ کا درس ہوتا ہے اورلڑکیوں کے لئے تو دورۂ حدیث تک تعلیم کی درسگاہیں ایک درجن سے زیادہ ہیں ۔
المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد ایک نو قائم شدہ ادارہ ہے ، جس کے قیام پر صرف دس سال پورے ہوئے ہیں ، اس کا بنیادی مقصد مختلف اسلامی علوم اور دینی خدمتوں میں بہتر اور باصلاحیت افراد کی تیاری ، نیز علماء کو انگریزی زبان اورعصر حاضر کے علوم سے اس حد تک آشنا کرنا کہ وہ زیادہ بہتر طورپر اسلام کی ترجمانی اورتشریح کرسکیں ، تفسیر و حدیث ، فقہ اور عصر حاضر میں اسلام کے بارے میں پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں کے موضوعات پر تحقیق ، غیر مسلم بھائیوں میں دعوتِ اسلام کی کوشش اور دعوت کی عملی جدوجہد اس کے مقاصد میں شامل ہیں ، اور یہ ادارہ بتدریج اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے ۔
اس کا ایک اہم شعبہ حدیث کا بھی ہے ، یہاں فقہ حنفی کی معروف کتاب ’’ بدائع الصنائع ‘‘ کی احادیث کی تخریج کا کام پانچ جلدوں میں ہوا ہے ، ایک اہم مخطوطہ ’’ الادلۃ الشریفہ علی مذہب ابی حنیفہ‘‘ ، علامہ سیوطی کی ’’العرف الوردی فی احادیث المہدی ‘‘ اور شاہ ولی اﷲ دہلوی کی ’’ حجۃ اﷲ البالغہ ‘‘کی تخریج بھی عمل میں آئی ہے ، ایک فاضل نے اُردو زبان میں حدیث کے سرمایہ کا تفصیلی جائزہ لیا ہے ، اور سن دو ہزار تک کی کتابوں کا تعارف پیش کیا ہے ، جن احادیث پر عقلی جہت سے اہل مغرب اعتراض کرتے ہیں ، ان پر بھی کام کرایا گیا ہے ، موضوع روایات پر اُردو زبان میں ایک تفصیلی مقالہ مرتب ہوا ہے ، جس میں وضع حدیث کی تاریخ ، علامات ، موضوع روایات سے متعلق کتابیں اور زبان زد موضوع روایات کا ذکر کیا گیا ہے اور اُردو زبان میں اس موضوع پر یہ پہلی تفصیلی کتاب ہے ، اسی طرح ایک فاضل نے حدیث کی جمع و تدوین کے سلسلے میں مستشرقین اور مستغربین کے اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے ، ایک اور فاضل نے ان مرویات کو جمع کیا ہے ، جن میں عہد نبوی اور عہد صحابہ میں کتابت حدیث کا ذکر ہے ، یہ مکررات کو حذف کرنے کے بعد حدیثیں ہیں ، جو غالباً اس موضوع پر اب تک جمع کی گئی روایتوں میں سب سے زیادہ ہے ، ایک فاضل نے ’’ علماء دیوبند کی خدمات حدیث ‘‘ اور ایک اور فاضل نے احناف کی کتب حدیث پر کام کیا ہے ، اس وقت طحاوی کی ’’شرح معانی الآثار ‘‘ پر احادیث کی تخریج اوررجال کی تحقیق کا کام بھی ہورہا ہے اورعلامہ ابن رشد قرطبی مالکی کی ’’ مختصر شرح معانی الآثار ‘‘ پر بھی — جو ابھی مخطوطہ کی شکل میں ہے — کوشش کی جارہی ہے کہ حدیث کی اس اہم کتاب کی شایانِ شان خدمت کی جائے۔ وباﷲ التوفیق وہو المستعان ۔

اس کیو آر کوڈ کو اسکین کرکے ادارے کا تعاون فرمائیں یا پرچہ جاری کرانے کے لیے زرِ خریداری ٹرانسفر کریں۔ رقم بھیجنے کے بعد اسکرین شاٹ ضرور ارسال کریں تاکہ آپ کو رسید بھیجی جاسکے۔ شکریہ