تحقیق کے سلسلے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ تحقیق کو ایک علم سے تعبیر کرتے ہیں تو کچھ لوگ اسے ایک فن کہتے ہیں۔ بعض لوگ تحقیق کو ایک شوق اور دل چسپی کا نتیجہ بتاتے ہیں تو کچھ لوگ اسے ایک انسانی ضرورت سے تعبیر کرتے ہیں۔ غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ تحقیق ان میں سے کوئی ایک چیز نہیں ، بل کہ ان تمام چیزوں کا سنگم ہے۔ بغیر ذاتی ذوق وشوق کے تحقیق انجام نہیں دی جاسکتی، تحقیق کو ایک فن (Art) کے طور پر نہ برتا جائے تو صحیح معنوں میں تحقیق نہیں کی جاسکتی۔ اسے ایک علم (سائنس /Science) کے طور پر اختیار نہ کیا جائے تو اس کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ اسے ایک انسانی ضرورت کی تکمیل کا وسیلہ سمجھ کر اختیار نہ کیا جائے تو وہ تحقیق برائے تحقیق یا بے معنی تحقیق بن کر رہ جائے گی۔ مختصر یہ کہ تحقیق ایک علم بھی ہے، فن بھی ہے، نتیجۂ شوق بھی ہے اور ایک انسانی ضرورت بھی۔ اسے ان چاروں حیثیتوں سے اختیار کیا جانا چاہیے اور ان میں سے ہر حیثیت کو پورے شعور اور احساس ذمے داری کے ساتھ برتنا چاہیے۔ نیچے دیا گیا یہ نقشہ تحقیق کی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے:
انسانی ضرورت
علم _____________ فن
ذوق وشوق
تحقیق کے مقاصد
اصحابِ علم وتحقیق نے تحقیق کے متعدد مقاصد بیان کیے ہیں۔ ان میں سے ہر مقصد کو اہمیت حاصل ہے۔ کسی کو بے اصل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس موضوع پر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان، ڈاکٹر عبدالحمید خان عباسی، ڈاکٹر خالق دار ملک، عبدالرزاق قریشی، پروفیسر خورشید احمد سعیدی، پروفیسر محمد باقر خان خاکانی، ڈاکٹر عمرفاروق غازی اور ڈاکٹر طفیل ہاشمی نے اپنی اپنی تحریروں میں تحقیق کے جو مقاصد بیان کیے ہیں، ان کو مختصر طور پر یہاں پیش کیا جارہا ہے۔
(۱) کسی مخفی حقیقت کو دریافت کرنا
درحقیقت یہ مقصد ہی اصل مقصد ہے۔ دوسرے مقاصد تحقیق میں بھی یہی مقصد جاری وساری رہتا ہے۔ حقیقت کا ادراک اور نئے گوشوں کی دریافت ہی تحقیق کا مقصد ہوتا ہے۔
(۲) کسی غلطی کی اصلاح
کبھی کبھی تحقیق کے ذریعہ کسی علمی، فکری اور نظریاتی عام غلطی کی اصلاح کرنا بھی مقصد ہوتا ہے۔ یعنی کسی موضوع پر اہل علم کے درمیان کوئی نظریہ عام ہوگیا ہو لیکن ہماری دریافت کہتی ہو کہ وہ نظریہ غلط ہے تو تحقیق کے ذریعہ اس عام غلطی کی اصلاح کر دی جاتی ہے۔
(۳) کسی آلے کی ایجاد
انسانی ضرورت کو دیکھتے ہوئے کوئی مشین یا آلہ ایجاد کرنا بھی تحقیق کا اہم مقصد ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسانوں کو حاصل سہولیتیں اسی تحقیق کا نتیجہ ہیں۔
(۴) منتشر مواد کو یکجا کرنا
بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں، جن کے متعلق ہمارے پاس معلومات کا ایک جنگل ہوتا ہے، لہٰذا محقق اس کی چھان پھٹک کرکے مرتب انداز میں پیش کر دیتا ہے۔
(۵) کسی ابہام کی توضیح
کبھی کبھی ہمارے پاس کسی مسئلے کے متعلق کوئی دستاویز موجود ہوتی ہے، لیکن اس سے استفادہ کرنا ہر ایک کے بس میں نہیں ہوتا۔ اس لیے محقق اسی دستاویز کی تنقیح، توضیح، تشریح اور تعلیق کا کام انجام دے کر اس سے استفادے کو ممکن بنا دیتا ہے۔ یہ بھی ایک اہم تحقیقی عمل ہوتا ہے۔
تحقیق کے مذکورہ بالا مقاصد زیادہ عام اور زیادہ رائج ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی مقاصد ہیں جنھیںاہل علم نے بیان کیا ہے۔
تحقیق کے مناہج
موجودہ زمانے میں تحقیق کے بہت سے طریقے رائج ہیں۔ ان میں سے کون سا طریقہ اختیار کرنا چاہیے، یہ چیز تحقیق کے موضوع پر منحصر ہوتی ہے۔ تحقیق کے موضوع کے لحاظ سے وہ طریقۂ تحقیق اختیار کیا جاتا ہے جو اس کے لیے زیادہ مناسب ہوتا ہے۔ اس طریقۂ کار کا استعمال تحقیق کے عمل کو زیادہ مفید اور زیادہ سائنٹفک بنا دیتا ہے۔ موجودہ دور میں تحقیق کے یہ طریقے رائج ہیں:
(۱) بنیادی تحقیق (Basic Research)
یہ ایسی تحقیق ہوتی ہے جو کسی چیز کے بارے میں صرف معلومات حاصل کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ یعنی اس کا مقصد عملی ہوتا ہے، عمل نہیں۔ اس تحقیق میں کسی موضوع کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات جمع کی جاتی ہے اور ان معلومات کو اچھے انداز میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ اس میں عملی پہلو موجود نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر نیوٹن نے درخت سے سیب گرتے دیکھا اور اس کے بعد اپنی تحقیق کو آگے بڑھایا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ زمین کے اندر قوت ثقل موجود ہے۔ موجودہ دور کے مشہور سائنس داں اسٹیفن ہاکنگ نے معلومات جمع کرکے بتایا کہ کائنات میں بلیک ہول موجود ہیں۔ یہ تحقیقات بنیادی تحقیق کے خانے میں آتی ہیں۔ ان میں معلومات اور اس کا نتیجہ پیش کیا گیا ہے۔ عمل سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ لیکن اس بات کا پورا امکان ہے کہ بنیادی تحقیق کسی نہ کسی زمانے میں عملی زندگی پر اثرانداز ہوتی ہے۔
(۲) اطلاقی تحقیق (Applied Research)
اس تحقیق کو کسی نظریے کی جانچ پرکھ کے لیے انجام دیا جاتا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اطلاقی تحقیق بنیادی تحقیق کے بعد کا مرحلہ ہے۔ کسی صاحب علم کے ذریعہ پیش کی گئی تحقیق کس حد تک درست ہے یا اس میں مزید کن گوشوں کی گنجائش ہے؟ یہ تمام باتیں اطلاقی تحقیق کے ذریعہ معلوم ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر اوپر پیش کی گئی ایک مثال بلیک ہول کے وجود کا نظریہ زیادہ قدیم نہیں ہے۔ لیکن یہ نظریہ کتنا درست ہے ؟اس کا فیصلہ ہاکنگ کے بعد آنے والے محققین کریں گے۔ یہ تحقیق اطلاقی تحقیق کہلاتی ہے۔
(۳) تاریخی تحقیق (Historical Research)
اس تحقیق کا اطلاق ماضی سے وابستہ چیزوں کے لیے ہوتا ہے۔ ماضی کے واقعات، اشیا، مقامات اور حقائق کی دریافت اور چھان پھٹک اس تحقیق کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ مخطوطات، کھنڈرات اور سکوں وغیرہ پر کی جانے والی تحقیق اسی ذیل میں آتی ہے۔ ماہرین نے تاریخی تحقیق کے لیے متعلقہ چیز کے وجود کا زمانہ، مقام اور علاقہ، اسے بنانے والے، اس میں استعمال ہونے والے مادے، اس پر گزرنے والے حالات اور موجودہ زمانے میں اس کی اہمیت کو تاریخی تحقیق کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے ذریعہ صحیفہ ہمام ابن منبہ کی دریافت اسی زمرے میں آتی ہے۔ اسلامی علوم کا دامن اس تحقیق کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔
(۴) بیانیہ تحقیق (Descriptive Research)
یہ ایک توضیحی یا تشریحی تحقیق ہوتی ہے۔ اس تحقیق میں اپنے زمانے کے مسائل، نظریات اور اشیا کو زیربحث لایا جاتا ہے۔ اس تحقیق کا مستقبل سے بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ معاشرے میں فلاں مسئلہ کیوں ہے؟ اس سے کتنے لوگ متأثر ہورہے ہیں؟ اس کے کیا نقصانات ہیں؟ ان نقصانات کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے؟ یہ تمام موضوعات، بیانیہ تحقیق کے دائرے میں آتے ہیں۔ اس تحقیق میں مستقبل کے لیے تجاویز بھی پیش کی جاتی ہیں، جو محقق کے تجربات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر سچر کمیٹی رپورٹ کو پیش کیا جاسکتا ہے۔
(۵) تجرباتی تحقیق (Experimental Research)
یہ تحقیق خاص طور پر سائنس اور ٹکنالوجی سے جڑی ہوئی ہے۔ اس میں ایک محقق کوئی نظریہ قائم کرکے تحقیق شروع کرتا ہے کہ اگر فلاں چیز کو ایسا کر دیا جائے توکیا ہوگا، فلاں چیز میں ایسی تبدیلی کر دی جائے تو کیا نتیجہ برآمد ہوگا۔ یہ تحقیق بالعموم کارگاہ (Lebaurtry) میں انجام دی جاتی ہے۔ اس کا تعلق خاص طور پر انسانی مفادات کے لیے استعمال ہونے والی عام یا محدود چیزوں کے لیے ہوتا ہے۔
تحقیق کے متعلق اس مختصر اصولی تحریر کا اختتام جمیل جالبی کے جملوں پر کیا جا تا ہے۔ پروفیسر جمیل جالبی نے نیشنل بک کونسل آف پاکستان، لاہور کے ایک سمینار میں پیش کیے گئےاپنے لیکچر کا اختتام ان سات رہ نما ہدایات پر کیا تھا:
(۱) تنقید کی بنیاد تحقیق پر رکھنی چاہیے اور تحقیق کے دوران میں اپنی ذات اور تعصبات کو الگ کر کے معروصی انداز سے اصل حقیقت کو تلاش کرنا چاہیے۔
(۲) کسی موضوع پر لکھنے سے پہلے اس موضوع پر جو کچھ لکھا جا چکا ہے اس کا براہِ راست مطالعہ کرنا چاہیے اور پھر غور و فکر کے بعد جو کچھ آپ کو لکھنا ہے اس کی تیاری کرنی چاہیے۔
(۳) تنقید میں بے اعتبار مفروضات، چلتے ہوئے نتائج اور بے بنیاد کلیہ سازی سے گریز کرنا چاہیے۔
(۴) لکھنے سے پہلے آپ کا ذہن صاف ہونا چاہیے اور معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کو کیا لکھنا ہے، کیوں لکھنا ہے اور کیسے لکھنا ہے؟
(۵) اپنے موضوع کے ساتھ آپ کو شب و روز بسر کرنے چاہییں۔ محنت سے جی نہیں چرانا چاہیے۔ تا کہ آپ جو کچھ لکھیں وہ ایسا ہو کہ کہا جاسکے کہ اس موضوع کا نہ صرف آپ نے حق ادا کیا ہے بلکہ اس سے بہتر اب تک نہیں لکھا گیا۔
(۶) لکھتے وقت کم سے کم لفظوں میں اپنی بات کہنی چاہیے اور اس طور پر کہ وہ دوسروں تک بغیر کسی اشکال کے پہنچ جائے۔ تنقید کے لیے واضح سبق ضروری ہے۔
(۷) آپ کی تحریر میں زاویہ نظر کا ہونا ضروری ہے اور زاویہ نظر اس سوال سےپیدا ہوتا ہے کہ آپ آخر کیوں لکھنا چاہتے ہیں؟
اس میں اور بھی کئی باتوں کا اضافہ کیا جا سکتا ہے لیکن سر دست اتنا کافی ہے۔

