الأدب المفرد کی اردو میں شرح وتر جمانی:ایک اجمالی خاکہ
اخلاقیات اور اسلامی آداب کے موضوع پر حضرات محدثین کے علمی سرمایہ کا جائزہ لیا جائے تو سر فہرست امیر المومنین فی الحدیث محمد بن اسماعیل البخاری (ت۲۵۶ھ) کی تصنیف لطیف ’’الأدب المفرد‘‘ پرنظر پڑتی ہے۔
اس موضوع پر سب سے پہلے امام مالک (ت ۱۷۹ھ) نے ایک رسالہ سپرد قلم کیا، جو رسالۃ مالک إلی ہارون الرشید کے نام سے موسوم ہے، یہ خلیفہ ہارون رشید کے نام خط کے طور پر۲۲ صفحہ کا ایک رسالہ ہے جس میں امام موصوف نے خلیفہ کو ہر قسم کے دینی و دنیوی اخلاقی نصائح کیے ہیں۔ ابن ندیم نے الفہرست میں اس کا ذکر کیا ہے، یہ رسالہ چھپ گیا ہے۔ (۱)
مولانا قاضی اطہر مبارکپوری نے ’’مسلمان‘‘ کے نام سے اس رسالہ کی تلخیص و ترجمہ کیا ہے، اور دو بار قاضی صاحب کی زندگی میں چھپ چکا ہے۔ (۲)
امام مالک اور امام بخاری علیہما الرحمہ کے بعد دیگر محدثین نے اسلامی اخلاق و آداب کی طرف توجہ کی، جن میں: ابن ابی الدنیا(ت ۲۸۱ھ) حافظ ابوبکر محمد بن جعفر الخرائطی (ت۳۲۷ھ) امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد الطبرالی (۳۶۰ھ) ابن حبان البستی (ت۲۸۱) ابوزکریا یحيٰ بن شرف النووی (ت ۲۷۶ھ) خاص طور پر قابل ذکر ہیں، آخر الذکر کی ’’ریاض الصالحین‘‘ کو ہر دور میں اہمیت دی گئی، لیکن امام بخاری کی ’’الأدب المفرد‘‘ کی طرف اہل علم بہت دیر میں متوجہ ہوئے، گو یہ کتاب اپنی فنی خصوصیت کے اعتبار سے خاص اہمیت رکھتی ہے، امام موصوف نے انداز تصنیف منفرد اور جداگانہ اختیار کیا ہے، کثرت ابواب، صحتِ اسناد ہر پہلو سے امتیازی شان بلکہ مستقل دستور حیات کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس کتاب میں امام صاحب نے ان احادیث رسول، آثار صحابہ اور اقوال و احوال تابعین کو چھوٹے چھوٹے ابواب کے تحت جمع کیا ہے، جو ایک مسلمان فرد کی دینی و اسلامی زندگی کے لیے معیار ہیں، یہ کتاب اسلامی اخلاقیات کے لیے جامع قوانین ہے۔(۳)
اس کتاب کی اہمیت کا انداز ہ حافظ ابن حجر عسقلانی (ت۸۵۲ھ) کے اس بیان سے ہوتا ہے:
اس کتاب کی تقریباً نصف احادیث صحیح بخاری کے مرتبہ کی ہیں، اور نصف احادیث سے کم صحیح مسلم کے مرتبہ کی ہیں، اور باقی حدیثیں صحت میں سنن سے زیادہ مرتبہ کی ہیں، نیز اس میں امام بخاری نے ان بہت سی احادیث کو موصول بیان کردیا ہے جن کوصحیح بخاری میں تعلیقاً درج کیا ہے، اس میں وہ احادیث بھی ہیں جن کے کسی راوی یا کسی لفظ کے بارے میں محدثین کوذ ہول ہو گیا تھا۔
امام بخاری نے ان کو اس کتاب میں نہایت واضح طور پر بیان کیا ہے، اور اس کی سب سے نمایاں اہمیت و خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بہت سے ایسے آثار واخبار ہیں جو احادیث کی دوسری کتابوں میں نہیں ملتے، ان تمام خصوصیات کی وجہ سے ’’الادب المفر‘‘ اسلامی اخلاق و آداب کے ساتھ احادیث وآثارکا مستند ترین مجموعہ ہے۔ (۴)
حافظ ابن حجر نے’ ’الادب المفر‘‘ کا مختصر تعارف ان لفظوں میں کرایا ہے:
الأدب المفرد یشتمل علی أحادیث زائدۃ علی ما فی الصحیح، وفیہ قلیل من الآثار الموقوفۃ، وہو کثیر الفائدۃ۔(۵)
اور مؤلف علیہ الرحمہ سے اس کے راوی کے متعلق حافظ ابن حجر کا بیان ہے: ’’و من تصانیفہ ایضاً الأدب المفرد یرویہ عنہ أحمد بن محمد بن الجلیل – بالجیم – البزّار۔(۶)
اس کتاب میں کل (۶۴۴) ابواب اور (۱۳۲۲) حدیثیں ہیں اور شیخ البانی کی تحقیق کے مطابق صحیح حدیث (۹۹۳) اور ضعیف حدیث (۲۱۷) ہیں۔
اس کتاب کا ایک قلمی نسخہ کتب خانہ ظاہر یہ دمشق، خدا بخش لائبریری پٹنہ، اور تین نسخے کتب خانہ سعیدیہ حیدرآباد میں ہیں۔
یہ کتاب ہندوستان میں سب سے پہلی بار۱۳۰۶ھ میں مطبع خلیلی شاہ آباد، آرہ۔ بہار، میں چھی، اور ڈاکٹر فوادسیزگین کی تحقیق کے مطابق اس کتاب کے استنبول (ترکی) میں چھپنے کا سن بھی ہیں ہے قسطنطنیہ میں یہ کتاب دو بار شائع ہوئی، پہلے ایڈیشن پر سن طباعت نہیں ہے، حاشیہ پر امام محمد حسن الشیبانی (ت۱۸۰ھ) کی’’الجامع الصغیر‘‘ درج ہے اور دوسری بار۱۳۰۹ھ میں اور حاشیہ مسند الإمام أبی حنیفۃ سے آراستہ ہے۔
پیر ۱۳۴۹ھ میں مطبع الشیخ عبد الواحد بن الحاج محمد التازی قاہرہ سے محمدعیاد الخمیسی کی تصحیح سے طبع ہوئی، ناچیز کے ذاتی ذخیرۂ کتب میں یہی نسخہ ہے، مذکورہ بالا ایڈیشن کے بعد مصر کے مشہور فہرست نگارمحمدفواد عبدالباقی کے حواشی کے ساتھ ان کاتر قیم کردہ نسخہ منظر عام پر آیا۔
ان تمام مطبوعہ نسخوں کو سامنے رکھ کر مولانا فضل اللہ بن احمد علی بن مولانا محمد علی مونگیری (ت ۱۹۷۹ء) سابق استاذ تفسیر وحدیث جامعہ عثمانیہ حیدرآباد نے ’’الادب المفرد‘‘ کی بہترین شرح فضل اللہ الصمد فی توضیح الأدب المفرد کے نام سے تیار کی، جو ۱۳۷۸ھ میں حجاز کے مشہور تاجر اور صاحب خیر یوسف زینل علی رضا کے زیراہتمام مصر کے مشہور فاضل محب الدین الخطیب کی نگرانی میں پہلی مرتبہ مطبع سلفیہ مصر میں طبع ہوئی، یہ شرح دو جلدوں پر مشتمل ہے، جلد اول کے صفحات (۶۴۸) اور جلد دوم کے (۷۳۶) ہیں اور یہ شرح مشاہیر اہل علم وقلم کی تقریظات سے مزین ہے اور اس شرح کا تعارف و جائزہ کئی اہل علم کے قلم سے شائع ہو چکا ہے، جن میں قاضی اطہر مبارکپوری(۷) مولانا ابومحفوظ الکریم معصومی (۸) اور حال ہی میں شعبہ دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے ایک ریسرچ اسکالر ایم ایس ثاقب قاسمی (۹) خاص طور پر قابل ذکر ہیں اور نیز’معارف‘ اپریل ۱۹۴۸ء میں اس پر ریویو (Review) شائع ہوا تھا۔
ذیل میں فاضل گرامی مولانا معصومی کے قلم سے فضل اللہ الصمد کامختصر لیکن جامع تعارف نظر نواز ہے:
کتاب شروع سے اخیر تک یکساں طور پر مبسوط تحقیقات سے آراستہ ہے، شارح نے تصحیح، تخر یج احادیث اور ایضاح مطالب کے ساتھ ہر حدیث کی سند اور متن پر حسب ضرورت محققانہ کلام کیا ہے، جس سے معانی و مطالب کا ہر پہلو جھلک اٹھا ہے، رجال وسنن اور دیگر علم وفن کی مستند مطبوعہ وغیر مطبوعہ نادر کتابوں کے حوالے بکثرت دیتے ہیں۔ (۱۰)
’’الأدب المفرد‘‘ کا ایک ایڈیشن ۱۴۱۰ھ میں بیروت سے محمد عبد القادر عطا کے تحشیہ وتخریج سے شائع ہوا ہے۔
پھر اخیر میں شیخ محمد ناصر الدین البانی (ت۱۹۹۹) نے ’’الادب المفرد‘‘ کی طرف توجہ کی، شیخ البانی کے کام کی نوعیت بالکل علاحدہ اور گراں قدر ہے، انھوں نے متن کی تحقیق کے ساتھ سند حدیث پر زور دیا ہے، ہر حدیث پر صحاح وسنن کی مشہور کتابوں کی طرح ’’الأدب المفرد‘‘ میں جمع شدہ احادیث پر بھی حکم لگایا ہے، حد یث کی فنی اصطلاح مرفوع و موقوف وغیرہ کی تعیین کی ہے، اور تخریج حدیث میں بڑی عرق ریزی کا ثبوت دیا ہے، اور تخریج حدیث میں عموماً اپنی تخریج کردہ کتب کا حوالہ دیاہے، اور اپنے پیش روخصوصاً مولانافضل اللہ گیلانی اور محمد فواد عبدالباقی کی تحقیقات تخریجات پر کافی استدراک و تعقیب کی ہے، کتاب کی شیخ البانی نے دوحصوں میں تقسیم کردی پہلا حصہ ’’صحیح الأدب المفرد‘‘ اور دوسرا حصہ گو مختصر ہے ’’ضعیف الأدب المفرد‘‘ پر مشتمل ہے، دارالصدیق سعودی عرب سے ۱۴۱۵ھ میں شائع ہوئی ہے۔
ان تمام مطبوعہ نسخوں کو جمع کر کے مولانامحمد الیاس بارہ بنکوی استاد مدرسہ کا شف العلوم مرکز نظام الدین بستی نئی دہلی نے ۱۴۲۳ھ میں (۹۱۸) صفحات پرمشتمل ایک جلد میں اپنا تیار کردہ نسخہ شائع کیا ہے، مولانابارہ بنکوی نے مولانا فضل اللہ گیلانی کی شرح حدیث اور شیخ البانی کی تخریج حدیث مع حکم حدیث کو اپنی تعلیقات میں سمولیا ہے، تا ہم حیرت کی بات یہ ہے کہ موصوف نے پوری کتاب میں شیخ البانی کی تخریج کردہ کتابوں کے حوالہ کے بجائے مطبع دار الصدیق کا ذکر کیا ہے علم وتحقیق کی دنیا میں یہ حجاب کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔
شیخ البانی نے ’’صحیح الأدب المفرد‘‘ کے مقدمہ (ص ۲۵) میں ایک جدید ایڈیشن کی نشاندہی کی ہے جو کمال یوسف الحوت کی ترتیب و تقدیم سے عالم الکتب بیروت سے ۱۴۰۵ھ میں شائع ہوا، البانی صاحب کے خیال میں اس ایڈیشن کو پہلے ایڈیشن (مطبع سلفیہ، قاہرہ) کا چربہ بلکہ سرقہ کہنا زیادہ صحیح ہے جسے انھوں نے متعدد مثالوں سے مبرہن کیا ہے۔
استاذ گرامی جناب مولانا واضح رشید ندوی کے ذریعہ ’’الادب المفر‘‘ کا ایک جدید ترین ایڈیشن دستیاب ہوا (جزاہ اللہ خیراًو بارک فیہ) جو دار القلم دمشق سے ۱۴۲ھ میں منظر عام پر آیا، اور یہ نسخہ صالح احمد الشامی کی ترتیب واعتنا کا رہین منت ہے، موصوف کے پیش نظر مولانافضل اللہ گیلانی اور شیخ البانی کا نسخہ خاص طور پر ہے اور ان دونوں خادمان حدیث شریف کا جا بجا حوالہ نظر آتا ہے، اس ایڈیشن میں مرتب نے پوری کتاب کو دس مقاصد میں تقسیم کر دیا ہے اور ہر مقصد کے تحت کئی کئی فصلیں درج ہیں، تا کہ مرتب کے پیش نظر نئی نسل کے لیے کتاب سے استفادہ کے آسان ہو جانے کا مقصد بر آ سکے، بنابریں اصل کتاب کی ترتیب بدل گئی ہے جس کی وجہ سے احادیث و ابواب میں تقدیم و تاخیر کا ہونا لازمی تھا، بلاشبہ مرتب کا یہ عمل اصل کتاب میں تصرف شمار ہوگا، حضرات محدثین کے نزدیک اس طرح کا تصرف ناپسندیدہ ہے۔
اب آئیے تھوڑا سا وقت ’’الأدب المفرد‘‘ کے اردو تر جموں کے ساتھ گزاریں:
’’الأدب المفرد‘‘ کا پہلا اردو ترجمہ والا جاہ نواب صدیق حسن خاں (ت۱۳۰۷ھ)نے’’ توفیق الباری لترجمۃ الأدب المفرد للبخاری‘‘ کے نام سے کیا، جو ۱۳۰۶ھ میں مطبع مفید عام آگرہ میں چھپا، اور یہ ترجمہ رمضان ۱۳۰۶ھ میں ۱۸؍ یوم میں مکمل ہوا، ’’مآثرصد یقی‘‘ کے مؤلف نواب علی حسن خاں (ت ۱۳۵۵ھ) نے بھی ’’توفیق الباری‘‘ کونواب صاحب کی فہرست مؤلفات میں شمار کیا ہے۔ (۱۱)
نواب صاحب کے ترجمہ میں صحت و ذ کر فوائد حدیث کا التزام کیا گیا ہے گوز بان قدیم ہے، اس مطبوعہ ترجمہ کا ایک نسخہ کتب خانہ علامہ شبلی نعمانی میں نواب علی حسن خاں کے ذخیرہ کتب (Collection) میں دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسرا ترجمہ بنام ’’سلیقہ‘‘ مولانا عبدالغفار مہدانوی(ت ۱۸۹۷ء) کا ہے، جو مطبع خلیلی آرہ۔ بہار سے ۱۳۰۹ھ میں شائع ہوا، اس ترجمہ کا نسخہ خدا بخش لائبریری پٹنہ میں ہے، موصوف کا شمار محدث کبیر میاں سید نذیرحسین مونگیری ثم دہلوی (ت۱۳۲۰ھ) کے تلامذہ میں ہے، مولوی عبدالما لک آروی اس ترجمہ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’سلیقہ‘‘ پر ایک نظر ڈالنے سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا (مہد انوی) نے ترجمہ میں متقدمین کا اسلوب بالکل ترک کر دیا ہے، ان کی عبارت سلیس اور بامحاورہ ہے، قدیم تراجم کی طرح بیان کیپے چیدگی اور انشاء کی ژولیدگی نہیں پائی جاتی… تر جمے کی کا م یابی اور کتاب کی افادی خصوصیات کا انداز ہ مندرجہ ذیل اقتباس سے کیا جا سکتا ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بغض مت رکھو، حسد مت کرو، اترامت جایا کرو، خدا کے بندو! سب کے سب بھائی بن جاؤ اور مسلمان کا مسلمان کو تین دن سے زیادہ چھوڑ دینا حلال نہیں۔ (۱۲)
مولانا مہدانوی کے اس ترجمہ کے متعلق مولانا سید عبدالحی حسنی (ت۱۳۴۱ھ) کو امام ترمذی کی زبان میں وہم ہو گیا ہے اس لیے کہ مولانا عبدالحي نے ’’سلیقہ‘‘ کو مولانا ابومحمد ابرا ہیم آروی (ت ۱۳۱۹) کے مؤلفات میں ذکر کیا ہے۔(۱۳) جب کہ یہ ترجمہ مولانا عبدالغفار مہدانوی کا ہے۔
ہمارے استاذ فاضل گرامی مولانا ابومحفوظ الکریم معصومی کو یہ مغالطہ ہوا کہ آپ نے ’’طریق النجاۃ‘‘ جو کہ مولانا ابراہیم آروی کی تصنیف ہے، اسے الأدب المفرد کا اردو ترجمہ شمار کیا ہے۔ (۱۴) مولانا کی اتنی بات صحیح ہے کہ ’طریق النجاۃ‘ مولانا ابراہیم آروی کی تصنیف ہے لیکن ’’طریق النجاۃ‘‘ کے متعلق موصوف کا یہ کہنا کہ ’’ الأدب المفرد‘‘ کا ترجمہ ہے درست نہیں، بلکہ یہ ’’مشکوۃ المصابیح‘‘ کی صحاح کا ترجمہ ہے، اگر مولانا کے پیش نظر ’’طریق النجاۃ‘‘ کا پورا نام یانسخہ ہوتا تو اس مغالطے میں کہیں پڑتے، کتاب کا پورا نام یہ ہے:’’طریق النجاۃ فی ترجمۃ الصحاح من المشکوۃ‘‘۔
مولانامحمد مستقیم سلفی نے بھی ’’الادب المفرد‘‘ کا ایک اردو ترجمہ مولانا ابومحمد ابراہیم آروی کی طرف منسوب کیا ہے (۱۵) جوتحقیق کی رو سے صحیح نہیں ہے۔
تیسرا ترجمہ بنام ’’کتاب زندگی‘‘ مولانا سید عبدالقدوس ہاشمی ندوی کا ہے جو نفیس اکیڈمی کراچی سے جنوری ۱۹۵۸ء میں شائع ہوا، شروع میں تدوین حدیث کا ایک مختصر خاکہ اور اصول حدیث کی ضروری اصطلاحات بھی شامل ترجمہ ہے، ترجمانی کی زبان سلیس ہے لیکن ترجمہ میں بکثرت غلطیاں اور کمزوری دکھائی دیتی ہے۔
’’الادب المفر‘‘ کا ایک اور اردو ترجمہ مع ضروری فوائد عربی متن کے ساتھ مولانا خلیل الرحمان نعمانی کے قلم سے ہے جو۶۰۰ صفحات پرمشتمل ہے۔ (۱۶)
اس موقع پربھی عرض کرتا چلوں کہ ’الادب المفر‘‘ کا ایک ترجمہ ملیالم زبان میں ایک ندوی فاضل ڈاکٹر بہاء الدین احمد نے کیا ہے، جو ۱۴۱۸ھ میں کیرالہ سے شائع ہوا، ترجمہ عربی متن سے آراستہ ہے۔
کچھ عرصہ قبل ندوۃ العلماء کے سابق استاذ جناب مولانا اقبال احمد اعظمی (حال مقیم برطانیہ) نے ’’الادب المفرد‘‘ کا ترجمہ بزبان انگریزی تیار کر دیا تھا منظر عام پر آنے کا علم نہیں۔
مولانا معصومی کا خیال ہے کہ امام سیوطی نے اسی کتاب کے منتخب مجموعہ کا نام ’’المنتقی من الأدب المفرد‘‘ رکھا تھا۔ (۱۷)
شاہ عبد العزیز (ت۱۲۳۴ھ) نے’ ’بستان المحدثین‘‘ میں کتب اخلاقیات کے تذکرہ میں’’الادب المفرد‘‘ کا نام سرفہرست لیا ہے۔
آپ کے ذہن میں یقینا یہ سوال اٹھ رہا ہوگا کہ ’’ادب‘‘ کا مفہوم ومعنی کیا ہے؟ حافظ ابن حجر نے ’’ادب‘‘ کی تعریف اس طرح کی ہے:
الأدب استعمال ما یحمد قولا وفعلا۔
وعبر بعضہم عنہ بأنہ الأخذ بمکارم الأخلاق۔
وقیل: الوقوف مع المستحسنات۔
وقیل: ھو تعظیم من فوقک والرفق بمن دونک.
وقیل: إنہ مأخوذ من المأدبۃ، وہی الدعوۃ إلی الطعام، سمی بذلک لأنہ یدعی إلیہ.(۱۸)
حافظ ابن حجر کی ادب کی ان تعریفات کو ڈاکٹر عبداللہ عباس صاحب ندوی کے الفاظ میں مزید اضافے کے ساتھ ملا حظ فرمائیں:
ادب نام ہے ہر پسندیدہ کاوش کا جو انسان کی ایک فضیلت ہے، اخلاق کی خوبیوں کو اپنالینا، اور دوسرے الفاظ میں پسندیدہ خصلتوں کو عادت بنالینا، یا یوں کہیے پسندیدہ بات ہو یا کام اس کی عادت ڈال لینا ادب ہے، اور اس کی یہ بھی تعریف کی گئی ہے کہ جو تم سے بڑا ہے اس کا اکرام اور جو چھوٹا ہے اس پر شفقت ادب ہے۔ علمائے لغت کہتے ہیں ادب وہ ملکہ ہے جو نا پسند یدہ حرکتوں سے روکتا ہے۔ ادب کی جمع آداب ہے، اور اس کا اطلاق علوم و معارف پر عموماً ہوتا ہے اس میں بھی جو اچھے ذوق کی علامت ہے، علمائے اخلاقیات ان آداب وفضائل کو ادب کہتے ہیں جو کسی شے یا شخص کے لائق ہو اسی طرح آداب درس، آداب قاضی وغیرہ کا استعمال ہوتا ہے۔(۱۹)
اب مولانا ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی کے ترجمہ ’’الادب المفرد‘‘ بنام ’’ارشادات نبوی کی روشنی میں نظام معاشرت‘‘ کا تعارف وجائزہ اور خصوصیات وامتیازات ملاحظہ فرمائیں:
ڈاکٹر صاحب کے ترجمہ کی تفصیلات ذکر کرنے سے پہلے یہ عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کو اللہ نے لسانیات کا بڑا ستھرا ذوق عطا فرمایا ہے، عربی، فارسی، اردو اور انگریزی چاروں زبانوں میں مہارت تامہ رکھتے ہیں اور ان زبانوں کی ادبیات اور نوک وپلک کی نزاکتوں سے خوب واقف ہیں اور ترجمانی پر بڑی قدرت رکھتے ہیں، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی ’’المرتضی‘‘، ’’روائع من ادب الدعوۃ‘‘ بنام ’’تبلیغ ودعوت کا معجزانہ اسلوب‘‘، ’’الی شاطی النجاۃ‘‘ بنام ’’خطرناک تکبر‘‘ کے ترجمے کے علاوہ ’’قصیدہ بانت سعاد‘‘ اور ’’قصدیہ بردہ‘‘ کا اردو ترجمہ ’’ردائے رحمت‘‘ کے نام سے پیش کرکے داد وتحسین حاصل کرچکے ہیں۔
اب آیئے ڈاکٹر صاحب کے زیر نظر ترجمہ’’ ارشادات نبوی کی روشنی میں نظام معاشرت‘‘ پر زیادہ تفصیل سے روشنی ڈالی جائے ملاحظ فرمائیں:
ا۔ ڈاکٹر صاحب نے ’’الأدب المفرد‘‘ کی ترجمانی میں سلاست، روانی اور برجستگی کے ساتھ آسان اور عام فہم زبان اختیار کی ہے۔
۲۔ لفظی تر جے کے بجائے متن حدیث کی روح کی ترجمانی مترجم کے پیش نظر ہے۔
۳۔ مشکل مقامات پر بین القوسین میں توضیحی نوٹ دیے ہیں۔
۴۔ جابجا حدیث سے مستنبط فوائد ذکر کیے ہیں۔
۵۔ بعض الفاظ حدیث کی اردو میں جدید تعبیر پیش کی ہے۔
۶۔ متن حدیث میں مستعمل بعض اصطلاحات اور دینی مفاہیم کی تشریح کی گئی ہے۔
۷۔ جن احادیث کا تعلق کسی خاص قصے یا واقعے سے ہے تو وہاں ڈاکٹر صاحب نے واقعہ نگاری اور تصویر کشی کا اسلوب اپنایا ہے۔
۸۔ بعض مقامات پرفنی بحثیں بھی کی ہیں۔
۹۔ ’’جوامع الکلم‘‘ پر مشتمل احادیث کی بڑی دلنشیں تر جمانی فرمائی ہے۔
۱۰۔ حدیث کی جن تعمیرات کا اردو میں ترجمہ کرنا دشوار معلوم ہوتا ہے ڈاکٹر صاحب نے ان مقامات کا حق ادا کر دیا ہے۔
۱۱۔ جنت وجہنم میں دخول کے وعدہ کو اول وہلہ یا گناہوں کی سزا اور عام معافی میں اس کوصغائر یا کبائر سے مقید کیا گیا ہے۔
۱۲۔ عناوین باب کو مؤثر اور جاذب نظر اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔
۱۳۔ کہیں کہیں بعض اعلام (شخصیات) کا مختصر تعارف بھی درج ہے۔
۱۴۔ متن حدیث کی تصحیح کا بھر پور اہتمام کیا گیا ہے اس کے لیے متعددنسخہ ہائے ’الأدب المفرد‘‘ کو سامنے رکھ کر ایک مصحح منقح نسخہ تیار کیا گیا ہے ورنہ تر جمے میں کہیں کہیں فرو گزاشت کا امکان باقی رہتا ہے۔
۵ا۔ عربی متن اور اردو عبارت میں اندازتحریر کا جدید اسلوب اپنایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ اور بھی دوسری اہم امتیازی خصوصیات ہیں جن کو طوالت کے خوف سے قلم انداز کیا جارہا ہے اب آپ کے سامنے ترجمہ کتاب سے ایک نمونہ پیش کیا جارہا ہے جس سے ترجمانی کی سلاست و روانی کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتاہے، حدیث نمبر ۴۶۱ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: تم میں سے کسی کا عمل اس کو نجات نہیں دلاسکتا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اور آپ کا عمل بھی نجات نہیں دلاسکتا؟ ارشاد فر مایا: اور نہ میں (اپنے عمل سے نجات پا سکتا ہوں) سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھک لے، لہٰذا میانہ روی اختیار کرو اور تو سط و اعتدال سے کام لو اور شام اور رات کے کچھ حصہ میں بندگی کرو، راہِ اعتدال کو ہمیشہ اپنا مطمح نظر بنا ؤ، منزل مقصود تک پہنچ جاؤ گے‘‘۔
(یہ حدیث مختلف الفاظ و پیرایہ بیان میں متعدد مقامات پر وارد ہوئی ہے، حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور ضرور کرو، مگر اس حد تک کہ دنیا کے دوسرے کام پس پشت نہ ڈال دیئے جائیں۔ بچوں کی پرورش، اہل خانہ کے لیے نان نفقہ کا جائز اور حلال طریقہ سے حصول، کھیتی باڑی، تجارت وصنعت وغیرہ چھوڑ کر صرف نماز روزہ میں لگ جانا شریعت کی تعلیمات کے خلاف ہے، سورۂ منزل میں انتہائی معجز بیانی کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ رات کو عبادت کے لیے اٹھو تو خیال رہے کہ تم کو دن میں بھی کام کرنا ہے اس لیے زیادہ سے زیادہ نصف شب آرام کے لیے اور نصف یا اس سے کم عبادت کے لیے خاص کرلو، اور اگر کسی کا یہ خیال ہو کہ جسمانی عبادت زیادہ کرنے سے یا اپنے اوپر مشقت زیادہ ڈال دینے سے وہ نجات پا جائے گا، یہ غلط ہے، خودسرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم جن کے پچھلے اور آئندہ کی تمام بشری لغزشوں کو پہلے ہی معاف کر دیا گیا تھا اگر مز یدخلوت گزینی اختیار کرتے تو یہ عبادتیں ان کو نجات نہ دلاسکتی تھیں کیونکہ نجات تو صرف اللہ کا عطیہ ہے، لہٰذا ’’قاربوا وسد دوا، القصد القصد‘‘ میانہ روی اختیار کرو، زیادہ تیز نہ بھاگو، مقصد کو ہمیشہ اپنا ہدف بنائے رکھو، دوسری حدیثوں میں اس مضمون کو یوں بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر تم چاہو کہ عبادت سے لڑو یعنی اتنی عبادت کرو کہ پھر کوئی گوشہ باقی نہ رہ جائے تو تم بھی جیت نہیں سکتے بلکہ دین کے مطالبات تم کو پچھاڑ دیں گے، ایک جگہ فرمایا گیا کہ گھوڑے کو اتنا تیز نہ بھگاؤ کہ اس کی ٹانگ ٹوٹ جائے اور تم مسافت کا کوئی حصہ طے نہ کر سکو، خلاصہ یہ ہے کہ اعتدال و توسط کی ضرورت عبادت میں بھی ہے۔ ع ع ن)
ڈاکٹر صاحب کی شرح وتر جمانی کی پہلی جلد جو (۲۷۱) ابواب (۶۰۳) احادیث اور (۴۲۴) صفحات پر مشتمل ہے،۱۰؍ ستمبر ۲۰۰۴ء بعد نماز مغرب کتب خانہ علامہ شبلی نعمانی (ندوۃ العلماء لکھنؤ) کے ز یر یں ہال میں اہل علم و دانش کی پروقارمجلس میں رسم اجرا کی تقریب سعید کے موقع پر منظر عام پرآئی۔
الحمدللہ کہ یہ با رونق تقریب بدست مبارک حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی انجام پائی، جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے گرامی قدر جناب مولانا شاہ شبیر عطا ندوی اور خانوادہ خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ کے نمائندہ مولانا شاہ ہلال احمد قادری نے شرکت کی۔
مجلس تحقیقات ونشریات اسلام (ندوۃ العلماء) نے پاریکھ آفسیٹ پر میں لکھنؤ سے اس کتاب کو شائع کیا، دوسری جلد زیر طباعت ہے ان شاء اللہ العزیز جلد شائع ہونے کی امید کی جاتی ہے( یسر اللہ طبعہ)۔
فاضل مترجم نے انتساب کتاب اپنے استاد حدیث کبیر علامہ شاہ سلیم عطاء سلونوی (ت ۱۳۷۵ھ) کے نام کیا ہے۔ کتاب کے شروع کے صفحات حسب ذیل مندرجات پر مشتمل ہیں:
- عرض ناشر: پیش کردہ صدر مجلس تحقیقات ونشریات اسلام لکھنؤ
- ابتدائیہ:
- امام بخاری اور ان کا علمی سفر نامہ (سوانحی خاکہ جو کہ در اصل محب الد ین الخطیب کے مضمون کاترجمہ ہے) از فاضل مترجم
- مقدمہ کتاب: بقلم فاضل جمیل حضرت مولانا محمد سالم قاسمی
کتاب کے آخر میں فہرست ابواب جلد اول ص:۴۱۲-۴۲۴،۱۳؍ صفحات میں ہے۔
اس کتاب کی راقم نے جو خدمت کی ہے اس کا اعتراف فاضل مترجم نے اپنے ’’ابتدائیہ‘‘ میں ان الفاظ میں کیا ہے۔
…ابوسحبان روح القدس ندوی نے ترجمے کو عربی نص سے ملا کر دیکھنے اور عربی متن میں جو غلطیاں دوسری طباعتوں میں رہ گئی تھیں ان سے اس کومحفوظ رکھنے کی سعی بلیغ میں بڑی جانفشانی اور محنت سے کام کیا، تا کہ یہ کتاب متن اور ترجمہ دونوں لحاظ سے قابل اعتماد ہو، اس سلسلے میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے دونو جوان فاضل محمد فرمان نیپالی اور محمد سلمان نسیم سلمہما نے عزیز موصوف کا بھر پور تعاون کیا، خاکسار مترجم ان تمام حضرات کا دل سے شکر گزار اور ان کے حق میں دعا گو ہے۔
حوالہ جات
(۱) حیات مالک از علامہ سید سلیمان ندوی (مجلس نشریات اسلام، کراچی) ص ۱۸ نیز دیکھیں تذکرۃ محدثین ۱؍۴۲۔
(۲) قاضی اطہر مبارکپوری: مآثر و معارف ص: ۲۲۲۔
(۳) ایضاً ص ۲۲۳۔
(۴) بحوالہ مصدر سابق ص۲۲۳، ۲۲۴۔
(۵) فتح الباری۱۰؍۴۰۰۔
(۶) ہدی الساری مقدمہ فتح الباری ص۴۹۲۔
(۷) مآثر و معارف ص۲۲۲۔ ۲۲۶، دہلی ۱۹۷۱ء
(۸) برہان دہلی اگست ۱۹۵۰ء ص ۴۱-۵۶۔
(۹) ترجمان دارالعلوم نئی دہلی جون ۲۰۰۴ء ص۴۲-۴۷۔
(۱۰) بر ہان اگست ۱۹۵۰ء ص۴۳۔
(۱۱) مآثر صدیقی مطبع نول کشور، لکھنؤ ۱۳۴۳ھ حصہ چہارم (فہرست کتب مؤلفہ والا جاہ ص۶) نیز ملا حظ فرمائیں:
ابو یحيٰ امام خاں نوشہروی (ت۱۹۶۶ء) تراجم علمائے حدیث ہند ص ۲۹۹ دہلی جید برقی پریس ۱۳۵۶ھ۔
(۱۲) جامعہ جلد اول اکتوبر ۱۹۳۴ء ص ۳۲۳-۳۲۴۔
(۱۳) الاعلام بمن فی الہند من الاعلام ۸؍۱۲۔
(۱۴) برہان فروری ۱۹۵۱ء ۱۰۶(حاشیہ پر)
(۱۵) جماعت اہل حدیث کی تصنیفی خدمات ص ۵۷ بنارس ۱۴۲۲۔
(۱۶) علمائے مظاہر علوم سہارنپور اور ان کی تصنیفی خدمات ۲؍۸۴ دیوبند ۱۴۰۳ھ از محمد شاہد سہارنپوری۔
(۱۷) برہان اگست ۱۹۵۰ء ص ۴۲ نیز دیکھیں کشف الظنون ۱؍۴۹۔
(۱۸) فتح الباری ۱۰؍۴۰۰۔
(۱۹) ارشادات نبوی کی روشنی میں نظام معاشرت۱؍۸۷۔

